عمداً جھوٹی قسم کھانا

Amal

Chief Minister (5k+ posts)

عمداً جھوٹی قسم کھانے کی شدید ممانعت ۔


بے شک وہ جو اللہ کے عہد اور اپنی جھوٹی قسموں کے بدلے تھوڑی قیمت خریدتے ہیں،ان کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہے، قیامت والے دن اللہ نہ تو ان سے کلام کرے گا اور نہ ہی ان کی

طرف دیکھے گا،اور نہ ہی ان کو پاکیزہ کرے گا، اور ان کے لئے درد ناک عذاب ہے۔
سورة آل عمران٧٧


اللہ تمہاری بے مقصد (اور غیر سنجیدہ) قَسموں میں تمہاری گرفت نہیں فرماتا لیکن تمہاری ان (سنجیدہ) قَسموں پر گرفت فرماتا ہے جنہیں تم (ارادی طور پر) مضبوط کر لو، (اگر تم ایسی قَسم کو توڑ ڈالو ) تو اس کا کفّارہ دس مسکینوں کو اوسط (درجہ کا) کھانا کھلانا ہے جو تم اپنے گھر والوں کو کھلاتے ہو یا (اسی طرح) ان (مسکینوں) کو کپڑے دینا ہے یا ایک گردن (یعنی غلام یا باندی کو) آزاد کرنا ہے، پھر جسے (یہ سب کچھ) میسر نہ ہو تو تین دن روزہ رکھنا ہے۔ یہ تمہاری قَسموں کا کفّارہ ہے جب تم کھا لو (اور پھر توڑبیٹھو)،اور اپنی قَسموں کی حفاظت کیا کرو . 89 سورة المائدة


حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا: جس شخص نے کسی مسلمان آدمی کا مال ہتھیانے کے لیے ناحق قسم اٹھائی تو وہ اللہ سے اس حال میں ملاقات کرے گا کہ وہ اس پر ناراض ہو گا، حضرت ابن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں کہ پھر رسول اللہﷺ نے اس بات کی تصدیق کے لیے قرآن مجید کی یہ آیات پڑھ کر ہمیں سنائی : جو لوگ اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کے عوض تھوڑ ی سی قیمت لے لیتے ہیں ۔ ایت کے آخر۔ تک۔ (متفق علیہ) بخاری (/۳۳۵۔ فتح)و مسلم (۱۳۸) ۔


حضرت ابوا مامہ آیاس بن ثعلبہ حارثیؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: جو شخص اپنی جھوٹی قسم کے ذریعے کسی مسلمان آدمی کا حق لے لے ،تو اللہ ایسے شخص کے لیے جہنم کو واجب اور جنت کو اس پر حرام کر دیتا ہے۔ ایک آدمی نے آپ سے عرض کیا: یا رسول اللہ ! اگرچہ وہ چیز معمولی اور تھوڑ ی سی ہو؟آپ نے فرمایا: اگرچہ وہ پیلو کے درخت کی ایک شاخ ہو۔ (مسلم) (۲۱۴) ۔

حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص ؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا: بڑے بڑے گناہ یہ ہیں اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرانا ،والدین کی نافرمانی کرنا، کسی جان کو ناحق قتل کرنا، اور جھوٹی قسم اٹھانا۔ (بخاری) اور ایک اور روایت میں ہے : ایک دیہاتی نبیﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس نے عرض کیا : یا رسول اللہ! بڑے بڑے گناہ کون سے ہیں ؟ آپ نے فرمایا: اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرانا، اس نے عرض کیا :پھر کون سا؟آپ نے فرمایا: جھوٹی قسم۔ راوی کہتے ہیں : میں نے عرض کیا :جھوٹی قسم کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا: جو کسی مسلمان آدمی کا مال لے لے یعنی ایسی قسم کے ساتھ مال لے لے جس میں وہ جھوٹا ہو۔ بخاری (۳۳۷) .


اللَّهُمَّ رَحْمَتَكَ أَرْجُو، فَلَا تَكِلْنِي إِلَى نَفْسِي طَرْفَةَ عَيْنٍ، وَأَصْلِحْ لِي شَأْنِي كُلَّهُ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ
سنن ابی داؤد:5090، مسند احمد:5/ 42

اے اللہ میں تیری ہی رحمت کی امید کرتا ہوں، مجھے لحظہ بھر بھی میرے نفس کے سپرد نہ کر، میری مکمل حالت درست فرمادے، تیرے علاوہ کوئی سچا معبود نہیں۔




12985583_1081071935284831_3470074020313678088_n.jpg
 
Last edited: