گلگت کی سیاسی جماعت کا سربراہ ’راء‘ کا ایجنٹ نکلا

فوجی

Councller (250+ posts)
Raw-750x369.jpg

اسلام آباد: انٹیلی جنس اداروں نے بڑی کامیابی حاصل کرلی، پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی سازشوں میں مصروف را کا نیٹ ورک پکڑا گیا.

تفصیلات کے مطابق را کی گلگت میں انتشار پھیلانے کی طویل منصوبہ بندی ناکام بنا دی گئی، بےنقاب کیے گئے را نیٹ ورک کی سنسنی خیز تفصیلات سامنے آگئیں، را نے گلگت میں بلورستان نیشنل فرنٹ حمید گروپ کی سرپرستی کی. ت

فتیش میں انکشاف ہوا کہ بلورستان نیشنل فرنٹ حمید گروپ گلگت بلتستان کی ذیلی قوم پرست تنظیم ہے، را نیٹ ورک کا مشن گلگت بلتستان کے نوجوانوں کو ورغلانہ تھا، جی بی کی یونیورسٹیوں میں پاکستان دشمن پروپیگنڈا کیا جا رہا تھا، عبدالحمیدخان کے پاس عالمی سطح پر پاکستان کو بدنام کرنے کا ٹاسک تھا.

انکشاف ہوا ہے کہ عبدالحمید خان کا ہدف گلگت بلتستان میں دہشت گردی کرنا بھی تھا، را کے اشارے پر عبد الحمید خان نےعالمی مالیاتی اداروں کو خطوط بھیجے، 6 مجوزہ ڈیموں کے لئے مالی و تکنیکی مدد فراہم کرنے سے روکنے کی کوششیں کیں، سربراہ بی این ایف عبدالحمید خان آف غذر 1999 میں نیپال گیا تھا.

تفتیش میں انکشاف ہوا کہ عبد الحمید خان کو را نیپال لے کرگئی، جہاں سے وہ بھارت چلا گیا، عبد الحمید کو دلی میں 3 اسٹار اپارٹمنٹ دیا گیا،3 بیٹے، فیملی بھی منتقل ہوئی، عبدالحمید خان کے بچوں کو مختلف اسکولوں، کالجز میں مہنگی تعلیم دلوائی گئی، را 1999 سے 2007 تک عبد الحمید کو فنڈنگ کرتا رہا، 2015 سے 2018 تک را نے عبد الحمید کو بھاری فنڈنگ کی، را کی جانب سےعبدالحمید کو بھارتی شناختی دستاویز، کاروباری سہولت دی گئی.

مزید پڑھیں: بلوچستان اہم صوبہ ہے اس لیے دشمن نشانہ بنا رہے ہیں: وزیر داخلہ بلوچستان

اطلاعات کے مطابق عبدالحمید کے بیٹوں کی تعلیم کوبھارت اور یورپ میں بھی اسپانسر کیا گیا، پاکستان دشمن پروپیگنڈے کے لئے 2007 کے بعدعبدالحمید کو برسلز بھیجا گیا، را نے بی این ایف کو جی بی میں سرگرمیوں کے لئے ایک ارب روپے فنڈنگ کی، بلورستان نے علیحدگی پسند سوچ کے لئے ٹائمز میگزین کا استعمال کیا گیا، انٹیلیجنس نے “آپریشن پرسویٹ” میں بی این ایف کامقامی نیٹ ورک بےنقاب کیا، انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن سے بلورستان نیشنل فرنٹ کا مقامی نیٹ ورک پکڑا گیا، انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن میں بڑی تعداد میں اسلحہ اور ایمونیشن برآمد کیا گیا، آپریشن کے دوران بی این ایف کے 14 متحرک کارکن حراست میں لیے گئے، را عبدالحمید خان کے ذریعے مختلف شہروں میں بھی طلباکو اسپانسرکر رہی تھی، اسٹوڈنٹ ونگ بی این ایس آرگنائزیشن چیئرمین کی سرپرستی میں ملوث تھا.

