شہریوں کو 7ہزار میں مکمل سولر سسٹم ملے گا، سندھ حکومت کا بڑا اعلان

sola11h1h21.jpg


سندھ حکومت نے صوبے کے عوام کیلئے بڑا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہریوں کو صرف 7ہزار روپے میں مکمل سولر سسٹم فراہم کیا جائے گا۔

خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق سندھ حکومت نے ورلڈ بینک کے تعاون سے سندھ کے عوام کو سستے داموں سولر سسٹم فراہم کرنے کا منصوبہ شروع کیا ہے، اس منصوبے کے تحت کراچی کے 50 ہزار گھرانوں سمیت سندھ کے 2 لاکھ گھرانوں کو سولر سسٹم فراہم کیا جائے گا۔

رپورٹ کے مطابق ہر گھرانے کو 7 ہزارروپے میں سولر سسٹم فراہم کیا جائے گااس سسٹم سے گھر کا ایک پنکھا اور 3 ایل ای ڈی بلب جلائے جاسکتے ہیں، سسٹم میں سولر پینل، بیٹری اور چارج کنٹرولر شامل ہوگا۔

منصوبے کی تفصیلات بتاتے ہوئے ڈائریکٹر سندھ سولرا نرجی کا کہنا تھا کہ سندھ کے ہر ضلع میں 6ہزار 656 سولر سسٹم تقسیم کیے جائیں گے، اکتوبر میں اس منصوبے کا آغاز ہوجائے گا، جیسے ہی حکومت کی خریداری مکمل ہوجائے گی شہریوں میں اس کی تقسیم شروع کردی جائے گی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ منصوبے کیلئے ورلڈ بینک نے سندھ حکومت کو 3 کروڑ 20لاکھ ڈالرز کے فنڈز جاری کردیئے ہیں، منصوبے کی کامیابی کو دیکھتے ہوئے اس میں مزید توسیع بھی کی جاسکتی ہے۔
 

zaheer2003

Chief Minister (5k+ posts)
YEAR-END LEVELS
END PERIODNET RESERVES WITH SBPNET RESERVES WITH BANKSTOTAL LIQUID
FX RESERVES
1998-991,672.7616.52,289.2
1999-00997.0976.61,973.6
2000-011,688.91,542.63,231.5
2001-024,337.42,098.26,435.6
2002-039,529.11,240.610,769.7
2003-0410,563.91,825.412,389.3
2004-059,804.72,792.912,597.6
2005-0610,765.22,357.213,122.4
2006-0713,345.42,301.815,647.2
2007-088,577.02,821.711,398.7
2008-099,117.93,307.312,425.2
2009-1012,958.23,792.216,750.4
2010-1114,783.63,460.218,243.8
2011-1210,803.34,485.415,288.7
2012-136,008.45,011.111,019.5
2013-149,097.55,043.614,141.1
2014-1513,525.75,173.518,699.2
2015-1618,142.64,955.923,098.5
2016-1716,144.85,258.121,402.9
2017-18R9,765.26,618.416,383.6
2018-19R7,285.27,196.414,481.6
2019-20R12,132.06,754.418,886.4
2020-21R17,298.67,099.024,397.6
2021-22R9,814.65,635.215,449.8
2022-234,445.14,714.99,160.0
جو اسٹیٹ بینک کی رپورٹ لگائی ہے وہ خود پڑھ لو - یہ نو اشاریہ دو ارب ڈالر دو ہزار بائیس تیئس کے ذخائر شو کر رہی ہے

پھر وہی چالاکی کہ سال با سال کا ایوریج لگا دیا۔۔
اس سے بہتر رپورٹ موجود ہے کہ جس دن خان کی گورنمنٹ گئی اس دن خزانے میں کتنے پیسے تھے
END PERIODNET RESERVES WITH SBPNET RESERVES WITH BANKSTOTAL LIQUID
FX RESERVES
1-Jun-1810,041.66,378.016,419.6Mian Sanp ended
11-Mar-2215,831.66,451.822,283.4Day after VON Came and all Govt work stopped
16-Jun-233,536.95,326.98,863.8Showbaaz Low


کہاں گئے ۱۲ بلین جب امپورٹ بھی بند تھی
 

Awan S

Chief Minister (5k+ posts)
پھر وہی چالاکی کہ سال با سال کا ایوریج لگا دیا۔۔
اس سے بہتر رپورٹ موجود ہے کہ جس دن خان کی گورنمنٹ گئی اس دن خزانے میں کتنے پیسے تھے
END PERIODNET RESERVES WITH SBPNET RESERVES WITH BANKSTOTAL LIQUID
FX RESERVES
1-Jun-1810,041.66,378.016,419.6Mian Sanp ended
11-Mar-2215,831.66,451.822,283.4Day after VON Came and all Govt work stopped
16-Jun-233,536.95,326.98,863.8Showbaaz Low


کہاں گئے ۱۲ بلین جب امپورٹ بھی بند تھی
آپ جو بتاتے ہو اس میں جواب ہوتا ہے - جب خان صاحب گئے تو سولہ ارب ڈالر کے ذخائر تھے کم و بیش اس میں سے دس سے کم اسٹیٹ بینک اور باقی دیگر بینکوں کے اثاثے تھے - امپورٹ بند کا یہ ہر گز یہ مطلب نہیں مکمل بند بلکے وہ چیزیں جو زیادہ مہنگی ہیں اور ان کی امپورٹ پر ڈالر زیادہ خرچ ہوتے ہیں مثال کے طور پر مہنگی گھڑیاں مہنگے فون وغیرہ ان کی لسٹ بنا کر ان کو بین کیا گیا - باقی ضروری چیزیں بحال رکھی گئیں - آپ جہاں بھی جایئں آپ کو یہی فگر ملیں گے - ڈالر کی کمی مہنگی عیاشی والی چیزیں امپورٹ کرنے کی وجہ سے تھی جو برائے راست مہنگائی سے جڑا ہے -
 

