کیا چوہدری نثار کو کوئی خطرہ نہیں

Arslan

Moderator
چوہدری نثار علی خان اس وقت دنیا کی ساتویں جوہری طاقت کے وزیر داخلہ ہیں میرا ان سے لو اینڈ ہیٹ (محبت اور نفرت) کا تعلق ہے میں انھیں پسند کرتا ہوں مگر چوہدری صاحب مجھ سے نفرت کرتے ہیں اس نفرت کی وجہ بہت دلچسپ ہے چوہدری نثار علی خان اور ملک ریاض کے درمیان اختلافات تھے ملک میں جن دنوں ڈاکٹر ارسلان افتخار اور ملک ریاض کا تنازعہ چل رہا تھا چوہدری نثار ان دنوں میرے ٹی وی پروگرام میں تشریف لائے یہ لائیو شو تھا اس شو میں چوہدری صاحب نے دعویٰ کیا میرے پاس ملک ریاض کی کرپشن اور زمین پر قبضوں کی دو سو فائلیں ہیں چوہدری صاحب نے اس دعوے کے بعد اعلان کیا وہ اگلے ہفتے یہ دو سو فائلیں لے کر دوبارہ اس پروگرام میں آئیں گے اور یہ ثبوت قوم کے سامنے رکھیں گے بات طے ہو گئی لیکن شاید چوہدری صاحب مصروف ہو گئے اور وہ یہ اپنا وعدہ نہ نبھا سکے یہ دوبارہ پروگرام میں تشریف نہیں لائے اور یوں یہ معاملہ سلجھ نہ سکا ملک ریاض نے اس انٹرویو پر احتجاج کیا ان کا کہنا تھا یہ یک طرفہ انٹرویو تھا۔

