فیملی وی لاگنگ کے نام پر فحش مواد کے خلاف درخواست پر پی ٹی اے سے رپورٹ طلب

10shcptajhjshsjh.png

فیملی وی لاگنگ کے نام پر سوشل میڈیا پر فحش مواد کی بھرمار کے خلاف درخواست پر سندھ ہائی کورٹ نے پی ٹی اے سے جواب طلب کرلیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق سندھ ہائی کورٹ میں فیملی وی لاگنگ کے نام فحش مواد کی بھرمار کے خلاف درخواست کی سماعت ہوئی، چیف جسٹس سندھ ہائی ورٹ جسٹس عقیل احمد عباسی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے سماعت کی، اس موقع پر پی ٹی اے کے وکیل اور دیگر فریقین عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔

دوران سماعت پی ٹی اے کے وکیل نے عدالت کو پیش رفت رپورٹ سے آگاہ کرتے ہوئے موقف اپنایا کہ 2 لاکھ سے زائد مواد کوسوشل میڈیا سے ختم کیا گیا ہے جبکہ دیگر ویب سائٹس کو بلاک کرنے کا سلسلہ بھی جاری ہے، پی ٹی اے کے پاس کوئی ایسا نظام نہیں ہے کہ غیر قانونی اور فحش مواد خود بخود ڈیلیٹ ہوجائے،عدالت مکمل رپورٹ جمع کروانے کیلئے مہلت دے۔

عدالت نے پی ٹی اے کے موقف پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسا نظام بنایا جائے جس سے غیر قانونی اور فحاشی پر مبنی مواد خود بہ خود ڈیلیٹ ہوجائے۔

درخواست گزار کے وکیل عثمان فاروق ایڈووکیٹ نے موقف دیا کہ یہ کسی ایک فرد کا مسئلہ نہیں ہے کہ پوری سوسائٹی کا مسئلہ ہے، سوشل میڈیا پلیٹ فارمزپر نوجوان نسل کو غلط سبق دیا جارہا ہے، سوشل میڈیا پر غیر اخلاقی و فحش مواد کو پروموٹ کیا جارہا ہے، ایسے مواد کو ختم کیا جائے۔

عدالت نے پی ٹی اے سے اس معاملے پر رپورٹ طلب کرکے پی ٹی اے کو فحاشی پر مبنی مواد براہ راست ہٹانے کی ہدایات دیتے ہوئے سماعت 29 مئی تک ملتوی کردی ہے۔