zaheer2003

Chief Minister (5k+ posts)
آپ جو بتاتے ہو اس میں جواب ہوتا ہے - جب خان صاحب گئے تو سولہ ارب ڈالر کے ذخائر تھے کم و بیش اس میں سے دس سے کم اسٹیٹ بینک اور باقی دیگر بینکوں کے اثاثے تھے - امپورٹ بند کا یہ ہر گز یہ مطلب نہیں مکمل بند بلکے وہ چیزیں جو زیادہ مہنگی ہیں اور ان کی امپورٹ پر ڈالر زیادہ خرچ ہوتے ہیں مثال کے طور پر مہنگی گھڑیاں مہنگے فون وغیرہ ان کی لسٹ بنا کر ان کو بین کیا گیا - باقی ضروری چیزیں بحال رکھی گئیں - آپ جہاں بھی جایئں آپ کو یہی فگر ملیں گے - ڈالر کی کمی مہنگی عیاشی والی چیزیں امپورٹ کرنے کی وجہ سے تھی جو برائے راست مہنگائی سے جڑا ہے -
میں نے آپ کو جو جواب دیا وہ آپ سمجھنا ہی نہیں چاہتے۔

چلیں جو باتیں اس جواب میں لکھی ہیں وہ ہی کسی کاغذ سے ثابت کر دیں کہ عمران خان مہنگی عیاشی والی چیزیں امپورٹ کر رہا تھا

اور جب عمران کی گورنمنٹ پر فل سٹاپ لگا اس وقت ۱۵ ارب سے زیادہ حکومت کے پیسے تھے۔ وہ شوباز 3 ارب سے بھی نیچے لے گیا تو کہاں استعمال کیا ان ۱۳ ارب کا کوئی کاغذی ڈیٹیل بتاو۔ سیاسی بیانیہ والی بات نہ دہرائی جاو​

END PERIODNET RESERVES WITH SBPNET RESERVES WITH BANKSTOTAL LIQUID
FX RESERVES
1-Jun-1810,041.66,378.016,419.6Mian Sanp ended
11-Mar-2215,831.66,451.822,283.4Day after VON Came and all Govt work stopped
3-Feb-232,916.75,622.98,539.6
 
Last edited:

Awan S

Chief Minister (5k+ posts)
میں نے آپ کو جو جواب دیا وہ آپ سمجھنا ہی نہیں چاہتے۔

چلیں جو باتیں اس جواب میں لکھی ہیں وہ ہی کسی کاغذ سے ثابت کر دیں کہ عمران خان مہنگی عیاشی والی چیزیں امپورٹ کر رہا تھا

اور جب عمران کی گورنمنٹ پر فل سٹاپ لگا اس وقت ۱۵ ارب سے زیادہ حکومت کے پیسے تھے۔ وہ شوباز 3 ارب سے بھی نیچے لے گیا تو کہاں استعمال کیا ان ۱۳ ارب کا کوئی کاغذی ڈیٹیل بتاو۔ سیاسی بیانیہ والی بات نہ دہرائی جاو​

END PERIODNET RESERVES WITH SBPNET RESERVES WITH BANKSTOTAL LIQUID
FX RESERVES
1-Jun-1810,041.66,378.016,419.6Mian Sanp ended
11-Mar-2215,831.66,451.822,283.4Day after VON Came and all Govt work stopped
3-Feb-232,916.75,622.98,539.6
مجھے نہیں پتا جان بوجھ کر یا غلطی سے نمبرز غلط گن رہے ہو -شکر ہے بایئس ارب سے پندرہ ارب پر تو آئے - یہ جو پندرہ سے سولہ ارب کے درمیان ذخائر تھے خان کے جاتے وقت ان میں اسٹیٹ بینک اور نجی بینکوں دونوں کے ذخائر شامل تھے جبکے جو چار ارب سے کم کہہ رہے ہو وہ صرف اسٹیٹ بینک کے ذخائر تھے - تمہارے اپنے گراف کے مطابق جب خان گیا تو اسٹیٹ بینک کے ذخائر نو اشاریہ دو ارب ڈالر تھے جو بھد میں چار ارب کے قریب رہ گئے - یہ سب قرض کی قسطیں ادا کرنے کی وجہ سے ہوا - کیونکے نئے قرض ملے نہیں اور پرانے قرضوں کی قسط ہر ہفتے جاتی رہی - ٹوٹل قرض خان دور میں دس ارب ڈالر فی سال بڑھے لیکن بھد میں قرض نہیں ملے تو اگلے ایک سال میں قرض دو ارب ڈالر کم ہوئے اور پرانے لیول پر آ گئے - یوں خان حکومت کے جانے کے بھد قرض دس ارب سالانہ کی بجائے زیرو ڈالر سالانہ سے بڑھے - یہاں بیرونی قرضوں کوبڑی بریک لگی - اب خان حکومت جانے کے بھد اب تک کی بات کریں کیا ہوا ؟
یہ لو قرضوں کا ثبوت :
(set it on 5 year)
 

