لاپتہ شہریوں کی رہائی کیلئے رقم کا مطالبہ، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا عدالت طلب

12peshawarhighscurtrks.png

پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل سنگل بینچ نے آج لاپتا شہریوں کے کیسز کی سماعت کے دوران وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو عدالت طلب کر لیا ہے۔

ذرائع کے مطابق پشاور ہائیکورٹ میں آج لاپتہ افراد کے کیسز کی سماعت کے دوران جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ایسے کیسز کی تعداد میں اضافے اور پولیس و سی ٹی ڈی حکام کی طرف سے لاپتہ شہریوں کی رہائی کیلئے پیسے طلب کرنے پر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کو طلب کر لیا ہے۔

چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ جسٹس اشتیاق ابراہیم کا لاپتہ افراد کے کیسز کی سماعت کے دوران کہنا تھا کہ علی امین گنڈاپور خیبرپختونخوا کے منتخب وزیراعلیٰ ہیں انہیں خود آکر عدالت میں اس حوالے سے پیش ہونا چاہیے۔ کیس کے حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ صوبے میں لاپتہ افراد کے کیسز روزبروز بڑھتے جا رہے ہیں، گلبرگ سے صوابی کے رہائشی کو اغوا کر کے پولیس کی طرف سے 70 لاکھ روپے طلب کیے جا رہے ہیں۔

جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کیسز کی سماعت کے حکم نامے میں کہا ہے کہ بہت سے لاپتہ شہریوں کے رشتہ داروں کی طرف سے پولیس وسی ٹی ڈی حکام کے اس معاملے میں ملوث ہونے کی شکایات سامنے آئی ہیں۔ پولیس وسی ٹی ڈی پر الزام ہے کہ وہ ان لاپتہ شہریوں کو رہا کرنے کے بدلے میں بھاری رقوم کا مطالبہ کر رہے ہیں جو ایک سنگین مسئلہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایسے واقعات میں پولیس کے خلاف شکایات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور آئے دن ایسے الزامات لگ رہے ہیں جس کے بعد عدالت کے پاس اب کوئی دوسرا حل نہیں ہے کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو عدالت میں طلب کر لیا جائے۔

عدالت کا کہنا تھا کہ ان واقعات پر خیبرپختونخوا کے منتخب وزیراعلیٰ کی حیثیت سے ان پر بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے، عدالت کو بتایا جائے کہ اس سلسلے میں وہ کیا کردار ادا کر رہے ہیں؟ اور اب تک ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے کیا اقدامات کیے گئے ہیں؟ عدالت نے اپنے حکم نامے میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کو 22 جولائی 2024ء کو طلب کیا ہے۔