صحافتی اصولوں کے مطابق میرا موقف بھی سامنے آنا چاہیے تھا آپ نے چوہدری نثار کا دعویٰ پوری قوم کو سنا دیا لیکن مجھے جواب تک کا موقع نہیں دیا ملک ریاض کی یہ بات درست تھی قانون آئین اور اخلاقیات سو بچوں کے قاتل جاوید اقبال کو بھی صفائی کا موقع دیتی ہے چنانچہ ملک ریاض کو موقع نہ دینا زیادتی تھی مگر میں چونکہ چوہدری نثار کی عقیدت میں گرفتار تھا لہٰذا میرا خیال تھا چوہدری نثار جب تک دو سو فائلیں لے کر سامنے نہیں آتے ہمیں اس وقت تک ملک ریاض کو پروگرام میں دعوت نہیں دینی چاہیے ہم چوہدری صاحب سے رابطے کی کوشش کرتے رہے میرا اسٹاف ہر دوسرے دن ان کے دفتر پیغام چھوڑتا رہا مگر چوہدری صاحب شاید مصروف تھے یوں یہ معاملہ پانچ ماہ تک لٹکا رہا لوگ اس دوران ملک ریاض کے موقف کا مطالبہ کرتے رہے ان لوگوں میں پاکستان مسلم لیگ ن کے سینئر ارکان بھی شامل تھے یہاں تک کہ ہم لوگ ملک ریاض کا موقف ریکارڈ کرنے پر مجبور ہو گئے مگر ہم لوگوں نے اس معاملے میں ملک ریاض سے ذرا سی زیادتی کی۔
ہم نے چوہدری نثار کے برعکس ان کا پروگرام لائیو نہیں کیا ہم نے پروگرام ریکارڈ کیا اور اس پروگرام سے بھی ساڑھے چار منٹ کے قابل اعتراض حصے کاٹ دیے یہ پروگرام 15 نومبر 2012ء کو آن ائیر ہوا چوہدری نثار اس پروگرام کے بعد ناراض ہو گئے انھوں نے اپنے پی اے کے ذریعے میرے ایسوسی ایٹ پروڈیوسر کو ایک پیغام لکھوایا جس میں چوہدری صاحب کا کہنا تھا جاوید چوہدری کو شرم آنی چاہیے اور یہ شرمناک صحافت ہے اور میں کبھی اس کا منہ نہیں دیکھوں گا وغیرہ وغیرہ میں نے پیغام سنا تو میں نے ہنس کر ٹال دیا میں اس کے باوجود چوہدری نثار علی خان کی عزت کررہا ہوں اور شاید اس وقت تک کرتا رہوں گا جب تک ان میں وہ خوبیاں موجود رہیں گی جن کا میں ابھی تذکرہ کروں گا۔
چوہدری نثار ان سیاستدانوں میں شمار ہوتے ہیں جو 1999ء سے لے کر 2007ء تک آٹھ برسوں میں ڈگمگائے نہیں مجھے جنرل پرویز مشرف نے خود بتایا ہم چوہدری نثار کو وزیراعظم بنانا چاہتے تھے لیکن یہ انٹرسٹڈ نہیں تھے یہ کوشش صدر آصف علی زرداری نے بھی کی مگر چوہدری صاحب ان کے ٹریپ میں نہیں آئے یہ اپوزیشن لیڈر تھے تو یہ پولیس سیکیورٹی اور بلٹ پروف گاڑی کے بغیر اسلام آباد میں پھرتے تھے ان کے ساتھ اسٹاف کا کوئی شخص بھی نہیں ہوتا تھا مجھے انھوں نے ایک بار اس خطاب کے چند نکات بھی سنائے جو میاں نواز شریف نے وزیراعظم بننے کے بعد قوم سے کرنا تھا میں دل سے سمجھتا ہوں اگر میاں نواز شریف اقتدار سنبھالنے کے بعد وہ خطاب کرتے یا یہ آج چوہدری نثار کے نقطوں پر مبنی تقریر کر دیں تو معاملات ٹھیک ہو جائیں ملک کی سمت درست ہو جائے کیونکہ بہرحال اس ملک کے کسی نہ کسی لیڈر کو یہ تقریر کرنا ہوگی اور ملک کو ان لائینز پر چلانا ہو گا جن کا اظہار چوہدری نثار نے تین سال قبل کیا تھا میں نے وہ نقطے لکھ لیے تھے اور میں آیندہ کسی وقت یہ نقطے آپ کے گوش گزار کروں گا چوہدری نثار کا تازہ ترین اقدام بھی قابل ستائش ہے۔
انھوں نے وزراء کالونی میں سرکاری رہائش گاہ نہیں لی یہ قانوناً وزراء کالونی میں سابق وزیر داخلہ رحمن ملک کی مورچہ نما رہائش گاہ حاصل کر سکتے ہیں یہ ان کی بلٹ پروف گاڑیاں اور وزیراعظم کے برابر پروٹوکول بھی لے سکتے ہیں مگر انھوں نے یہ نہیں لیا یہ اسلام آباد میں اپنی ذاتی رہائش گاہ میں مقیم ہیں اور وزیر داخلہ ہائوس امور کشمیر کے وفاقی وزیر برجیس طاہر کو الاٹ کر دیا گیا ہےچوہدری نثار علی خان کا یہ اقدام قابل ستائش ہے ملک کی حالت انتہائی ناگفتہ بہ ہے ہماری ساٹھ فیصد آبادی خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہی ہے لوگ پیٹ کا دوزخ بھرنے کے لیے بچے بیچ رہے ہیں ہم 65 برسوں میں سیلاب تک کنٹرول نہیں کر سکے آج بھی کراچی جیسا شہر پانی میں ڈوبا ہوا ہے ہماری سیکیورٹی کی حالت یہ ہے کہ سابق چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل طارق مجیدکے داماد عامر ملک کو اگست 2010ء میں لاہور سے اغواء کر لیا گیا اور شنید ہے جنرل طارق مجید کا داماد تاوان ادا کر کے چھڑوایا گیا 2 فروری 2009ء کو کوئٹہ سے یونیسیف بلوچستان کے سربراہ جان سلوکی اغواء ہوئے ریاست اسے بھی نہیں چھڑوا سکی اور یہ بھی4 اپریل 2009ء کوادائیگی کے بعد رہا ہوئے ہمارے سیکیورٹی اداروں کے لوگ روز اٹھا لیے جاتے ہیں اور ریاست ان کی رہائی کے لیے ادائیگی پر مجبور ہو جاتی ہے۔
سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کا بیٹا علی حیدر گیلانی الیکشن مہم کے دوران ملتان سے اغواء ہوا اور آج تک برآمد نہیں ہو سکا اغواء کار گیلانی فیملی کو باقاعدہ فون بھی کرتے ہیں اور اب انھوں نے اپنی شناخت بھی ظاہر کر دی ہے مگر ریاست انھیں بھی برآمد نہیں کر سکیدہشت گرد کوئٹہ سے پنجاب جانے والی مسافر کوچز سے 24 مسافر اغواء کرتے ہیں ان کے شناختی کارڈ چیک کرتے ہیں اور14 مسافروں کو پنجابی ہونے کی وجہ سے گولی مار دیتے ہیںچلاس میں کل دہشت گردوں نے سرے عام فائرنگ کر کے کرنل غلام مصطفی کیپٹن اشفاق عزیزاور ایس ایس پی دیامرہلال خان کو شہید کر دیا طالبان گاڑیوں پر بنوں جیل آتے ہیں جیل توڑتے ہیں تین ساڑھے تین گھنٹے جیل میں رہتے ہیں اور 284 لوگ ساتھ لے کر قبائلی علاقے میں پناہ لے لیتے ہیں بنوں جیل چار چھائونیوں سے صرف دس منٹ کے فضائی فاصلے پر واقع ہے طالبان ڈی آئی خان جیل پر حملہ کرتے ہیں کنٹونمنٹ کی دیوار توڑ کر جیل تک پہنچتے ہیں اور 253 لوگوں کو لے کر چلے جاتے ہیں اور ریاست ان کا بال تک بیکا نہیں کر سکتی اور آج اسلام آباد میں یہ افواہ گردش کر رہی ہے اگلی جیل وہ ہو گی جس میں شکیل آفریدی بند ہے۔
طالبان یہ جیل توڑ کر شکیل آفریدی کو نکالیں گے اور منہ مانگا معاوضہ لے کر اسے امریکا کے حوالے کر دیں گے یا پھر طالبان کے بھیس میں امریکی جیل توڑ کر شکیل آفریدی کو لے جائیں گے خفیہ اداروں نے ایسی ٹیلی فونک گفتگو بھی ریکارڈ کی جس میں وفاقی دارالحکومت سمیت ملک کے بڑے شہروں کو نشانہ بنانے کی ہدایات دی جا رہی تھیں کراچی شہر میں خوف زندگی کا حصہ بن چکا ہے اور راولپنڈی اسلام آباد میں بھی بھتے کی پرچیاں تقسیم ہو رہی ہیں اور تاجر اور دکاندار جان بچانے کے لیے رقم دینے پر مجبور ہو رہے ہیں یہ ہیں ہماری ریاست کے حالات ریاست کی حالت یہ ہے جی ایچ کیو کا محاصرہ ختم کرانے کے لیے لاہور کی جیل میں مقید ایک قیدی کو راولپنڈی لایا جاتا ہے حملہ آوروں سے اس کے ذریعے مذاکرات کیے جاتے ہیں جب کہ پولیس دہشت گردوں کا راستہ روکنے کے لیے تیار نہیں فوج اجتماعی فیصلوں کی منتظر ہے اور سیاستدان پانچ پانچ سال لگانے میں مصروف ہیں لیکن ان حالات میں وزراء سرکاری رہائش گاہیں مراعات سیکیورٹی بلٹ پروف گاڑیاں اور پروٹوکول سمیٹنے میں مصروف ہیں۔
ہماری موجودہ حکومت نے بھی پرانی حکومت سے کچھ نہیں سیکھا یہ بھی اسی طرز عمل کا تعاقب کر ر ہے ہیں جس نے پاکستان پیپلز پارٹی کے تابوت میں کیل ٹھونک دیے تھے ان حالات میں چوہدری نثار کا اقدام واقعی قابل ستائش ہے کیا چوہدری نثار کی جان کو کوئی خطرہ نہیں؟ یہ خطرہ موجود ہے لیکن اگر اس کے باوجود ملک کا وزیر داخلہ ذاتی رہائش گاہ میں رہ سکتا ہے یہ پروٹوکول اور سیکیورٹی کے بغیر موو کر سکتا ہے تو پھر باقی وزراء ایسا کیوں نہیں کر سکتے؟ یہ سرکاری رہائش گاہیں کیوں نہیں چھوڑ سکتے؟ یہ ذاتی گھروں میں کیوں نہیں رہ سکتے اور یہ قوم کو سرکاری گاڑیوں کا خرچ معاف کیوں نہیں کر سکتے؟ آپ دنیا کی تقلید نہ کریں آپ کم از کم چوہدری نثار کی روایت پر ہی عمل کر لیں آپ قوم پر تھوڑا سا رحم کر دیں قوم آپ کو دعائیں دے گی ورنہ دوسری صورت میں قوم آپ کے ہر دشمن کو اپنا ہیرو بنا لے گی یہ عدنان رشید جیسے لوگوں کو اپنا لیڈر مان لے گی اور اس وقت نہ سرکاری رہائش گاہیں آپ کے کام آئیں گی اور نہ ہی بلٹ پروف گاڑیاں۔