zaheer2003

Chief Minister (5k+ posts)
مجھے نہیں پتا جان بوجھ کر یا غلطی سے نمبرز غلط گن رہے ہو -شکر ہے بایئس ارب سے پندرہ ارب پر تو آئے - یہ جو پندرہ سے سولہ ارب کے درمیان ذخائر تھے خان کے جاتے وقت ان میں اسٹیٹ بینک اور نجی بینکوں دونوں کے ذخائر شامل تھے جبکے جو چار ارب سے کم کہہ رہے ہو وہ صرف اسٹیٹ بینک کے ذخائر تھے - تمہارے اپنے گراف کے مطابق جب خان گیا تو اسٹیٹ بینک کے ذخائر نو اشاریہ دو ارب ڈالر تھے جو بھد میں چار ارب کے قریب رہ گئے - یہ سب قرض کی قسطیں ادا کرنے کی وجہ سے ہوا - کیونکے نئے قرض ملے نہیں اور پرانے قرضوں کی قسط ہر ہفتے جاتی رہی - ٹوٹل قرض خان دور میں دس ارب ڈالر فی سال بڑھے لیکن بھد میں قرض نہیں ملے تو اگلے ایک سال میں قرض دو ارب ڈالر کم ہوئے اور پرانے لیول پر آ گئے - یوں خان حکومت کے جانے کے بھد قرض دس ارب سالانہ کی بجائے زیرو ڈالر سالانہ سے بڑھے - یہاں بیرونی قرضوں کوبڑی بریک لگی - اب خان حکومت جانے کے بھد اب تک کی بات کریں کیا ہوا ؟
یہ لو قرضوں کا ثبوت :
(set it on 5 year)
انتہا ہے ڈھیٹ پن کی۔ مارچ ۲۰۲۲ میں عدم اعتماد آنے کے وقت حکومت کوئی انتظامی کام نہیں کر سکتی تھی اور تب ذخائر سولہ ارب کے پاس تھے صرف گورنمنٹ کے۔

END PERIODNET RESERVES WITH SBPNET RESERVES WITH BANKSTOTAL LIQUID
FX RESERVES
1-Jun-1810,041.66,378.016,419.6Mian Sanp ended
11-Mar-2215,831.66,451.822,283.4Day after VON Came and all Govt work stopped
3-Feb-232,916.75,622.98,539.6

پہلے کہتے رہے کہ خان نے پیسہ امپورٹ میں جھونکا اور پھر کہتا کہ شوباز قرضے ادا کرتا رہا۔

ثبوت لایا بھی تو تھرڈ پارٹی ویب سائٹ سے۔۔۔

یہ ویب سائٹ ڈیٹا کہاں سے لیتی ہے یہ ہی پتہ کر لے اور پھر لا حکومتی ڈیٹا اور اپنی بات کو ثابت کر پڑھے لکھے۔۔۔۔۔۔۔
 

zaheer2003

Chief Minister (5k+ posts)
مجھے نہیں پتا جان بوجھ کر یا غلطی سے نمبرز غلط گن رہے ہو -شکر ہے بایئس ارب سے پندرہ ارب پر تو آئے - یہ جو پندرہ سے سولہ ارب کے درمیان ذخائر تھے خان کے جاتے وقت ان میں اسٹیٹ بینک اور نجی بینکوں دونوں کے ذخائر شامل تھے جبکے جو چار ارب سے کم کہہ رہے ہو وہ صرف اسٹیٹ بینک کے ذخائر تھے - تمہارے اپنے گراف کے مطابق جب خان گیا تو اسٹیٹ بینک کے ذخائر نو اشاریہ دو ارب ڈالر تھے جو بھد میں چار ارب کے قریب رہ گئے - یہ سب قرض کی قسطیں ادا کرنے کی وجہ سے ہوا - کیونکے نئے قرض ملے نہیں اور پرانے قرضوں کی قسط ہر ہفتے جاتی رہی - ٹوٹل قرض خان دور میں دس ارب ڈالر فی سال بڑھے لیکن بھد میں قرض نہیں ملے تو اگلے ایک سال میں قرض دو ارب ڈالر کم ہوئے اور پرانے لیول پر آ گئے - یوں خان حکومت کے جانے کے بھد قرض دس ارب سالانہ کی بجائے زیرو ڈالر سالانہ سے بڑھے - یہاں بیرونی قرضوں کوبڑی بریک لگی - اب خان حکومت جانے کے بھد اب تک کی بات کریں کیا ہوا ؟
یہ لو قرضوں کا ثبوت :
(set it on 5 year)
اور پاکستان میں ہر حکومت کو پیسہ خود لانا پڑتا ہے۔ اگر شوباز کو دس ارب بھی ملے تھے تو یہ دیوالیہ کیسے ہوا ملک ----خود جون ۲۰۲۲ میں آئی ایم ایف سے پیسے ملنے کا معاہدہ ہو گیا تھا۔۔۔

 

Awan S

Chief Minister (5k+ posts)
اور پاکستان میں ہر حکومت کو پیسہ خود لانا پڑتا ہے۔ اگر شوباز کو دس ارب بھی ملے تھے تو یہ دیوالیہ کیسے ہوا ملک ----خود جون ۲۰۲۲ میں آئی ایم ایف سے پیسے ملنے کا معاہدہ ہو گیا تھا۔۔۔


جب آپ کو سمجھ آ جاتی بات تو اعتراف کرنے کی بجانے کسی اور طرف نکل جاتے ہیں جو محلومات تصدیق شدہ نہیں ہوتی - میں نے کہا آگے کی بات کرتے ہیں خان حکومت کے جانے کے بھد کے دو سال - جیسے کہ میں لکھ چکا ہوں خان حکومت میں جو قرض دس ارب ڈالر سالانہ بڑھ رہے تھے اگلے دو سال میں مزید نہیں بڑھے -بیس ارب ڈالر کا یہاں فرق پڑ گیا - اسٹاک مارکیٹ جو خان حکومت کے ساڑھے تین سال میں چالیس سے پینتالیس ہزار پوائنٹس میں رہی - پچھلے دو سال میں ستر ہزار پوائنٹس ہو چکی ہے جس سے کاروبار ، کمپنیوں اور انڈسٹری کی ترقی ظاہر ہوتی ہے - مہنگائی جو چالیس فیصد کے قریب گئی مگر اب صرف پچھلے ایک سال میں بیس فیصد کے قریب آ چکی ہے اور ہر سال اس میں پانچ فیصد کمی ہو گی - عام آدمی کے لئے یہ سب سے اہم ہے - کمپنیوں کی ترقی سے بے روزگاری میں کمی آ رہی ہے - زراعت میں بہتری آئی ہے کیونکے فصلیں اس سال اچھی ہوئی ہیں - ڈالر پچھلے ایک سال سے کم بیش وہاں پر ہی ہے جہاں پر سال پہلے تھا -ان سب کے ثبوت حاضر
ہیں :
(set all on past five years)





