کارساز کمپنیوں کی جعلسازی پر جاپانی وزارت خزانہ ان ایکشن

japaani11h1i1h.jpg


ٹویوٹا، سوزوکی اور ہنڈا ودیگر کار تیار کرنے والی کمپنیوں کی طرف سے پرفارمنس سیفٹی ٹیسٹ کا جعلی ڈیٹاتیار کرنے کے حوالے سے سکینڈل کے باعث جاپانی آٹو انڈسٹری کو بڑا دھچکا لگا ہے۔

بین الاقوامی خبررساں ادارے بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق گاڑیوں کے سیفٹی ٹیسٹ سے جڑے ہوئے اس سکینڈل کا معاملہ اتنا سنگین ہو چکا ہے کہ دنیا میں سب سے زیادہ گاڑیاں تیار کرنے والی کمپنی ٹویوٹا کے سربراہ کو سرعام اپنا سر جھکا کر دنیا سے معافی مانگنی پڑی ہے۔

ٹویوٹا، سوزوکی اور ہنڈا ودیگر جاپانی آٹو کمپنیوں پر الزام ہے کہ انہوں نے گاڑیوں کے متعدد ماڈلز کی پروڈکشن سے پہلے پرفارمنس سیفٹی ٹیسٹ کا جعلی ڈیٹا تیار کیا۔ وزارت ٹرانسپورٹ جاپان کی طرف سے ٹیسٹ بے ضابطگیوں کا معاملہ سامنے آنے پر ٹویوٹا، سوزوکی اور یاماہا کے دفاتر پر چھاپے مارے جا چکے ہیں جبکہ 10 جون کو ہنڈا کے دفاتر پر بھی چھاپہ مارا گیا۔
https://twitter.com/x/status/1800724715449016569
ٹویوٹا ہیڈکوارٹر پر چھاپے سے پہلے ہی سربراہ ٹویوٹا نے سیفٹی سرٹیفکیشن ٹیسٹ میں ردوبدل وجعلسازی کرنے کا اعتراف کرتے ہوئے کچھ سیکنڈز کیلئے اپنا سر جھکا کر صارفین سے معافی مانگی تھی۔ چیئرمین ٹویوٹا اکیو ٹویوڈا نے اعتراف کیا کہ سرٹیفکیشن کا طریقہ کار نظرانداز، حفاظتی اقدامات پر عمل کیے بغیر وسیع پیمانے پر گاڑیاں تیار کیں تاہم اس وقت سڑکوں پر چلنے والی گاڑیوں کی سیفٹی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا گیا۔

وزارت ٹرانسپورٹ جاپان کا کہنا ہے کہ پرفارمنس ٹیسٹ کا جعلی ڈیٹا تیار کرنے کا اعتراف سامنے آنے کے بعد سرکاری حکام ان کمپنیز کے عہدیداروں سے تفتیش کے ساتھ ساتھ ریکارڈ کا جائزہ بھی لیں گے۔ سوزوکی کمپنی نے بھی تصدیق کی ہے کہ آلٹو گاڑی کے ایک ماڈل کے 2014ء میں جعلی بریک ٹیسٹ ظاہر کیے گئے مگر اب اس گاڑی کی پروڈکشن نہیں ہو رہی۔

ٹویوٹا کمپنی کی طرف سے یارس کراس، کرولا ایکزیو اور کرولا فیلڈر کی پروڈکشن کا عمل روکا جا چکا ہے تاہم کمپنی کا کہنا ہے اس سے غیرملکی پروڈکشن متاثر نہیں ہوں گے، سکینڈل سامنے آنے کے بعد مزدا کمپنی کو بھی مزدا ٹو نامی گاڑی کے ماڈلز کی تیاری کا عمل روکنا پڑا۔ہنڈا نے بھی ماضی میں اپنی کارڈ کے 22 ماڈلز کے نوائز ٹیسٹ میں بے ضابطگی کا اعتراف کیا اور گاڑیوں کا وزن مقررہ رینج سے بڑھنے کو بھی ٹیسٹ رپورٹ میں ظاہر نہ کرنے کے ساتھ کچھ ماڈلز کے انجن آئوٹ پٹ ٹیسٹ کے ڈیٹا میں ہیر پھیر کیا۔

ٹویوٹا کمپنی 2014، 2015 اور 2020ء میں سرٹیفکیشن کیلئے مقامی سطح پر بیچے جانے والے 7 ماڈلز کے سیفٹی ٹیسٹ کے جعلی نتائج ظاہر کیے، حادثے، ایئربیگ اور پچھلی نشست پر نقصان کے سیفٹی ٹیسٹ میں بھی غلط ڈیٹا ظاہر کیا جبکہ کار کے اخراج کے ٹیسٹ میں بھی ردوبدل کیا گیا۔ گاڑیوں کے کچھ ایسے ماڈلز جن کے سیفٹی ٹیسٹ میں ردوبدل کیا گیا ان کے پروڈکشن کا عمل بند کیا جا چکا ہے۔

مزدا کمپنی نے اعتراف کیا کہ اس نے کچھ ماڈلز کے انجن کنٹرول سافٹ ویئر، کریش ٹیسٹ میں قواعد وضوابط کی خلاف ورزی کی جبکہ مزداٹو اور روڈکوسٹر کی پروڈکشن کا عمل روکا جا چکا ہے۔ ہنڈا کمپنی کی طرف سے بھی اعتراف کیا گیا ہے کہ اس نے پچھلے 8 سالوں کے دوران ماضی کی درجنوں گاڑیاں کے نوائز وآئوٹ پٹ ٹیسٹ رزلٹ میں ردوبدل کیا۔

یاماہا کمپنی کا کہنا ہے کہ اس نے اپنی موٹرسائیکل کے کم سے کم 3 ماڈلز میں نوائز لیول کے ڈیٹا میں ردوبدل کیا۔ علاوہ ازیں ڈائی ہیٹسو کمپنی کی طرف سے بھی اعتراف سامنے آیا ہے کہ اس کی 88 ہزار چھوٹی گاڑیوں پر کیے گئے سائیڈ کولیژن سیفٹی ٹیسٹ میں بے ضابطگیوں ہوئی ہیں۔ واضح رہے کہ دنیا کی سب سے بڑی کار کمپنی ٹویوٹا 2023ء میں 1 کروڑ 10 لاکھ گاڑیاں فروخت کر چکی ہے۔

جاپانی حکومت کی طرف سے ان کار کمپنیوں کی خلاف ورزیوں کے معاشی اثرات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اس سے جاپانی کارمینوفیکچررز کی ساکھ متاثر ہو گی جو اپنی مصنوعات کے معیار کیلئے جانے جاتے ہیں۔ سکینڈل سے جاپانی کار کمپنیوں کے شیئرز کی قدر میں بڑی کمی دیکھنے میں آئی، ٹویوٹا کو تقریباً 15.62 ارب ڈالر کا نقصان ہوا جبکہ مزدور کے شیئرز کی قیمت میں کمی سے اسے 80 ارب ین اور دیگر کمپنیوں کو بھی اربوں ڈالر کا نقصان برداشت کرنا پڑا۔