چیئرمین نیب کے اختیارات میں اضافہ، مستفید ہونے والوں کے نام سامنے آگئے!

nab-ch-khawaja-asif-pp.jpg


حکومت کی نیب قانون میں ترمیم سے چیئرمین نیب کو ریفرنسز و انکوائریز بند کرنے کا اختیار مل گیا: ذرائع

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کے انکار کے بعد نیشنل اکائونٹیبلٹی بیورو (نیب) ترمیمی ایکٹ 2023ء کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے منظوری کروایا گیا تھا جس کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ہے اور نیا قانون نافذ العمل ہوگیا۔ نئے قانون کے نافذالعمل ہونے کے بعد چیئرمین نیب کے اختیار میں اضافہ ہوا ہے اور انہیں کیسز وانویسٹی گیشنز بند کرنے کے اختیارات بھی مل گئے ہیں۔ نیب قانون کے سیکشن 5 کے برعکس قائم کرپشن کیسز بند اور کرپشن کیسز کی انکوائریز، انویسٹی گیشن بند کرنے کے علاوہ متعلقہ اداروں کو بھجوا سکیں گے۔

ذرائع کے مطابق نیب ترمیم ایکٹ 2023ء نافذ العمل ہونے کے بعد چیئرمین نیب کو اختیار حاصل ہو گیا ہے کہ وہ وزیراعظم شہبازشریف، سابق صدر آصف زرداری، سابق وزیراعظم نوازشریف، یوسف رضا گیلانی، راجہ پرویز اشرف، شوکت عزیز کیخلاف ریفرنسز جنہیں نیب ترامیم کے بعد احتساب عدالت نے نیب کو واپس کر دیا تھا انہیں ختم کر دیں یا کسی اور تحقیقاتی ادارے یا ٹرائل کورٹ منتقل کر دیں۔

نیب کے پاس ان ریفرنسز کے علاوہ وزیر دفاع خواجہ آصف اور وزیر خزانہ اسحاق ڈار کیخلاف اثاثہ جات ، یوسف رضا گیلانی کیخلاف یو ایس فنڈ ، سینیٹر روبینہ خالد کیخلاف لوک ورثہ میں مبینہ خوردبرد، اعجاز ہارون اور سینیٹر سلیم مانڈوی والا کیخلاف کڈنی ہلز اور سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سردار مہتاب عباسی کیخلاف پی آئی اے ریفرنس بھی موجود ہے۔

نیب قوانین میں موجودہ اتحادی حکومت کی طرف سے گزشتہ سال ترمیم کی گئی تھی جس کے بعد 3سو سے زیادہ کرپشن ریفرنس احتساب عدالتوں کی طرف سے دائرہ اختیار ختم ہونے کے بعد نیب کو واپس بھیج دیئے گئے تھے۔ ایسے مقدمات کیلئے کوئی قانون موجود ہونے کی وجہ سے یہ مقدمات نیب کے پاس پڑے تھے۔ حکومت کی نیب قانون میں ترمیم سے چیئرمین نیب کو ایسے ریفرنس اور انکوائریز بند کرنے کا اختیار دے دیا ہے۔

حکومت کی طرف سے نیب ترمیمی ایکٹ 2023ء میں نیب ایکٹ کے سیکشنز 17 میں ترامیم پیش کی گئی تھیں جو 1999ء سے نافذالعمل ہو گا۔ چیئرمین نیب کو اختیارات دیئے گئے ہیں کہ وہ کسی بھی انکوائری یا تحقیقات کا فیصلہ کر سکیں کہ کیس بن سکتا ہے یا نہیں۔ چیئرمین نیب تفتیش سے مطمئن نہ ہونے کی صورت میں نیب کیس ختم اور گرفتار کیے گئے ملزم کو رہا کرنے کیلئے معاملہ عدالت بھی بھیج سکتے ہیں۔

نئے قانون سے چیئرمین نیب کو اختیار حاصل ہے کہ وہ زیرالتوا انکوائریز جن کا سب سیکشن 3 کے تحت ٹرانسفر مقصود ہو انہیں غور کے بعد قانون کے تحت بند کر سکیں۔ چیئرمین نیب کے تفتیش کیلئے کسی ادارے کو ہدایت کرنے پر متعلقہ محکمہ یا اتھارٹی تفتیش کرنے کی مجاز ہو گی اور عدالت مطمئن نہ ہونے پر مقدمہ واپس بھجوا سکے گی۔ چیئرمین نیب تفتیش سے مطمئن نہ ہونے پر نیب کیس ختم اور ملزم کی رہائی کیلئے عدالت کو منظوری بھیج سکیں گے۔

نئے قانون کے تحت مقدمے کی نیب عدالت سے واپسی پر متعلقہ اتھارٹی یا محکمہ قوانین کے مطابق مقدمہ چلائے گا۔ ترمیم ایک 2022-23ء سے پہلے جن مقدموں کا فیصلہ ہو چکا ہے وہ نافذالعمل ہیں جب تک کہ واپس نہ لیے جائیں۔ واپس کیے گئے مقدمات پر کوئی بھی عدالت یا ایجنسی مزید کارروائی کر سکے گی۔ چیئرمین نیب کی غیرموجودگی میں ڈپٹی چیئرمین ذمہ داریاں سنبھالیں گے اور ڈپٹی چیئرمین کی غیرموجودگی میں سینئر افسران کو وفاقی حکومت قائم مقام چیئرمین تعینات کر سکے گی۔
 

Aliimran1

Prime Minister (20k+ posts)

NRO —- NOT ONLY for Nooras and Murdaris Fazlu Kanjar —- But Especially for GHUDDAR ——- FIUJIS 🐒🥃👹🐖🐷

 

Nice2MU

President (40k+ posts)
اور بندیال اور اسکے باقی ججز اس کیسر کو پچھلے ایک سال سے سن رہے ہیں اور انجوائے کر رہے ہیں ۔ پھر کہتے ہیں کہ بندیال انکے خلاف ہے۔۔ بندیال بھی انکے ایسے ہی خلاف ہے جیسے باجوہ خلاف تھا۔۔