
ملک ریاض اور آصف زرداری کی مبینہ آڈیو ٹیپ پر بریکنگ نیوز دینے والے او ٹاک شوز کرنیوالے میڈیا گروپس کی مریم نواز کی آڈیو ٹیپ پر خاموشی
گزشتہ روز مسلم لیگ نواز کی نائب صدر مریم نواز کی ایک اور مبینہ آڈیو منظر عام پر آئی جس میں وہ کسی سے ان کی بات نہ ماننے پر وزیراعظم سے شکایت کی دھمکی دے رہی ہیں۔
مریم نواز کی اس آڈیو لیک میں کسی شخصیت سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا ہے کہ میں میڈیا کو مینج کررہی ہوں، میرے ہاتھ کیوں باندھ کر رکھتے ہیں؟ میں آپ کے اوپر ڈیپنڈ کرتی ہوں، میں نہیں جانتی ابھی سیکریٹری انفارمیشن اور پی آئی ڈی سے بات کریں۔
اس آڈیو میں مریم نواز کا دھمکی آمیز لہجے میں مزید کہنا تھا کہ ان کو کہیں اگر آپ نہیں مانتے تو مجھے پرائم منسٹر سے بات کرنی پڑے گی۔
دلچسپ امر یہ کہ ایک روز قبل ملک ریاض اور آصف زرداری کی مبینہ آڈیو ٹیپ لیک کی گئی تھی جس میں ملک ریاض مبینہ طور پر آصف زرداری سے کہہ رہے ہیں کہ عمران خان کے میسیجز آرہے ہیں کہ پیچ اپ کرادیں۔
اس آڈیو کو لیکر میڈیا نے خوب واویلا کیا، اس پر ٹاک شوز کیا، ن لیگی سوشل میڈیا سیل نے اس پر خوب پروپیگنڈا کیا، مریم نواز نے اس آڈیو کا حوالہ دیکر جلسوں میں عمران خان کو خوب لتاڑا، شہباز شریف نے اس پر ٹویٹ کیا لیکن جب مریم نواز کی آڈیو سامنے آئی تو میڈیا پر خاموشی چھاگئی۔
سوائے اے آروائی، بول ٹی وی کے کسی چینل نے اس پر خبر نہ دی، جیو ٹی وی جس نے سب سے پہلے ملک ریاض کی ٹیپ کی خبر چلائی تھی اس نے مریم نواز کی لیکڈ آڈیو کی خبر دینے کی زحمت ہی نہیں کی۔
بڑے میڈیا گروپس جیو، دنیانیوز، ایکسپریس، ڈان وغیرہ تو اس خبر کو ہی گول کرگئے جس سے یہ تاثر دیا کہ پاکستانی میڈیا کنٹرولڈ ہے اور یہ وہی دکھانا چاہتا ہے جو ن لیگ کی حکومت چاہتی ہے۔
ملک ریاض کی مبینہ آڈیو پر ٹویٹ کرنیوالے شہبازشریف نے بھی اس پر کوئی ٹویٹ نہ کیا، مریم نواز اور ن لیگی میڈیا سیل نے بھی اس پر وضاحت دینا مناسب نہ سمجھا۔
سوشل میڈیا صارفین نے بھی میڈیا کے اس روئیے پر سوالات اٹھائے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ پاکستانی میڈیا ن لیگ نے خرید لیا ہے، اسے اشتہارات اور دیگر حربوں سے مینیج کرلیا گیا ہے یہی وجہ ہے کہ میڈیا مریم نواز کی آڈیو کا معاملہ ہی دبا گیا ہے۔
سوشل میڈیا صارفین کے مطابق پاکستانی صحافی آزادی صحافت کی بات تو کرتے ہیں لیکن سب سے زیادہ صحافتی بددیانتی یہی آزادی صحافت کی بات کرنیوالے کرتے ہیں، اس سے قبل بھی مریم نواز کی آڈیوٹیپس سامنے آئی تھیں جس میں وہ کہہ رہی تھیں کہ میں نے دنیا نیوز کے مالک میاں عامر اور جیو کے مالک میر شکیل الرحمان سے کہا ہے کہ عمران خان کی جئی تئی پھیردو۔
ان آڈیوز میں صحافیوں کو ٹوکریاں بھجوانے کی بھی بات ہوئی تھی جبکہ ارشادبھٹی اور کچھ صحافیوں کو بھونکنے والا بھی کہا گیا ہے۔
سوشل میڈیا صارفین کے مطابق پاکستانی میڈیا بے شک عمران خان کے جلسوں کو بلیک آؤٹ کرے، عمران خان کے نامناسب الفاظ پر پروگرام کرے لیکن مریم نواز کی بدزبانی پرپردہ پوشی کرے، مہنگائی پر شورشرابا نہ کرے، مریم نواز کی لیکڈآڈیو کی خبر نہ دے، ٹاک شوز نہ کرے لیکن سوشل میڈیا موجود ہے جس سے چند ہی منٹوں میں خبر پورے سوشل میڈیا پر وائرل ہوجاتی ہے۔
انکے مطابق الیکٹرانک میڈیا کے اسی روئیے نے اسکی کریڈیبلٹی کم کی ہے، کل کو جو صحافی لوگوں کے ہیرو تھے آج زیرو ہوتے جارہے ہیں۔ سوشل میڈیا تیزی سے الیکٹرانک میڈیا کی جگہ لے رہا ہے جس کی ایک مثال عمران خان کے حالیہ جلسوں کی سوشل میڈیا پر کوریج ہے۔
- Featured Thumbs
- https://www.siasat.pk/data/files/s3/maryi1i11.jpg