شیرنادر شاہی پنڈی، غذر میں مرکزی کردار تھا، عبد الحمید را سے ہدایات لیتا تھا، چیئرمین بلورستان نیشنل اسٹوڈنٹ آرگنائزیشن بلورستان ٹائمزشائع کرتا تھا، 2016 میں عبدالحمید، را کی مدد سے یو اے ای گیا، جہاں سے نیپال منتقل ہوا، انٹیلی جنس اداروں کی کوشش سےعبد الحمید نے 8 فروری 2019 کو غیر مشروط سرنڈر کیا، 29 مارچ کو شیرنادرشاہی نے بھی سرنڈر کر دیا، شیرنادر شاہی کو یو اے ای سے را کی لیڈی ایجنٹ نےشکارکیا پھرنیپال لے جایا گیا، شیر نادر کو نیپال سے بھارت لے جانے سے پہلے کامیابی سے پاکستان واپس لایا گیا.

 
Last edited by a moderator:

GreenMaple

Prime Minister (20k+ posts)
You can see now a days patwaris in this category as well.
Yes, a very valid point. Our political point of views aside, why can't we all think of Pakistan first. Our so called leaders failed to promote and instill nationalism among our population.
 

disgusted

Chief Minister (5k+ posts)
'Jag Pujabi jag teri bund ko lag gai aag' and Sindh card are always more important than Pakistan. A nation of serfs are always ready to serve anybody for money.
 

Oldwish

Senator (1k+ posts)
Raw-750x369.jpg

اسلام آباد: انٹیلی جنس اداروں نے بڑی کامیابی حاصل کرلی، پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی سازشوں میں مصروف را کا نیٹ ورک پکڑا گیا.

تفصیلات کے مطابق را کی گلگت میں انتشار پھیلانے کی طویل منصوبہ بندی ناکام بنا دی گئی، بےنقاب کیے گئے را نیٹ ورک کی سنسنی خیز تفصیلات سامنے آگئیں، را نے گلگت میں بلورستان نیشنل فرنٹ حمید گروپ کی سرپرستی کی. ت

فتیش میں انکشاف ہوا کہ بلورستان نیشنل فرنٹ حمید گروپ گلگت بلتستان کی ذیلی قوم پرست تنظیم ہے، را نیٹ ورک کا مشن گلگت بلتستان کے نوجوانوں کو ورغلانہ تھا، جی بی کی یونیورسٹیوں میں پاکستان دشمن پروپیگنڈا کیا جا رہا تھا، عبدالحمیدخان کے پاس عالمی سطح پر پاکستان کو بدنام کرنے کا ٹاسک تھا.

انکشاف ہوا ہے کہ عبدالحمید خان کا ہدف گلگت بلتستان میں دہشت گردی کرنا بھی تھا، را کے اشارے پر عبد الحمید خان نےعالمی مالیاتی اداروں کو خطوط بھیجے، 6 مجوزہ ڈیموں کے لئے مالی و تکنیکی مدد فراہم کرنے سے روکنے کی کوششیں کیں، سربراہ بی این ایف عبدالحمید خان آف غذر 1999 میں نیپال گیا تھا.

تفتیش میں انکشاف ہوا کہ عبد الحمید خان کو را نیپال لے کرگئی، جہاں سے وہ بھارت چلا گیا، عبد الحمید کو دلی میں 3 اسٹار اپارٹمنٹ دیا گیا،3 بیٹے، فیملی بھی منتقل ہوئی، عبدالحمید خان کے بچوں کو مختلف اسکولوں، کالجز میں مہنگی تعلیم دلوائی گئی، را 1999 سے 2007 تک عبد الحمید کو فنڈنگ کرتا رہا، 2015 سے 2018 تک را نے عبد الحمید کو بھاری فنڈنگ کی، را کی جانب سےعبدالحمید کو بھارتی شناختی دستاویز، کاروباری سہولت دی گئی.

مزید پڑھیں: بلوچستان اہم صوبہ ہے اس لیے دشمن نشانہ بنا رہے ہیں: وزیر داخلہ بلوچستان

اطلاعات کے مطابق عبدالحمید کے بیٹوں کی تعلیم کوبھارت اور یورپ میں بھی اسپانسر کیا گیا، پاکستان دشمن پروپیگنڈے کے لئے 2007 کے بعدعبدالحمید کو برسلز بھیجا گیا، را نے بی این ایف کو جی بی میں سرگرمیوں کے لئے ایک ارب روپے فنڈنگ کی، بلورستان نے علیحدگی پسند سوچ کے لئے ٹائمز میگزین کا استعمال کیا گیا، انٹیلیجنس نے “آپریشن پرسویٹ” میں بی این ایف کامقامی نیٹ ورک بےنقاب کیا، انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن سے بلورستان نیشنل فرنٹ کا مقامی نیٹ ورک پکڑا گیا، انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن میں بڑی تعداد میں اسلحہ اور ایمونیشن برآمد کیا گیا، آپریشن کے دوران بی این ایف کے 14 متحرک کارکن حراست میں لیے گئے، را عبدالحمید خان کے ذریعے مختلف شہروں میں بھی طلباکو اسپانسرکر رہی تھی، اسٹوڈنٹ ونگ بی این ایس آرگنائزیشن چیئرمین کی سرپرستی میں ملوث تھا.

