کیا آئی ایم ایف انتخابی دھاندلی سے متعلق عمران خان کا خط قبول کرے گا؟

10fgagatetsgsgb.png

پاکستان کے معاشی استحکام اور شہریوں کی خوشحالی یقینی بنانے کیلئے نئی حکومت کے ساتھ کام کے منتظر ہیں: جولی کوزیک

انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کی طرف سے انتخابی بے ضابطگیوں کے حوالے سے سوال پر پاکستان میں سیاسی پیشرفت پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔ ذرائع کے مطابق آج ایک پریس بریفنگ کے دوران سربراہ کمیونیکیشن ڈیپارٹمنٹ آئی ایم ایف جولی کوزیک سے گزشتہ برس جون 2023ء میں پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان سٹینڈ بائی معاہدے کی تیسری قسط حاصل کرنے کے راستے پر گامزن ہونے کے حوالے سے سوال پوچھاگیا۔

جولی کوزیک کا اپنے جواب میں کہنا تھا کہ پاکستان کے ساتھ 11 جنوری 2024ء کو ایگزیکٹو بورڈ آئی ایم ایف نے سٹینڈ بائی ارینجمنٹ کے پہلے جائزے کی منظوری دے دی تھی جس سے 1.9 ارب ڈالر کی ادائیگیاں کی گئیں۔ نگران حکومت کے دوراقتدار میں پاکستان کے حکام نے ملک میں معاشی استحکام کو برقرار رکھا۔


جولی کوزیک سے ایک سوال یہ بھی پوچھا گیا کہ کیا آئی ایم ایف سابق وزیراعظم عمران کان کی طرف سے پاکستان کے عام انتخابات میں ہونے والی انتخابی بے ضابطگیوں کے حوالے سے تحقیقات کا مطالبہ کرنے والے کسی خط کو قبول کرے گا؟ جواب میں ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں جاری کسی بھی سیاسی پیشرفت پر تبصرہ نہیں کروں گی، میرے پاس اس بارے کہنے کو کچھ نہیں ہے۔

آئی ایم ایف کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب پی ٹی آئی سینیٹر علی ظفر نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ اڈیالہ جیل میں قید بانی پی ٹی آئی عمران خان انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے معاملے پر آئی ایم ایف کو خط لکھیں جس میں مطالبہ ہو گا کہ جن حلقوں میں دھاندلی ہوئیں وہاں کا آڈٹ کروایا جائے۔دنیا نے دیکھا کہ پاکستانی شہریوں کا مینڈیٹ رات کے اندھیرے میں چوری کر لیا گیا۔

بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ انتخابات فری اینڈ فیئر نہیں ہوئے تو کوئی ادارہ قرض نہیں دے سکتا کیونکہ جو قرضہ آئی ایم ایف دے گا اس سے عوام پر بوجھ پڑے گا۔ آئی ایم ایف، یورپی یونین ودیگر آرگنائزیشن کا چارٹر کہتا ہے کسی بھی ملک کو تب قرض دیں گے جب گڈگورننس ہو جس کی اہم شق جمہوریت ہے، جہاں جمہوریت نہیں وہاں عالمی ادارے کام کرنا پسند نہیں کرتے اور عوامی مینڈیٹ کے بغیر قائم حکومت قرضہ واپس کرنے میں ناکام رہے گی!

جولی کوزیک کا کہنا تھا کہ میں اس حوالے سے صرف اتنا ہی کہنا چاہوں گی کہ ہم پاکستان کے تمام شہریوں کی خوشحالی اور ملک کے معاشی استحکام کو یقینی بنانے کے لیے نئی بننے والی حکومت کے ساتھ پالیسیوں پر مل کر کام کرنے کے منتظر ہیں۔ قبل ازیں بین الاقوامی جریدے بلوم برگ کی طرف سے امکان ظاہر کیا گیا کہ پاکستان آئی ایم ایف کے ساتھ نئے پروگرام کیلئے 6 ارب ڈالر قرض کی درخواست دیگا۔

بلوم برگ کے مطابق رواں سال پاکستان واجب الادا قرض ادا کرنے میں معاونت کے لیے آئی ایم ایف کو نئے قرضے کی درخواست دے گا اور توسیعی فنڈ کی سہولت پر بھی بات چیت ہو گی۔ آئی ایم ایف سے بات چیت مارچ یا اپریل میں شروع ہونے کی توقع ظاہر کی گئی، پاکستان گزشتہ برس آئی ایم ایف سے مختسر مدتی بیل آئوٹ پیکیج کی بدولٹ ڈیفالٹ سے بچا تھا تاہم یہ پروگرام اگلے مہینے ختم ہو رہا ہے۔

پاکستان کو بیل آئوٹ پیکیج سے پہلے متعدد اقدامات اٹھانے پڑے جن میں بجٹ پر نظرثانی، شرح سود میں اضافہ، بجلی وگیس کی قیمتوں میں اضافہ سمیت دیگر اقدامات شامل تھے۔ ترجمان آئی ایم ایف کا کہنا تھا کہ پاکستانی حکام کیساتھ طویل مدتی اصلاحات کیلئے بات چیت ہو رہی ہے۔ درخواست ملی تو پاکستان کو مشکلات سے نکالنے کیلئے ایک نئے انتظام سے انتخابات کے بعد نئی حکومت کو فنڈز فراہم کر سکتے ہیں۔
 

Siberite

Chief Minister (5k+ posts)
جی جی جی جی ، وہ تو بیٹھے انتظار کر رہے ہیں کہ جیل سے کرتبی سرکار کا نیا کرتبی خط کب آتا ہے ۔
 

zaheer2003

Chief Minister (5k+ posts)

کیا آئی ایم ایف انتخابی دھاندلی سے متعلق عمران خان کا خط قبول کرے گا؟​

شاید نہیں

اور یہ بات تو ڈونلڈ لو نے بتا دی تھی سائفر میں

کہ اگر رجیم چینج ہو گیا تو پاکستان کو معاف کر دیا جائے گا
 

patwari_sab

Chief Minister (5k+ posts)
IMF ka bap amreeka hai. abi hal hi me mistri chusky amreeka yatra par gya ta.. election aik drama ta.. asal me selection 9 april 2022 ko hi ho choki ti..
 

RajaRawal111

Prime Minister (20k+ posts)
Patwariyo
Kab takk bheek khao gey. Kabhi mehnat say kuch kama bhi lo

جاہل ھندو - یہ چا لیس بلین ڈالر کے قریب عمران خان نے قرضہ تو نہیں لیا تھا -- ساری اس کی محنت مزدوری کی کمائی تھی ؟؟
pakistan-external-debt.png
 

Pakistan90210

MPA (400+ posts)
IMF didnt give a flying Fck last time when Jhagra (Finance Minister KPK) & Tareen (Federan Finance Minister ex) wrote this letter 🤣

now they know its a letter from a lonely 73 year old broken prisoner in Adiala 😄