مالی سال 2024 میں مزید لاکھوں افراد روزگار کیلئے پاکستان چھوڑ گئے

8pakskkshojsjleapakistan.png

مالی سال 2024 میں روزگار کیلئے بیرون ملک جانے والے افراد کے حوالے سے اعدادوشمار سامنے آگئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق مالی سال 2024 میں پاکستان سے مجموعی طور پر 7 لاکھ 89 ہزار 837 افراد ذریعہ معاش تلاش کرنے کیلئے ملک چھوڑ کر دیگر ملکوں میں چلے گئے ہیں۔

اس حوالے سے بیوروآف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ کی جانب سے جاری کردہ اعدود شمار کے مطابق گزشتہ مالی سال 2023 کے دوران ملک سے بیرون ملک جانے والے افراد کی تعداد 8 لاکھ 11 ہزار 469 تھی۔


ڈپٹی ڈائریکٹر بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ نےاس حوالے سے بتایا کہ مالی سال 2024 میں روزگار کیلئے سعودی عرب کا ویزہ حاصل کرنے والوں کیلئے مسائل رہے، کیونکہ سعودی عرب نے زیادہ تر ویزے لیبر کلاس کیلئے جاری کیے جبکہ اس عرصے میں متحدہ عرب امارات نے پروفیشنل کیٹیگریز میں ویزوں کا اجراء کیا ، امریکہ اور یورپ میں پروفیشنل ورکرز کی مانگ میں اضافہ ہوا۔
 

taban

Chief Minister (5k+ posts)
ناپاک فوج کے پلید جرنیل اور فارم سینتالیس والے کنجروں کے بچے تو چاہتے ہین کہ پاکستان کے تمام کے تمام مرد پاکستان سے دفع ہو جائیں دوسرے ملکوں میں جا کر ذلیل و خوار ہو کر چند پیسے کمائیں اور فوجستان میں بھیجیں تاکہ یہ اس زرمابدلہ پر عیش کریں
 

M_Shameer

MPA (400+ posts)
یہ نالائق نکمے لوگ جو ملک چھوڑ چھوڑ کر بھاگ رہے ہیں، یہ اپنے ماں باپ کی فالتو اولاد ہوتی ہے، جن کو ان کے والدین نے نہ پوری تعلیم دی ہوتی ہے، نہ کوئی ہنر سکھایا ہوتا ہے، بس پیدا کرکے پھینک دیتے ہیں، جب یہ بڑے ہوتے ہیں تو بغیر کام کئے جھٹ سے ڈھیر سارا پیسہ کمانا چاہتے ہیں، سو یہ منہ اٹھا کر کسی نہ کسی مڈل ایسٹرن کنٹری یا پھر یورپین ملک کو چل پڑتے ہیں۔ چونکہ ان کے والدین نے ان کو تعلیم یا سکل تو دی نہیں ہوتی، لہذا وہاں ان سے بطور لیبر کتوں کی طرح کام لیا جاتا ہے ۔

اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی اولاد دوسرے ملکوں میں کتوں کی طرح ذلیل و خوار نہ ہو تو اپنی اولاد کو بہتر سے بہتر تعلیم دیں، اچھی خوراک دیں، اچھی زندگی دیں، اور اگر یہ سب کرنے کی اوقات نہیں تو بہتر ہے اولاد پیدا ہی نہ کرو۔ بچے پیدا کرنا کوئی ایسا ضروری کام نہیں کہ ہر صورت کرنا ہی کرنا ہے۔ پاکستان میں بیشتر لوگوں کی اپنی زندگی جھنڈ ہوتی ہے اوپر سے ڈھیروں بچے پیدا کرکے بیٹھ جاتے ہیں ۔۔

 

wasiqjaved

Chief Minister (5k+ posts)
یہ نالائق نکمے لوگ جو ملک چھوڑ چھوڑ کر بھاگ رہے ہیں، یہ اپنے ماں باپ کی فالتو اولاد ہوتی ہے، جن کو ان کے والدین نے نہ پوری تعلیم دی ہوتی ہے، نہ کوئی ہنر سکھایا ہوتا ہے، بس پیدا کرکے پھینک دیتے ہیں، جب یہ بڑے ہوتے ہیں تو بغیر کام کئے جھٹ سے ڈھیر سارا پیسہ کمانا چاہتے ہیں، سو یہ منہ اٹھا کر کسی نہ کسی مڈل ایسٹرن کنٹری یا پھر یورپین ملک کو چل پڑتے ہیں۔ چونکہ ان کے والدین نے ان کو تعلیم یا سکل تو دی نہیں ہوتی، لہذا وہاں ان سے بطور لیبر کتوں کی طرح کام لیا جاتا ہے ۔

اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی اولاد دوسرے ملکوں میں کتوں کی طرح ذلیل و خوار نہ ہو تو اپنی اولاد کو بہتر سے بہتر تعلیم دیں، اچھی خوراک دیں، اچھی زندگی دیں، اور اگر یہ سب کرنے کی اوقات نہیں تو بہتر ہے اولاد پیدا ہی نہ کرو۔ بچے پیدا کرنا کوئی ایسا ضروری کام نہیں کہ ہر صورت کرنا ہی کرنا ہے۔ پاکستان میں بیشتر لوگوں کی اپنی زندگی جھنڈ ہوتی ہے اوپر سے ڈھیروں بچے پیدا کرکے بیٹھ جاتے ہیں ۔۔

59fa3921de94e.jpg
 

saleema

MPA (400+ posts)
یہ نالائق نکمے لوگ جو ملک چھوڑ چھوڑ کر بھاگ رہے ہیں، یہ اپنے ماں باپ کی فالتو اولاد ہوتی ہے، جن کو ان کے والدین نے نہ پوری تعلیم دی ہوتی ہے، نہ کوئی ہنر سکھایا ہوتا ہے، بس پیدا کرکے پھینک دیتے ہیں، جب یہ بڑے ہوتے ہیں تو بغیر کام کئے جھٹ سے ڈھیر سارا پیسہ کمانا چاہتے ہیں، سو یہ منہ اٹھا کر کسی نہ کسی مڈل ایسٹرن کنٹری یا پھر یورپین ملک کو چل پڑتے ہیں۔ چونکہ ان کے والدین نے ان کو تعلیم یا سکل تو دی نہیں ہوتی، لہذا وہاں ان سے بطور لیبر کتوں کی طرح کام لیا جاتا ہے ۔

اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی اولاد دوسرے ملکوں میں کتوں کی طرح ذلیل و خوار نہ ہو تو اپنی اولاد کو بہتر سے بہتر تعلیم دیں، اچھی خوراک دیں، اچھی زندگی دیں، اور اگر یہ سب کرنے کی اوقات نہیں تو بہتر ہے اولاد پیدا ہی نہ کرو۔ بچے پیدا کرنا کوئی ایسا ضروری کام نہیں کہ ہر صورت کرنا ہی کرنا ہے۔ پاکستان میں بیشتر لوگوں کی اپنی زندگی جھنڈ ہوتی ہے اوپر سے ڈھیروں بچے پیدا کرکے بیٹھ جاتے ہیں ۔۔

Fauji banay..
 

Captain Safdar

Chief Minister (5k+ posts)
یہ نالائق نکمے لوگ جو ملک چھوڑ چھوڑ کر بھاگ رہے ہیں، یہ اپنے ماں باپ کی فالتو اولاد ہوتی ہے، جن کو ان کے والدین نے نہ پوری تعلیم دی ہوتی ہے، نہ کوئی ہنر سکھایا ہوتا ہے، بس پیدا کرکے پھینک دیتے ہیں، جب یہ بڑے ہوتے ہیں تو بغیر کام کئے جھٹ سے ڈھیر سارا پیسہ کمانا چاہتے ہیں، سو یہ منہ اٹھا کر کسی نہ کسی مڈل ایسٹرن کنٹری یا پھر یورپین ملک کو چل پڑتے ہیں۔ چونکہ ان کے والدین نے ان کو تعلیم یا سکل تو دی نہیں ہوتی، لہذا وہاں ان سے بطور لیبر کتوں کی طرح کام لیا جاتا ہے ۔

اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی اولاد دوسرے ملکوں میں کتوں کی طرح ذلیل و خوار نہ ہو تو اپنی اولاد کو بہتر سے بہتر تعلیم دیں، اچھی خوراک دیں، اچھی زندگی دیں، اور اگر یہ سب کرنے کی اوقات نہیں تو بہتر ہے اولاد پیدا ہی نہ کرو۔ بچے پیدا کرنا کوئی ایسا ضروری کام نہیں کہ ہر صورت کرنا ہی کرنا ہے۔ پاکستان میں بیشتر لوگوں کی اپنی زندگی جھنڈ ہوتی ہے اوپر سے ڈھیروں بچے پیدا کرکے بیٹھ جاتے ہیں ۔۔

Kee saarr phakyaa a... wah..