اوپر تصویر میں تمام پاکستانیوں کو دھشت گرد اور ملک سے باغی کہا گیا، پارلیمنٹ کے اندر
آپ کو پر امن جدوجہد پر عسکری کہا گیا
پولیس نے سینوں میں گولیاں ماریں مگر عسکری پاکستانی عوام ہے
کیا آج کے پارلیمنٹ کے اجلاس کے بعد عوام اور حکومت میں ٹینشن کم ہوئی؟؟
نہیں آج پاکستانی عوام کے ایک بار پھر یاد دھانی کرانے کی کوشش کی گئی کہ اصل حکمران پاکستان کے کرپٹ ہیں جو اس ادارے پارلیمنٹ میں جعلی مینڈیٹ لئے صرف اپنے مقاصد کی تکمیل میں مصروف ہیں۔
ایسے کسی مسئلے کو حل کرنے کی کوشش نہیں کی گئی بلکہ اپنی ہٹ دھرمی کے لئے اجلاس کیا گیا۔
تمام پارٹیاں اس بات پر متفق ہیں کہ دھاندلی ہوئی اور عمران خان کے مطالبے درست ہیں, لیکن حل اس کا کوئی نہیں
مگر جب یہی بات عمران خان پارلیمنٹ میں کر رہے تھے تو کوئی بات سننے کے لئے تیار نہیں تھا۔
آج پاکستانی پارلیمنٹ کے سامنے بیٹھے جمہوری جدوجہد کرنے والوں کو پارلیمنٹ میں کھڑے ہوکر حکومتی عہدیداروں نے دھشت گرد اور باغی کہا۔ فضلو ڈیزل نے کہا کہ سب کو روند دو۔
روندے گی تو پاکستانی عوام آپ کو بہت جلد۔ واپسی کا کوئی راستہ نہیں۔ پورا پاکستان اس آگ کی لپیٹ میں ہے اور اس کا انجام چوروں کے حتمی انجام پر ہی ہوگا۔