 

zaheer2003

Chief Minister (5k+ posts)
جب آپ کو سمجھ آ جاتی بات تو اعتراف کرنے کی بجانے کسی اور طرف نکل جاتے ہیں جو محلومات تصدیق شدہ نہیں ہوتی - میں نے کہا آگے کی بات کرتے ہیں خان حکومت کے جانے کے بھد کے دو سال - جیسے کہ میں لکھ چکا ہوں خان حکومت میں جو قرض دس ارب ڈالر سالانہ بڑھ رہے تھے اگلے دو سال میں مزید نہیں بڑھے -بیس ارب ڈالر کا یہاں فرق پڑ گیا - اسٹاک مارکیٹ جو خان حکومت کے ساڑھے تین سال میں چالیس سے پینتالیس ہزار پوائنٹس میں رہی - پچھلے دو سال میں ستر ہزار پوائنٹس ہو چکی ہے جس سے کاروبار ، کمپنیوں اور انڈسٹری کی ترقی ظاہر ہوتی ہے - مہنگائی جو چالیس فیصد کے قریب گئی مگر اب صرف پچھلے ایک سال میں بیس فیصد کے قریب آ چکی ہے اور ہر سال اس میں پانچ فیصد کمی ہو گی - عام آدمی کے لئے یہ سب سے اہم ہے - کمپنیوں کی ترقی سے بے روزگاری میں کمی آ رہی ہے - زراعت میں بہتری آئی ہے کیونکے فصلیں اس سال اچھی ہوئی ہیں - ڈالر پچھلے ایک سال سے کم بیش وہاں پر ہی ہے جہاں پر سال پہلے تھا -ان سب کے ثبوت حاضر
ہیں :
(set all on past five years)





خان حکومت میں جو قرض دس ارب ڈالر سالانہ بڑھ رہے تھے اگلے دو سال میں مزید نہیں بڑھے

ایک ہی تھرڈ پارٹی ویب سائٹ پکڑ کر بیٹھ گئے ہو اور بتا بھی نہیں رہے کہ یہ ویب سائٹ کہاں سے
ڈیٹا لیتی ہے۔۔۔۔

ڈان اخبار کی رپورٹ نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے حوالے سے بتایا کہ رواں مالی سال یکم جولائی تا 5 اپریل کے دوران حکومت نے کمرشل بینکوں سے ریکارڈ 55 کھرب روپے کا قرضہ لیا۔

۲۲ پرسنٹ سود پر یہ قرضہ اٹھایا جا رہا ہے اور بنک پھل پھول رہے ہیں اسٹاک مارکیٹ میں

کمپنیوں کی ترقی سے بے روزگاری میں کمی آ رہی ہے

زرا آج کی تاریخ میں یہ نمبرز کیا ہیں بتا دو تاکہ پتہ چل جائے آپ کے دعوی کا۔

GDUmZ8AX0AAV9nV
 

Awan S

Chief Minister (5k+ posts)
خان حکومت میں جو قرض دس ارب ڈالر سالانہ بڑھ رہے تھے اگلے دو سال میں مزید نہیں بڑھے

ایک ہی تھرڈ پارٹی ویب سائٹ پکڑ کر بیٹھ گئے ہو اور بتا بھی نہیں رہے کہ یہ ویب سائٹ کہاں سے
ڈیٹا لیتی ہے۔۔۔۔

ڈان اخبار کی رپورٹ نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے حوالے سے بتایا کہ رواں مالی سال یکم جولائی تا 5 اپریل کے دوران حکومت نے کمرشل بینکوں سے ریکارڈ 55 کھرب روپے کا قرضہ لیا۔

۲۲ پرسنٹ سود پر یہ قرضہ اٹھایا جا رہا ہے اور بنک پھل پھول رہے ہیں اسٹاک مارکیٹ میں

کمپنیوں کی ترقی سے بے روزگاری میں کمی آ رہی ہے

زرا آج کی تاریخ میں یہ نمبرز کیا ہیں بتا دو تاکہ پتہ چل جائے آپ کے دعوی کا۔

GDUmZ8AX0AAV9nV
صرف اپنے مطلب کی بات بتاتے ہو ایکسپورٹ پیتالیس فیصد بڑھ گئی درست مگر امپورٹ ایکسپورٹ کا فرق بڑھتا گیا اور یہ آخر میں پچاس ارب ڈالر کے قریب آ گیا - چیک کر لو - آپ ایک ایک ارب ڈالر کے لئے آئی ایم ایف کے آگے بھیک مانگتے ہو اور کہاں پچاس ارب ڈالر کا فرق - اور جو یہ بڑھ گیا وہ بڑھ گیا سب امپورٹ سے جڑا ہے جب آپ اتنی پہاڑ جتنی امپورٹ کرتے ہیں تو ملک میں کاروبار کھل جاتے ہیں سیلز بڑھتی ہیں امپورٹ ڈیوٹی ملنے سے سب سیکٹرز کو آپ سبسڈی دے کر پیداوار بڑھا سکتے ہیں جس سے مال بنانے والوں کو مال سستا پڑتا ہے اور کچھ ایکسپورٹ بھی بڑھ جاتی ہے - یوں امپورٹ کے سر پر یہ چھ فیصد جی ڈی پی حاصل کی گئی -مگر یہ عارضی ہوتا ہے کیونکے جیسے ہی آپ کے پاس ڈالر ختم ہونگے آپ مزید ڈالر کہاں سے لائینگے ؟ زر مبادلہ کے ذخائر جو ستائیس ارب ڈالر تک جا چکے تھے خان حکومت انہیں بیرونی قرض واپس کرنے کے لئے اور صرف ضروری امپورٹ کے لئے استعمال کرتی تو ملک میں ڈالر کا قحط نہ پڑتا ڈالر کی کمی سے سپلائی اور ڈیمانڈ قانون کی وجہ سے ڈالر ریٹ چڑھا اور مہنگائی آسمان کو چھو گئی -مہنگائی اور بینکرپسی تک پوھنچنے میں خان حکومت کا بہت بڑا ہاتھ ہے - میں نہایت ایمانداری سے تجزیہ کر رہا ہوں - اس کے بھد کی حکومت سے ہونے والی غلطیوں اور خان حکومت کے اچھے کاموں پر بھی لکھ سکتا ہوں -
صرف یہ ویب سائٹ استعمال کرنے کی وجہ یہ ہے کہ اس کے پاس مئی دو ہزار چوبیس تک کا ڈیٹا ہے باقی کچھ پیچھے ہیں لیکن پرانا ڈیٹا سب کا ملتا ہے - سورس کے بارے میں :

