لاپتہ آبدوز ٹائٹن کا پہلا ٹیسٹ ناکام اور دوسرا منسوخ کرنا پڑا تھا،انکشاف

oceansahaa.jpg

لاپتہ آبدوز ٹائٹن کے حوالے سے نئے انکشاف سامنے آگئے۔۔ لاپتہ آبدوزکے روانہ ہونے سے پہلے اس کا کسی انسپکٹر سے معائنہ نہیں کروایا گیا تھا : ذرائع

سیاحوں کو مشہور برطانوی مسافر بحری جہاز ٹائی ٹینک کا ملبہ دکھانے کیلئے بحراوقیانوس میں جانے والی آبدوز لاپتہ ہو گئی تھی جس کی تلاش کیلئے سرچ آپریشن جاری ہے۔ بحراوقیانوس میں ٹائی ٹینک بحری جہاز کا ملبہ 12 ہزار 500 کی گہرائی میں موجود ہے جسے دیکھنے جانے والے سیاحوں میں پاکستانی تاجر شہزادہ داؤد اور ان کا بیٹا سلیمان بھی جہاز میں سوار تھے۔ شہزادہ داؤد اینگرو کارپوریشن کے وائس چیئرمین ہیں، کمپنی کی طرف سے ٹویٹر پیغام بھی جاری کیا گیا تھا۔
https://twitter.com/x/status/1671050032014061568
سیاحوں کو ٹائی ٹینک دکھانے بحراوقیانوس لے جانے والی لاپتہ آبدوز میں نقائص کے انکشافات سامنے آئے ہیں۔ برطانوی وامریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق لاپتہ آبدوز نائٹن میں سمندر کی گہرائی میں اترنے پر پانی کا دبائو برداشت کرنے کی صلاحیت ہی نہیں تھی۔ لاپتہ آبدوزکے روانہ ہونے سے پہلے اس کا کسی انسپکٹر سے معائنہ نہیں کروایا گیا تھا جبکہ ماضی میں نقائص کی نشاندہی پر کمپنی ملازم کو فارغ کیا گیا تھا۔

ذرائع کے مطابق کمپنی ملازمت سے فارغ ہونے والے ملازم نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ لاپتہ آبدوز کا انتظام کرنے والی کمپنی اوشن گیٹ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سٹاک نان رش کو باقاعدہ طور پر وارننگ بھی ملی تھی کہ یہ آبدوز کسی بھی وقت سانحے کا شکار ہو سکتی ہے۔ کمپنی کے وکیل کے مطابق آبدوز کا پہلا ٹیسٹ ناکام، دوسرا ٹیسٹ منسوخ کرنا پڑا تاکہ مسائل کو دور کر سکیں بعدازاں کوئی مسائل سامنے نہیں آئے۔

سابق ملازم نے بتایا کہ آپریشن ٹیکنیشن کی مدد سے لاپتہ آبدوز کو سمندر میں چھوڑ کر جائزہ لیا گیا اور کمپنی سی ای او کے سامنے براہ راست تحفظات کا اظہار کرنے پر نوکری سے فارغ کر دیا گیا۔ عدالت کو کمپنی کے وکیل کی طرف سے بتایا گیا کہ آبدوز تیار ہونے میں 8 سال لگے جس کیلئے یونیورسٹی آف واشنگٹن کے ساتھ 50 لاکھ ڈالر کا معاہدہ ہوا تھا۔

حکام یونیورسٹی آف واشنگٹن کا کہنا ہے کہ لیبارٹری میں آبدوز تیاری کے دوران انجینئرنگ وڈیزائن کے معاملات نہیں دیکھے گئے۔ اوشن گیٹ کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سٹاک نان رش بھی لاپتہ آبدوز نائٹن میں موجود ہیں۔ سابق ملازم کا کہنا تھا کہ لاپتہ آبدوز کے معائنے کا ٹاسک مجھے دیا گیا تھا جس پر میں نے آگاہ کیا تھا کہ ٹائٹن آبدوز بارے خدشات ظاہر کیے تو کمپنی کی طرف سے کہا گیا کہ ایسے ٹیسٹ کیلئے ہمارے پاس آلات ہی دستیاب نہیں ہیں۔