Source
 

Believer12

Chief Minister (5k+ posts)
اس پر کیا تبصرھ کیا جاے(serious)
مسٹر بین پرائم منسٹر بننے میں اسلیے انٹرسٹڈ نھیں ھے کہ اسے اپنے آپ کا پتا ھے۔اخلاقی دیوالیہ پن کا یہ عالم کہ ٹی وی پر وعدھ کر کے پورا نھیں کیا اور جب فریق مخالف کو موقع دیا گیا تو ناجائز طور پر ناراض ھو گئے۔ملکی وسائل سے محبت کا یہ عالم کہ موٹر وے اپنے حلقے کے بندے بھیج کر رکوا دی اور مطالبہ کیا کہ سڑک کا رخ اسکی زمینوں کی طرف موڑا جاے۔چکری انٹر چینج اسی وجہ سے بنانا پڑا اور پچاس کلومیٹر کا فاصلہ بھی بڑھ گیا۔
سرکاری گھر اسلیے نھیں لیا کہ اکیلا بندھ ھے بیوی بچے تو امریکی شھری ھیں اسے کیا ضرورت ھے کہ پانچ سال کیلیے ساماں اٹھا کر بھاگا جاے اور پھر واپس آے۔یہ سب تو اس نے اپنا مفاد سوچتے ھوے کیا ھے۔
بطور وزیر اسکی کارکردگی رحمان ملک سے کم نہ زیادھ ایک جیل رحمان ملک کے دور میں ٹوتی تھی اور ایک جیل اب نثار کے ھوتے ھوے۔
 