 

zaheer2003

Chief Minister (5k+ posts)
صرف اپنے مطلب کی بات بتاتے ہو ایکسپورٹ پیتالیس فیصد بڑھ گئی درست مگر امپورٹ ایکسپورٹ کا فرق بڑھتا گیا اور یہ آخر میں پچاس ارب ڈالر کے قریب آ گیا - چیک کر لو - آپ ایک ایک ارب ڈالر کے لئے آئی ایم ایف کے آگے بھیک مانگتے ہو اور کہاں پچاس ارب ڈالر کا فرق - اور جو یہ بڑھ گیا وہ بڑھ گیا سب امپورٹ سے جڑا ہے جب آپ اتنی پہاڑ جتنی امپورٹ کرتے ہیں تو ملک میں کاروبار کھل جاتے ہیں سیلز بڑھتی ہیں امپورٹ ڈیوٹی ملنے سے سب سیکٹرز کو آپ سبسڈی دے کر پیداوار بڑھا سکتے ہیں جس سے مال بنانے والوں کو مال سستا پڑتا ہے اور کچھ ایکسپورٹ بھی بڑھ جاتی ہے - یوں امپورٹ کے سر پر یہ چھ فیصد جی ڈی پی حاصل کی گئی -مگر یہ عارضی ہوتا ہے کیونکے جیسے ہی آپ کے پاس ڈالر ختم ہونگے آپ مزید ڈالر کہاں سے لائینگے ؟ زر مبادلہ کے ذخائر جو ستائیس ارب ڈالر تک جا چکے تھے خان حکومت انہیں بیرونی قرض واپس کرنے کے لئے اور صرف ضروری امپورٹ کے لئے استعمال کرتی تو ملک میں ڈالر کا قحط نہ پڑتا ڈالر کی کمی سے سپلائی اور ڈیمانڈ قانون کی وجہ سے ڈالر ریٹ چڑھا اور مہنگائی آسمان کو چھو گئی -مہنگائی اور بینکرپسی تک پوھنچنے میں خان حکومت کا بہت بڑا ہاتھ ہے - میں نہایت ایمانداری سے تجزیہ کر رہا ہوں - اس کے بھد کی حکومت سے ہونے والی غلطیوں اور خان حکومت کے اچھے کاموں پر بھی لکھ سکتا ہوں -
صرف یہ ویب سائٹ استعمال کرنے کی وجہ یہ ہے کہ اس کے پاس مئی دو ہزار چوبیس تک کا ڈیٹا ہے باقی کچھ پیچھے ہیں لیکن پرانا ڈیٹا سب کا ملتا ہے - سورس کے بارے میں :

میں پھر درخواست کروں گا کہ کرنٹ اکاونٹ کے بارے میں تھوڑا پڑھ لو وہ امپورٹ ایکسپورٹ ، ریمیٹنس اور قرضوں کی ادیئیگی کے بعد کا بیلینس ہوتا ہے جو میاں سانپ ۱۹۔۵ بلین تک لے گئے۔ اب آپ کی سمجھ کے مطابق تو خان نے امپورٹ زیادہ کرکے ترقی دکھائی اور اس چکر میں انڈسٹری بھی چل گئی اور تھوڑی بہت ایکسپورٹ بھی بڑھ گئی۔ اور لوگوں کو تین سال میں ۵۵ لاکھ نوکریاں بھی مل گئیں۔ شوباز نے آ کر امپورٹ روک دی کیونکہ سولہ بلین ڈالر کا حکومتی خزانہ کم تھا اور پھر کئی لاکھ لوگ بے روزگار ہو گئے

انڈسٹری بھی آسمان سے نیچے آگئی اور کئی کمپنیاں ملک سے بھاگ گئیں۔ ساتھ ہی فارن انویسٹمنٹ ۵۰ سال کی کم ترین لیول تک آ گئی۔

ملاحظ کیجئیے میاں سانپ کے دور کی چھ پرسنٹ ترقی بنا ایکسپورٹ اور انڈسٹری بڑھائے۔

14.08 Exports & Imports of Pakistan
Value in Million U.S.$
Years Exports ImportsExportsImports
2013-201425,11045,073
2017-201823,21260,795

اب یہ سائینس تم ہی سمجھاو نہ تمھارے مطابق امپورٹ زیادہ بڑھی نہ ایکسپورٹ تو ترقی کہاں سے آگئی ؟
 

Awan S

Chief Minister (5k+ posts)
میں پھر درخواست کروں گا کہ کرنٹ اکاونٹ کے بارے میں تھوڑا پڑھ لو وہ امپورٹ ایکسپورٹ ، ریمیٹنس اور قرضوں کی ادیئیگی کے بعد کا بیلینس ہوتا ہے جو میاں سانپ ۱۹۔۵ بلین تک لے گئے۔ اب آپ کی سمجھ کے مطابق تو خان نے امپورٹ زیادہ کرکے ترقی دکھائی اور اس چکر میں انڈسٹری بھی چل گئی اور تھوڑی بہت ایکسپورٹ بھی بڑھ گئی۔ اور لوگوں کو تین سال میں ۵۵ لاکھ نوکریاں بھی مل گئیں۔ شوباز نے آ کر امپورٹ روک دی کیونکہ سولہ بلین ڈالر کا حکومتی خزانہ کم تھا اور پھر کئی لاکھ لوگ بے روزگار ہو گئے

