پراپگنڈہ انقلاب

Eyeaan

Chief Minister (5k+ posts)


کچھ لوگوں کو صرف پیپلز پارٹی نظر آتی ہے اور کچھ نہیں نظر آتا . یہ جو جھوٹ کا بازار اس ڈاکٹر نے گرم کیا ہوا ہے کیا یہ بات ٹھیک ہے . یہ بندہ پچھلے دس سال سے زرداری کو جیل بھجوانے کے لیے ایڑھیاں رگڑ رہا ہے نت نۓ جھوٹ گھڑ رہا ہے . کیا ایسے انقلاب اۓ گا ص�*افیوں کے جھوٹ ملک میں کوئی تبدیلی لائیں گے ایسا نا ممکن ہے
کوئی بھی سیاسی جماعت جیسی بھی سیاست کرے اس پر عوام ہی فیصلہ کرتی ہے کسی کو افسوس کرنے کی کوئی ضرورت نہیں پاکستان کے لوگوں کی اوقات کے مطابق ہی یہاں سیاست ہو سکتی ہے . ہم بھی دیکھ لیں گے وہ دن جب یہاں سے کوئی تبدیلی کامیاب ہو گی . تم لوگوں کے دماغ پر صرف پیپلز پارٹی سوار ہو گئی ہے کیوں کے وہ تمھارے لیے سافٹ ٹارگٹ ہے
جس بندے کا سنہری دور تھا اس کو تم لوگوں نے پھانسی پر لٹکا دیا تھا اسے کونسا عوام نے جیل توڑ کر بچا لیا تھا اس دور میں بھی آپ جیسے لوگ افسوس ہی کر رہے تھے . عوام کی اوقات کے مطابق ہی سیاست ہو گی یہاں اور یہ ہی طریقہ یہاں رائج ہے .
اگر کوئی شخص کسی غیر آئینی و قانونی طریقے سے ملک میں فساد کی �*مایت کر رہا ہو تو میں اس پر سو بار لعنت ہی بھیجوں گا انقلاب یہ ہی ہے کہ تمام ثبوتوں کے ساتھ کسی کو سزا سنائی جاۓ نہ کہ کسی کی دل کی خواہش کے مطابق . اب کوئی بھی بغیر قانونی رستے کے کسی کو ہجوم کی خواہش پر کو سزا دینا چاہے گا یا ایسے کام کی �*مایت کرے گا تو میں اس پر لعنت بھیجوں گا . ص�*افیوں کی خواہشات پر کسی کو کوئی سزا نہیں دی جا سکتی . ایسے لوگوں پر ایک بار پھر لعنت ہو جو ذاتی عناد میں بغیر کسی قانون کے کسی کو سزا دینے کا مطالبہ کریں اور ایسی انقلابی مہمیں چلائیں


آپ تسلیم کریں یا نہ کریں مگر میرا ذاتی حد تک یہ افسوس اور دکھ دلی اور حقیقی ہے۔
مجھے ڈاکٹر شاھد کے لکھنے یا نہ لکھنے سے کو مطلب نہیں اور نہ ہی وہ میرا مسلہ ہے۔ اس بارے میں تھوڑی دیر بعد میں مذید۔
جیسا کہ میں نے عرض کیا تھاکہ میرا مسلہ پیپلز پارٹی کے لایعنی، بے مقصد اور فرسودہ سیاسی تنظیم ہونے پر ہے۔ اور یہ بہت سوچی سمجھی اور بہت تجربے سے اخذ راےَ ہے۔ اور یہ راےَ پیپلز پارٹی کے لیفٹ یاپھرلیفٹ آف سنٹر سیاست کے حوالے سے ہے جو کہ پیپلز پارٹی کی اوریجنل سیاسی پوزیشن تھی ۔ فوج یا لیگ یا جماعت پر کویَ غصہ یا غم نہیں کہ اس سیاسی عضو سے ہمیں کویَ مطلب ہی نہیں ان کی سیاست پر اعتراض بھی نہیں علاوہ بایَ ڈیفالٹ مخالفت کے، دشمنی کے۔
۔ آپ کہ سکتے ہیں کہ پیپلز پارٹی جو بھی سیاست کرے ہمیں کیا مطلب مگر بات اسقدر سادہ نہیں۔ اس پارٹی نے لیفٹ یاپھرلیفٹ آف سنٹر سیاست کو اس طور ریجنل اور خاندانی سیاست میں بدل دیا ہے، اور قبضہ کر لیا ہے کہ پاکستان میں صحت مند سیاست معطل یا مردہ ہو چکی ہے اور لیفٹ ونگ سیاست نہ تو ممکن رہی ہے ۔ ہمارے نزدیک پیپلز پارٹی اس تباہی کی اصل ذمہ دار ہے کہ عوام ، لیبر، کسان اور لویر اور متوسط طبقہ پاک سیاست سے بے دخل ہو چکا ہے۔ اسی عالم میں ہم یہ کھلا مذاق دیکھتے ہیں کہ شہباز شریف جیسا سرمایہ دار اور کاروباری طبقے کا نمایندہ جالب کے شعر پڑھتا دکھایَ دیتا ہے۔ یہ سیاست میں ایک خلا کی موجودگی سے ممکن ہے۔
پیپلز پارٹی اس تہ تک کیسے پہنچی، کس کا قصور ہے کیا سیاسی اور غیر سیاسی عوامل ہیں اس پر گھنٹوں بحث ہو سکتی ہے اور ہو بھی چکی ہے۔ اب یہ با تیں لا حاصل ہیں۔
اب ہماری یہ سوچی سمجھی راے ہے کہ پیپلز پارٹی کسی طور ریفارم نہیں ہو سکتی۔ پیپلز پارٹی میں نہ تو نظریاتی، افرادی اور لیڈرشپ کی سکت ہے اور نہ ہی کویَ راہ ہے کہ غریب طبقات دوبارہ غالب آ سکیں۔ ہمارے نزدیک یہ ایک مکمل فرسودہ پارٹی ہے۔ یاد رہے بھٹو کی پیپلز پارٹی بھٹو کی پارٹی نہیں تھی بلکہ پنجاب اور کراچی کے پروگریسیو طلبا تنظیمیں، لیبر یونینز اور خصوصاََ چین نواز لیفٹسٹ اور مسلم لیگ کا پروگریسیو ونگ تھا جو اکٹھا ہوگیا تھا۔ سندھ پیپلز پارٹی کی بنت ایسے تھی ہی نہیں۔ رسول تالپر جیسے چند ایک ستر کی دھای میں ہی علیحدہ ہو گیے۔اور سندھبیسڈ پیپلز پارٹی سے تبدیلی کی توقع ہی غیر حقیقی ہے۔ ہماری سوچی سمجھی راے ہے کہ آج کی سندھی پارٹی ایک کلٹ اور سیاسی قابض طبقات کا ملغوبہ ہے۔