Argonaut

Banned
اس پر کیا تبصرھ کیا جاے(serious)
مسٹر بین پرائم منسٹر بننے میں اسلیے انٹرسٹڈ نھیں ھے کہ اسے اپنے آپ کا پتا ھے۔اخلاقی دیوالیہ پن کا یہ عالم کہ ٹی وی پر وعدھ کر کے پورا نھیں کیا اور جب فریق مخالف کو موقع دیا گیا تو ناجائز طور پر ناراض ھو گئے۔ملکی وسائل سے محبت کا یہ عالم کہ موٹر وے اپنے حلقے کے بندے بھیج کر رکوا دی اور مطالبہ کیا کہ سڑک کا رخ اسکی زمینوں کی طرف موڑا جاے۔چکری انٹر چینج اسی وجہ سے بنانا پڑا اور پچاس کلومیٹر کا فاصلہ بھی بڑھ گیا۔
سرکاری گھر اسلیے نھیں لیا کہ اکیلا بندھ ھے بیوی بچے تو امریکی شھری ھیں اسے کیا ضرورت ھے کہ پانچ سال کیلیے ساماں اٹھا کر بھاگا جاے اور پھر واپس آے۔یہ سب تو اس نے اپنا مفاد سوچتے ھوے کیا ھے۔
بطور وزیر اسکی کارکردگی رحمان ملک سے کم نہ زیادھ ایک جیل رحمان ملک کے دور میں ٹوتی تھی اور ایک جیل اب نثار کے ھوتے ھوے۔


You do write nice fiction.
 

aykay47

Banned
iss kirdaar ka daswaan hissa bhee agar khan nay dikhaya hota tou abhee aap zameen aasmaan kay qallaabay mila rahay hotay taareefon kay pull baandhnay main magar kiun kay aap bohhot insaf pasand waqaya huay hain iss liay aap ke azmat ko salam

اس پر کیا تبصرھ کیا جاے(serious)
مسٹر بین پرائم منسٹر بننے میں اسلیے انٹرسٹڈ نھیں ھے کہ اسے اپنے آپ کا پتا ھے۔اخلاقی دیوالیہ پن کا یہ عالم کہ ٹی وی پر وعدھ کر کے پورا نھیں کیا اور جب فریق مخالف کو موقع دیا گیا تو ناجائز طور پر ناراض ھو گئے۔ملکی وسائل سے محبت کا یہ عالم کہ موٹر وے اپنے حلقے کے بندے بھیج کر رکوا دی اور مطالبہ کیا کہ سڑک کا رخ اسکی زمینوں کی طرف موڑا جاے۔چکری انٹر چینج اسی وجہ سے بنانا پڑا اور پچاس کلومیٹر کا فاصلہ بھی بڑھ گیا۔
سرکاری گھر اسلیے نھیں لیا کہ اکیلا بندھ ھے بیوی بچے تو امریکی شھری ھیں اسے کیا ضرورت ھے کہ پانچ سال کیلیے ساماں اٹھا کر بھاگا جاے اور پھر واپس آے۔یہ سب تو اس نے اپنا مفاد سوچتے ھوے کیا ھے۔
بطور وزیر اسکی کارکردگی رحمان ملک سے کم نہ زیادھ ایک جیل رحمان ملک کے دور میں ٹوتی تھی اور ایک جیل اب نثار کے ھوتے ھوے۔
 
L

Liberal Fascist

Guest

اگر غور سے پڑہیں تو جیدے میاں نے تولیے میں لپیٹ کر بڑا زوردار پتھر چوری نثار کی کمر میں مارا ہے۔
ساٹھ فیصد سے زیادہ کالم حکومت اور وزارتِ داخلہ کی مُکمل ناکامی کی تصویر کشی پر مبنی ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وزیر داخلہ کی تعریف مگر اُسکی وزارتِ داخلہ کی ناکامی۔ ہے نا کمال کی بات۔
دس پندرہ فیصد چوری نثار کی کہہ مُکرنیوں پر، دس فیصد چوری نثار کی بہادری پر، پر پانچ فیصد ریاض ٹھیکیدار اور پانچ دس فیصد اپنی ذات شریف پر۔

کالم کا لُبِ لباب یہ ہے کہ وزارتِ داخلہ مکمل ناکام ہو چُکی ہے لیکن وزیرِ داخہ طُرم خان بنا پھِرتا ہے۔