انڈسٹری بھی آسمان سے نیچے آگئی اور کئی کمپنیاں ملک سے بھاگ گئیں۔ ساتھ ہی فارن انویسٹمنٹ ۵۰ سال کی کم ترین لیول تک آ گئی۔

ملاحظ کیجئیے میاں سانپ کے دور کی چھ پرسنٹ ترقی بنا ایکسپورٹ اور انڈسٹری بڑھائے۔

14.08 Exports & Imports of Pakistan
Value in Million U.S.$
Years Exports ImportsExportsImports
2013-201425,11045,073
2017-201823,21260,795

اب یہ سائینس تم ہی سمجھاو نہ تمھارے مطابق امپورٹ زیادہ بڑھی نہ ایکسپورٹ تو ترقی کہاں سے آگئی ؟
yeh lo current account khasara Khan hakumat ke akhir aur is ke bhd stable deikh lo -
 

Awan S

Chief Minister (5k+ posts)
میں پھر درخواست کروں گا کہ کرنٹ اکاونٹ کے بارے میں تھوڑا پڑھ لو وہ امپورٹ ایکسپورٹ ، ریمیٹنس اور قرضوں کی ادیئیگی کے بعد کا بیلینس ہوتا ہے جو میاں سانپ ۱۹۔۵ بلین تک لے گئے۔ اب آپ کی سمجھ کے مطابق تو خان نے امپورٹ زیادہ کرکے ترقی دکھائی اور اس چکر میں انڈسٹری بھی چل گئی اور تھوڑی بہت ایکسپورٹ بھی بڑھ گئی۔ اور لوگوں کو تین سال میں ۵۵ لاکھ نوکریاں بھی مل گئیں۔ شوباز نے آ کر امپورٹ روک دی کیونکہ سولہ بلین ڈالر کا حکومتی خزانہ کم تھا اور پھر کئی لاکھ لوگ بے روزگار ہو گئے

انڈسٹری بھی آسمان سے نیچے آگئی اور کئی کمپنیاں ملک سے بھاگ گئیں۔ ساتھ ہی فارن انویسٹمنٹ ۵۰ سال کی کم ترین لیول تک آ گئی۔

ملاحظ کیجئیے میاں سانپ کے دور کی چھ پرسنٹ ترقی بنا ایکسپورٹ اور انڈسٹری بڑھائے۔

14.08 Exports & Imports of Pakistan
Value in Million U.S.$
Years Exports ImportsExportsImports
2013-201425,11045,073
2017-201823,21260,795

اب یہ سائینس تم ہی سمجھاو نہ تمھارے مطابق امپورٹ زیادہ بڑھی نہ ایکسپورٹ تو ترقی کہاں سے آگئی ؟
سب کچھ سمجھ آ رہی ہے آپ کو صرف ضد پر اڑے ہو - سارے فنانشل indicator خان حکومت جانے کے بھد دیکھو اور اب دیکھو - میں نے مکمل تفصیل دے دی - کبھی چھلانگ مار کر ادھر جاتے ہو کبھی چھلانگ مار کر ادھر - سمجھ آ گئی - محیشت کی سمجھ ہے تمھیں بس میں نہ مانوں ہے اور اس کا کوئی علاج نہیں - خدا حافظ
 

Awan S

Chief Minister (5k+ posts)
میں پھر درخواست کروں گا کہ کرنٹ اکاونٹ کے بارے میں تھوڑا پڑھ لو وہ امپورٹ ایکسپورٹ ، ریمیٹنس اور قرضوں کی ادیئیگی کے بعد کا بیلینس ہوتا ہے جو میاں سانپ ۱۹۔۵ بلین تک لے گئے۔ اب آپ کی سمجھ کے مطابق تو خان نے امپورٹ زیادہ کرکے ترقی دکھائی اور اس چکر میں انڈسٹری بھی چل گئی اور تھوڑی بہت ایکسپورٹ بھی بڑھ گئی۔ اور لوگوں کو تین سال میں ۵۵ لاکھ نوکریاں بھی مل گئیں۔ شوباز نے آ کر امپورٹ روک دی کیونکہ سولہ بلین ڈالر کا حکومتی خزانہ کم تھا اور پھر کئی لاکھ لوگ بے روزگار ہو گئے

انڈسٹری بھی آسمان سے نیچے آگئی اور کئی کمپنیاں ملک سے بھاگ گئیں۔ ساتھ ہی فارن انویسٹمنٹ ۵۰ سال کی کم ترین لیول تک آ گئی۔

ملاحظ کیجئیے میاں سانپ کے دور کی چھ پرسنٹ ترقی بنا ایکسپورٹ اور انڈسٹری بڑھائے۔

14.08 Exports & Imports of Pakistan
Value in Million U.S.$
Years Exports ImportsExportsImports
2013-201425,11045,073
2017-201823,21260,795

اب یہ سائینس تم ہی سمجھاو نہ تمھارے مطابق امپورٹ زیادہ بڑھی نہ ایکسپورٹ تو ترقی کہاں سے آگئی ؟
تھوڑا وقت تھا تو میں نے کہا ذرا یہ بتا دوں میاں صاحب کے دور میں کیسے جی ڈی پی حاصل ہوئی ، جی بلکل انھیں نے بھی ایسے ہی امپورٹ بڑھا کر کی لیکن فرق یہ تھا کہ انہوں نے ائستہ کی اگر ان کے پانچ سال دیکھو جی ڈیپانچ سال میں تین فیصد سے چھ فیصد پوھنچی جس سے پیسے آتے رہے جاتے رہے ایک دم ڈالر کا قحط نہیں پڑا - اگرچے وہ بھی غلط تھا مگر کم نقصان دہ تھا - ایک اور بات ٹوٹل جی ڈی پی اور قرض بھی نسبتا کم تھے - جب خان صاحب نے اپنے دور میں کچھ غیر ضروری چیزوں کی امپورٹ پر پابندی لگائی تو inflation جو نواز حکومت چار فیصد پر چھوڑ کر گئی صرف دس فیصد تک بڑھی - یاد رہے میاں صاحب چار فیصد پر مہنگائی چھوڑ کر گئے -
خان دور میں ایک دم زیرو سے چھ فیصد پر گروتھ کر دی صرف ڈیڑھ سال میں - زرمبادلہ کے ذخائر جو ستائیس فیصد تھے ایک سال میں سولہ پر آ گئے اور امپورٹ ایکسپورٹ سے پچاس ارب ڈالر زیادہ ہو گئی یہ آگے جاری رکھنا نا ممکن تھا - ڈالر نہ تھے اور امپورٹ پر بڑی کٹ لگائی ، سب سیکٹرز کی سبسڈی بند کی کیونکے امپورٹ کٹ سے بھاری امپورٹ ڈیوٹی کم ہوئی تو سبسڈی کہاں سے دیتے - ہر سیکٹر کی گروتھ کم ہو گئی یوں جی ڈی پی گرنے لگی - جب ستاییس ارب کے ذخائر تھے تو جی ڈی پی صرف تین فیصد ہی ہوتی تو بیلنس رہتا - ایکسپورٹ کے سر پر جتنی چاہے جی ڈی بڑھا لو لیکن امپورٹ کے سر پر کرو گے تو ڈالر ختم ہونگے اور مزید ڈالر کہاں سے لاؤ گے - اگر ایکسپورٹ امپورٹ سے زیادہ ہوتی تو یہ فائدہ مند تھا -
بہرحال یہ کسی ایک حکومت کا قصور نہیں ستر سال سے اوپر کی کہانی ہے اگر محیشت مظبوط تو ہوتی خان صاحب کی اس غلطی کا جھٹکا برداشت کر لیتی مگر اس غلطی نے تابوت پر آخری کیل ٹھونکا اور ہم بینکرپسی کے منہ میں پوھنچ گئے - میرا مقصد کسی کو نیچا دکھانا نہیں سب کے قصور بتانا ہے -
 

zaheer2003

Chief Minister (5k+ posts)
تھوڑا وقت تھا تو میں نے کہا ذرا یہ بتا دوں میاں صاحب کے دور میں کیسے جی ڈی پی حاصل ہوئی ، جی بلکل انھیں نے بھی ایسے ہی امپورٹ بڑھا کر کی لیکن فرق یہ تھا کہ انہوں نے ائستہ کی اگر ان کے پانچ سال دیکھو جی ڈیپانچ سال میں تین فیصد سے چھ فیصد پوھنچی جس سے پیسے آتے رہے جاتے رہے ایک دم ڈالر کا قحط نہیں پڑا - اگرچے وہ بھی غلط تھا مگر کم نقصان دہ تھا - ایک اور بات ٹوٹل جی ڈی پی اور قرض بھی نسبتا کم تھے - جب خان صاحب نے اپنے دور میں کچھ غیر ضروری چیزوں کی امپورٹ پر پابندی لگائی تو inflation جو نواز حکومت چار فیصد پر چھوڑ کر گئی صرف دس فیصد تک بڑھی - یاد رہے میاں صاحب چار فیصد پر مہنگائی چھوڑ کر گئے -
خان دور میں ایک دم زیرو سے چھ فیصد پر گروتھ کر دی صرف ڈیڑھ سال میں - زرمبادلہ کے ذخائر جو ستائیس فیصد تھے ایک سال میں سولہ پر آ گئے اور امپورٹ ایکسپورٹ سے پچاس ارب ڈالر زیادہ ہو گئی یہ آگے جاری رکھنا نا ممکن تھا - ڈالر نہ تھے اور امپورٹ پر بڑی کٹ لگائی ، سب سیکٹرز کی سبسڈی بند کی کیونکے امپورٹ کٹ سے بھاری امپورٹ ڈیوٹی کم ہوئی تو سبسڈی کہاں سے دیتے - ہر سیکٹر کی گروتھ کم ہو گئی یوں جی ڈی پی گرنے لگی - جب ستاییس ارب کے ذخائر تھے تو جی ڈی پی صرف تین فیصد ہی ہوتی تو بیلنس رہتا - ایکسپورٹ کے سر پر جتنی چاہے جی ڈی بڑھا لو لیکن امپورٹ کے سر پر کرو گے تو ڈالر ختم ہونگے اور مزید ڈالر کہاں سے لاؤ گے - اگر ایکسپورٹ امپورٹ سے زیادہ ہوتی تو یہ فائدہ مند تھا -
بہرحال یہ کسی ایک حکومت کا قصور نہیں ستر سال سے اوپر کی کہانی ہے اگر محیشت مظبوط تو ہوتی خان صاحب کی اس غلطی کا جھٹکا برداشت کر لیتی مگر اس غلطی نے تابوت پر آخری کیل ٹھونکا اور ہم بینکرپسی کے منہ میں پوھنچ گئے - میرا مقصد کسی کو نیچا دکھانا نہیں سب کے قصور بتانا ہے -
اتنا سمجھ لیکن اس بات میں ڈنڈی مار لی کہ امپورٹ بیس اکانومی میاں سانپ نے ہی متعارف کروائی۔ نہ پانچ سال میں ایکسپورٹ بڑ ھائی مطلب کمائی کوئی نہ کی وہ تو شکر ہے اس وقت دنیا میں تیل اپنی تاریخ کی کم ترین سطح پر چلا گیا ورنہ جس طرح ڈالر مینج کرنے کیلئے میاں سانپ نے ڈالر اڑائے اس کی کوئی مثال نہیں۔