شیرنادر شاہی پنڈی، غذر میں مرکزی کردار تھا، عبد الحمید را سے ہدایات لیتا تھا، چیئرمین بلورستان نیشنل اسٹوڈنٹ آرگنائزیشن بلورستان ٹائمزشائع کرتا تھا، 2016 میں عبدالحمید، را کی مدد سے یو اے ای گیا، جہاں سے نیپال منتقل ہوا، انٹیلی جنس اداروں کی کوشش سےعبد الحمید نے 8 فروری 2019 کو غیر مشروط سرنڈر کیا، 29 مارچ کو شیرنادرشاہی نے بھی سرنڈر کر دیا، شیرنادر شاہی کو یو اے ای سے را کی لیڈی ایجنٹ نےشکارکیا پھرنیپال لے جایا گیا، شیر نادر کو نیپال سے بھارت لے جانے سے پہلے کامیابی سے پاکستان واپس لایا گیا.

This is the inevitable result of unjust societies.
 

Oldwish

Senator (1k+ posts)
Yes, a very valid point. Our political point of views aside, why can't we all think of Pakistan first. Our so called leaders failed to promote and instill nationalism among our population.
Slogan of Pakistan first goes against the very foundation of Pakistan. Unfortunately your dream will never be fulfilled.
Pakistan's destiny is way higher than the role you want to give it.
 

asadqudsi

Senator (1k+ posts)
If he is from GB, then he is not a Pakistani by constitutional definition, hence he can't be classified as a traitor. Give GB constitutional cover otherwise people will be open to be manipulated.
 

muhammadadeel

Chief Minister (5k+ posts)
یاد رہے گلگت میں بم دھماکا بھی شاید اسی نے کروایا تھا
جب ڈیم بننے کی بات ہوئی تھی
 

GreenMaple

Prime Minister (20k+ posts)
Slogan of Pakistan first goes against the very foundation of Pakistan. Unfortunately your dream will never be fulfilled.
Pakistan's destiny is way higher than the role you want to give it.
We have to think as one nation to reach the destiny. Fortunately most Pakistani are patriots, but some among us are sold outs who would sell even their mother for the money.
 

Aslan

Chief Minister (5k+ posts)
Pakistan should raise the issue of Indian terrorism at international fora.The terrorist attacks inside Pakistan are carried out with the support of RAW.The terror camps are in Afghanistan.RAW is also active politically .PTM is funded by RAW and NDS.Pakistan needs to use modern technology to foil plots by RAW.
 

84471k

MPA (400+ posts)
Raw-750x369.jpg

اسلام آباد: انٹیلی جنس اداروں نے بڑی کامیابی حاصل کرلی، پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی سازشوں میں مصروف را کا نیٹ ورک پکڑا گیا.

تفصیلات کے مطابق را کی گلگت میں انتشار پھیلانے کی طویل منصوبہ بندی ناکام بنا دی گئی، بےنقاب کیے گئے را نیٹ ورک کی سنسنی خیز تفصیلات سامنے آگئیں، را نے گلگت میں بلورستان نیشنل فرنٹ حمید گروپ کی سرپرستی کی. ت

فتیش میں انکشاف ہوا کہ بلورستان نیشنل فرنٹ حمید گروپ گلگت بلتستان کی ذیلی قوم پرست تنظیم ہے، را نیٹ ورک کا مشن گلگت بلتستان کے نوجوانوں کو ورغلانہ تھا، جی بی کی یونیورسٹیوں میں پاکستان دشمن پروپیگنڈا کیا جا رہا تھا، عبدالحمیدخان کے پاس عالمی سطح پر پاکستان کو بدنام کرنے کا ٹاسک تھا.