کالم کا اہم حصہ دوبارہ ملاحظہ فرمائیں ۔ ۔ ۔

ملک کی حالت انتہائی ناگفتہ بہ ہے‘ ہماری ساٹھ فیصد آبادی خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہی ہے‘ لوگ پیٹ کا دوزخ بھرنے کے لیے بچے بیچ رہے ہیں‘ ہم 65 برسوں میں سیلاب تک کنٹرول نہیں کر سکے‘ آج بھی کراچی جیسا شہر پانی میں ڈوبا ہوا ہے‘ ہماری سیکیورٹی کی حالت یہ ہے کہ سابق چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل طارق مجیدکے داماد عامر ملک کو اگست 2010ء میں لاہور سے اغواء کر لیا گیا اور شنید ہے جنرل طارق مجید کا داماد تاوان ادا کر کے چھڑوایا گیا‘ 2 فروری 2009ء کو کوئٹہ سے یونیسیف بلوچستان کے سربراہ جان سلوکی اغواء ہوئے‘ ریاست اسے بھی نہیں چھڑوا سکی اور یہ بھی4 اپریل 2009ء کوادائیگی کے بعد رہا ہوئے‘ ہمارے سیکیورٹی اداروں کے لوگ روز اٹھا لیے جاتے ہیں اور ریاست ان کی رہائی کے لیے ادائیگی پر مجبور ہو جاتی ہے۔
سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کا بیٹا علی حیدر گیلانی الیکشن مہم کے دوران ملتان سے اغواء ہوا اور آج تک برآمد نہیں ہو سکا‘ اغواء کار گیلانی فیملی کو باقاعدہ فون بھی کرتے ہیں اور اب انھوں نے اپنی شناخت بھی ظاہر کر دی ہے مگر ریاست انھیں بھی برآمد نہیں کر سکی‘دہشت گرد کوئٹہ سے پنجاب جانے والی مسافر کوچز سے 24 مسافر اغواء کرتے ہیں‘ ان کے شناختی کارڈ چیک کرتے ہیں اور14 مسافروں کو پنجابی ہونے کی وجہ سے گولی مار دیتے ہیں‘چلاس میں کل دہشت گردوں نے سرے عام فائرنگ کر کے کرنل غلام مصطفی‘ کیپٹن اشفاق عزیزاور ایس ایس پی دیامرہلال خان کو شہید کر دیا‘ طالبان گاڑیوں پر بنوں جیل آتے ہیں‘ جیل توڑتے ہیں‘ تین ساڑھے تین گھنٹے جیل میں رہتے ہیں اور 284 لوگ ساتھ لے کر قبائلی علاقے میں پناہ لے لیتے ہیں‘ بنوں جیل چار چھائونیوں سے صرف دس منٹ کے فضائی فاصلے پر واقع ہے‘ طالبان ڈی آئی خان جیل پر حملہ کرتے ہیں‘ کنٹونمنٹ کی دیوار توڑ کر جیل تک پہنچتے ہیں اور 253 لوگوں کو لے کر چلے جاتے ہیں اور ریاست ان کا بال تک بیکا نہیں کر سکتی اور آج اسلام آباد میں یہ افواہ گردش کر رہی ہے اگلی جیل وہ ہو گی جس میں شکیل آفریدی بند ہے۔
طالبان یہ جیل توڑ کر شکیل آفریدی کو نکالیں گے اور منہ مانگا معاوضہ لے کر اسے امریکا کے حوالے کر دیں گے یا پھر طالبان کے بھیس میں امریکی جیل توڑ کر شکیل آفریدی کو لے جائیں گے‘ خفیہ اداروں نے ایسی ٹیلی فونک گفتگو بھی ریکارڈ کی جس میں وفاقی دارالحکومت سمیت ملک کے بڑے شہروں کو نشانہ بنانے کی ہدایات دی جا رہی تھیں‘ کراچی شہر میں خوف زندگی کا حصہ بن چکا ہے اور راولپنڈی اسلام آباد میں بھی بھتے کی پرچیاں تقسیم ہو رہی ہیں اور تاجر اور دکاندار جان بچانے کے لیے رقم دینے پر مجبور ہو رہے ہیں‘ یہ ہیں ہماری ریاست کے حالات‘ ریاست کی حالت یہ ہے جی ایچ کیو کا محاصرہ ختم کرانے کے لیے لاہور کی جیل میں مقید ایک قیدی کو راولپنڈی لایا جاتا ہے‘ حملہ آوروں سے اس کے ذریعے مذاکرات کیے جاتے ہیں جب کہ پولیس دہشت گردوں کا راستہ روکنے کے لیے تیار نہیں‘ فوج اجتماعی فیصلوں کی منتظر ہے اور سیاستدان پانچ پانچ سال لگانے میں مصروف ہیں لیکن ان حالات میں وزراء سرکاری رہائش گاہیں‘ مراعات‘ سیکیورٹی‘ بلٹ پروف گاڑیاں اور پروٹوکول سمیٹنے میں مصروف ہیں۔
ہماری موجودہ حکومت نے بھی پرانی حکومت سے کچھ نہیں سیکھا‘ یہ بھی اسی طرز عمل کا تعاقب کر ر ہے ہیں جس نے پاکستان پیپلز پارٹی کے تابوت میں کیل ٹھونک دیے تھے‘
 
Last edited by a moderator:

Believer12

Chief Minister (5k+ posts)
iss kirdaar ka daswaan hissa bhee agar khan nay dikhaya hota tou abhee aap zameen aasmaan kay qallaabay mila rahay hotay taareefon kay pull baandhnay main magar kiun kay aap bohhot insaf pasand waqaya huay hain iss liay aap ke azmat ko salam

میں نے تو اس کی شخصیت سے بھت تھوری سی باتیں خلاف لکھی ھیں آپ اسکے حق میں پورا کالم لکھ دو میں لائک کر دوں گا۔
 

Quicqsolution

Senator (1k+ posts)
اس پر کیا تبصرھ کیا جاے(serious)
مسٹر بین پرائم منسٹر بننے میں اسلیے انٹرسٹڈ نھیں ھے کہ اسے اپنے آپ کا پتا ھے۔اخلاقی دیوالیہ پن کا یہ عالم کہ ٹی وی پر وعدھ کر کے پورا نھیں کیا اور جب فریق مخالف کو موقع دیا گیا تو ناجائز طور پر ناراض ھو گئے۔ملکی وسائل سے محبت کا یہ عالم کہ موٹر وے اپنے حلقے کے بندے بھیج کر رکوا دی اور مطالبہ کیا کہ سڑک کا رخ اسکی زمینوں کی طرف موڑا جاے۔چکری انٹر چینج اسی وجہ سے بنانا پڑا اور پچاس کلومیٹر کا فاصلہ بھی بڑھ گیا۔
سرکاری گھر اسلیے نھیں لیا کہ اکیلا بندھ ھے بیوی بچے تو امریکی شھری ھیں اسے کیا ضرورت ھے کہ پانچ سال کیلیے ساماں اٹھا کر بھاگا جاے اور پھر واپس آے۔یہ سب تو اس نے اپنا مفاد سوچتے ھوے کیا ھے۔
بطور وزیر اسکی کارکردگی رحمان ملک سے کم نہ زیادھ ایک جیل رحمان ملک کے دور میں ٹوتی تھی اور ایک جیل اب نثار کے ھوتے ھوے۔

very well said.
 

syedarahman

MPA (400+ posts)
iss kirdaar ka daswaan hissa bhee agar khan nay dikhaya hota tou abhee aap zameen aasmaan kay qallaabay mila rahay hotay taareefon kay pull baandhnay main magar kiun kay aap bohhot insaf pasand waqaya huay hain iss liay aap ke azmat ko salam

you may forgot about petroleum ministry love of mr bean & he has not do anything as interior minister despite there are lot of challenges ..