ایک دم زیرو سے چھ فیصد پر گروتھ کر دی صرف ڈیڑھ سال میں

خان کی حکومت نے ۲۰۲۱ کے اختتام پر بھی گروتھ ۵۔۸ دی تھی اور آپ کے فارمولے کے مطابق اس وقت امپورٹ میاں سانپ کے آخری سال سے بھی کم تھی۔ تب کہاں سے آگئی اپمورٹ بیس جی ڈی پی ؟​

2017-2018 23,212 60,795

2019-2020 21,394 44,553

2020-2021 25,304 56,380

اور خزانہ بھی سترہ بلین ڈالر سے بھرا تھا۔
2-Jul-2117,231.17,183.824,414.9

ذرا اس پر بھی روشنی ڈالنا پانچ سال ایکسپورٹ پہلے سے بھی کم کر کے میاں سانپ نے ترقی کے پہاڑ کیسے کھڑے کر دئیے ؟

مطلب کمائی نہ بڑھی لیکن ترقی کر لی ہم نے​
 

Awan S

Chief Minister (5k+ posts)
اتنا سمجھ لیکن اس بات میں ڈنڈی مار لی کہ امپورٹ بیس اکانومی میاں سانپ نے ہی متعارف کروائی۔ نہ پانچ سال میں ایکسپورٹ بڑ ھائی مطلب کمائی کوئی نہ کی وہ تو شکر ہے اس وقت دنیا میں تیل اپنی تاریخ کی کم ترین سطح پر چلا گیا ورنہ جس طرح ڈالر مینج کرنے کیلئے میاں سانپ نے ڈالر اڑائے اس کی کوئی مثال نہیں۔

ایک دم زیرو سے چھ فیصد پر گروتھ کر دی صرف ڈیڑھ سال میں

خان کی حکومت نے ۲۰۲۱ کے اختتام پر بھی گروتھ ۵۔۸ دی تھی اور آپ کے فارمولے کے مطابق اس وقت امپورٹ میاں سانپ کے آخری سال سے بھی کم تھی۔ تب کہاں سے آگئی اپمورٹ بیس جی ڈی پی ؟​

2017-2018 23,212 60,795

2019-2020 21,394 44,553

2020-2021 25,304 56,380

اور خزانہ بھی سترہ بلین ڈالر سے بھرا تھا۔
2-Jul-2117,231.17,183.824,414.9

ذرا اس پر بھی روشنی ڈالنا پانچ سال ایکسپورٹ پہلے سے بھی کم کر کے میاں سانپ نے ترقی کے پہاڑ کیسے کھڑے کر دئیے ؟

مطلب کمائی نہ بڑھی لیکن ترقی کر لی ہم نے​
امپورٹ بیس پالیسی میاں صاحب نے نہیں شروع کی ہمیشہ سے ہی ہے کیونکے ہم اپنی ایکسپورٹ کبھی بڑھا ہی نہیں سکے بھلے کوئی بھی وزیر اعظم ہو -میاں صاحب ساڑھے نو سال وزیر اعظم رہے پچہتر سال میں وہ بھی تین مختلف ادوار میں جو ستائیس سال پر پھیلا ہے - میاں صاحب نے اپنے آخری پانچ سال میں جی ڈی پی امپورٹ کے زور پر ساڑھے تین فیصد سے چھ فیصد لے کر گئے لیکن خان صاحب تو ڈیڑھ سال میں زیرو سے چھ فیصد لے کر گئے اور امپورٹ کا ایک ایسا ٹاور کھڑا کیا جسے اگر امپورٹ کو پچیس سال پر سیٹ کر کے دیکھیں تو ایک الگ سے مینار پاکستان نظر آئے گا - بہرحال ملکی محیشت کی تباہی میں سب کا ہاتھ ہے زیادہ فوجیوں کا جنہوں نے گیارہ گیارہ سال کے تین ادوار میں مفت کے امریکی پیسے سے ملک چلایا جس سے ٹیکس ایکسپورٹ یا کوئی اور آمدنی کا نظام ہی نہ بن سکا - ایوب کے مارشل لاء کے بھد بھٹو کو ملک چلانے میں پریشانی تھی - ضیاء کے بھد نوے کی دھائی میں پیپلز پارٹی اور نون کو یہی پریشانی تھی اور مشرف کے بحد پیپلز پارٹی ، نون لیگ اور تحریک انصاف تینوں کو اس سے پریشانی ہوئی - ہماری مہیشت تینوں مارشل لاء میں فری امریکن پیسے سے اور ہر مارشل لاء کے بھد سول دور میں بیرونی قرضوں سے چلتی رہی - اگر کوئی سب سے زیادہ ذمے دار ہیں تو وہ فوجی جرنل ہیں جنہوں نے ہمیں مفت کی روٹیوں پر لگا کر اپاہج کر دیا اور ہم صرف بھیک مانگنے والے بھکاری بن کر رہ گئے -

آپ کو اب اندازہ ہو جانا چاہئے میری ایک میچور سوچ ہے سب کچھ کسی ایک پر نہیں ڈالنا چاہتا اور ایمانداری سے حقائق بتاتا ہو جو چیز جیسے ہے ویسے ہی بتائی - اکانومی میرا فیلڈ نہیں سب شوق سے سیکھا - میں ایک ایک مغربی ملک میں حکومتی ادارے میں پروفیشنل انجنیئر ہوں اپنی اس لمبی گفتگو میں کہیں میں نے آپ پر ذاتی حملہ نہیں کیا نہ کسی لیڈر کو برے نام سے پکارا - یہ میری طبیحت ہی نہیں - ایک لمبی بحث میں وقت دینے کا شکریہ -