انکشاف ہوا ہے کہ عبدالحمید خان کا ہدف گلگت بلتستان میں دہشت گردی کرنا بھی تھا، را کے اشارے پر عبد الحمید خان نےعالمی مالیاتی اداروں کو خطوط بھیجے، 6 مجوزہ ڈیموں کے لئے مالی و تکنیکی مدد فراہم کرنے سے روکنے کی کوششیں کیں، سربراہ بی این ایف عبدالحمید خان آف غذر 1999 میں نیپال گیا تھا.

تفتیش میں انکشاف ہوا کہ عبد الحمید خان کو را نیپال لے کرگئی، جہاں سے وہ بھارت چلا گیا، عبد الحمید کو دلی میں 3 اسٹار اپارٹمنٹ دیا گیا،3 بیٹے، فیملی بھی منتقل ہوئی، عبدالحمید خان کے بچوں کو مختلف اسکولوں، کالجز میں مہنگی تعلیم دلوائی گئی، را 1999 سے 2007 تک عبد الحمید کو فنڈنگ کرتا رہا، 2015 سے 2018 تک را نے عبد الحمید کو بھاری فنڈنگ کی، را کی جانب سےعبدالحمید کو بھارتی شناختی دستاویز، کاروباری سہولت دی گئی.

مزید پڑھیں: بلوچستان اہم صوبہ ہے اس لیے دشمن نشانہ بنا رہے ہیں: وزیر داخلہ بلوچستان

اطلاعات کے مطابق عبدالحمید کے بیٹوں کی تعلیم کوبھارت اور یورپ میں بھی اسپانسر کیا گیا، پاکستان دشمن پروپیگنڈے کے لئے 2007 کے بعدعبدالحمید کو برسلز بھیجا گیا، را نے بی این ایف کو جی بی میں سرگرمیوں کے لئے ایک ارب روپے فنڈنگ کی، بلورستان نے علیحدگی پسند سوچ کے لئے ٹائمز میگزین کا استعمال کیا گیا، انٹیلیجنس نے “آپریشن پرسویٹ” میں بی این ایف کامقامی نیٹ ورک بےنقاب کیا، انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن سے بلورستان نیشنل فرنٹ کا مقامی نیٹ ورک پکڑا گیا، انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن میں بڑی تعداد میں اسلحہ اور ایمونیشن برآمد کیا گیا، آپریشن کے دوران بی این ایف کے 14 متحرک کارکن حراست میں لیے گئے، را عبدالحمید خان کے ذریعے مختلف شہروں میں بھی طلباکو اسپانسرکر رہی تھی، اسٹوڈنٹ ونگ بی این ایس آرگنائزیشن چیئرمین کی سرپرستی میں ملوث تھا.

شیرنادر شاہی پنڈی، غذر میں مرکزی کردار تھا، عبد الحمید را سے ہدایات لیتا تھا، چیئرمین بلورستان نیشنل اسٹوڈنٹ آرگنائزیشن بلورستان ٹائمزشائع کرتا تھا، 2016 میں عبدالحمید، را کی مدد سے یو اے ای گیا، جہاں سے نیپال منتقل ہوا، انٹیلی جنس اداروں کی کوشش سےعبد الحمید نے 8 فروری 2019 کو غیر مشروط سرنڈر کیا، 29 مارچ کو شیرنادرشاہی نے بھی سرنڈر کر دیا، شیرنادر شاہی کو یو اے ای سے را کی لیڈی ایجنٹ نےشکارکیا پھرنیپال لے جایا گیا، شیر نادر کو نیپال سے بھارت لے جانے سے پہلے کامیابی سے پاکستان واپس لایا گیا.

بالکل غلط، میں شیر نادر شاہی کو ذاتی طور پر جانتا ہوں اور اس کی جدوجہد سے بھی واقف ہوں، یہ جی بی کے عوام کو جدوجہد سے روکنے کیلئے ریاستی جبر کا ایک ہتھکنڈہ ہے
 

stoic

Minister (2k+ posts)
بالکل غلط، میں شیر نادر شاہی کو ذاتی طور پر جانتا ہوں اور اس کی جدوجہد سے بھی واقف ہوں، یہ جی بی کے عوام کو جدوجہد سے روکنے کیلئے ریاستی جبر کا ایک ہتھکنڈہ ہے
And who are you? why should people believe a random person vouching for this person's character online? Taking money and benefits from other country's spy agency and to become their pawn is not called struggle for rights its called selling out.