پہلے ہی پیپلز پارٹی پاکستان کے، خصوصاََ پنجاب میں پراگریسیو ونگ کی تقریباََ دو نسلوں کو کھا چکی ہے۔ ہماری پیپلز پارٹی پر خصوصی نظر اسی لیے ہے کہ ہماری راےَ میں جبتک پاک سیاست سے پیپلز پارٹی کا مکمل سیاسی خاتمہ نہیں ہو جاتا تب تک پاکستان میں حقیقی پراگریسیو سیاسی پارٹی کے احیا کا کویَ امکان نہیں۔ آپ کا علم نہیں مگر ہمارے ارد گرد اکثر اسی نظریے کے موافق ہیں۔ آپ کو بھی دعوت ہے کہ، اگر آپ خاندانی سیاست پر مرتکز نہیں تو، ایک بار غور کریں کہ آپ سیاست میں کس مقصد سے ہیں کہ یہ صرف عادتاََ ہے۔۔
۔ جہاں تک بات ڈاکٹر شاہد کی ہے، ان کی سیاست ایجنڈا اور سیاسی تبصرہ واضح ہے، غالباََ وہ سیاسی پارٹیوں کی تطہیر چاہتے ہیں اور موجودہ لیڈرز کا خاتمہ۔ اور اپنی راہ پر سیدھا چل رہے ہیں۔ آپ کو کیا خوف ہے۔
یاد کریں جب سورش اور الطاف حسن پارٹی مخالفت جذباتی اور عالما نہ انداز میں لکھتے تھے، عبدل قادر اور شامی مستقل طنزیہ اور انوسٹیگیٹیو مضاین تحریر کرتے تھے، ولی خان کی زہریلی تقر یریں تھیں، جالب مخالفانہ شعر پڑھتا تھا۔ فیض تک نجی محفلوں میں بھٹو صاحب کی دھوکہ دہی کا ذکر کرتا تھا۔ پرو ریشیا لیفٹ کے پمفلٹس کا کیا ذکر، پیپلز پارٹی تب تو نہ ڈری، اس لیے اسمیں دم تھا۔ آج اسمیں کویَ دم نہیں، آج اسمیں کویَ افراد نہیں، آج اسمیں کویَ طبقات نہیں۔ جان ہو، دم ہو تو پھر اس نوعیت کی غیر ضروری تنقید کیونکر۔
اسی لیے پارٹی کے لوگ کبھی ڈاکٹر شاھد کو رگیدتے ہیں، کبھی گلالییی پہ قراردادیں ہیں، ٹایران کے حوالے یوں اچھلتے ہیں جیسے سب یہی سیاست ہو۔ چانڈیو جیسے مبصر یوں کل کی سیاست پر قصہ گویَ کرتے ہیں کہ سر پکڑ لیتے ہیں کہ ہم شاید کسی دوسرے خطے کی تاریخ سے واقف ہیں۔ سیاسی نعروں میں لپیٹ کر جو کہانی جی بھاےَ سنا دو۔ہمارے نزدیک یہ گھٹیا، نیگیٹیو اور فضول سیاست ہے اور نظریاتی طور مردہ ہونے کی علامت ہے۔ اسپر دکھ اور افسوس تو ہو گا نا۔

۔
 

Everus

Senator (1k+ posts)
ہر انقلاب کے لیے پروپیگنڈہ ناگزیر ہوتا ہے ، کسی وقت ایشین ٹائیگر بننے کا ڈھنڈورا تھا ، اب پتہ چلتا ہے بس ڈھنڈورا ہی تھا
کشکول توڑ دیں گے ، لیکن پتا لگتا ہے ، کشکول میں توسیع ہی ہوتی رہی ،
تاری صاحب! آج کیسا محسوس کر رہے ہیں؟