سیلز ٹیکس میں اضافہ،عوام مہنگے بیکری آئٹمز خریدنے کیلئے ہو جائیں تیار

4baketaitejkjjslaestax.png

آٹے اور میدے کی قیمتوں میں کمی کے بعد عوام کو خوشخبری دی گئی تھی کہ بیکری آئٹمز سستی ہونے جا رہی ہیں تاہم آئندہ مالی سال کے بجٹ نے عوام کی اس خوشی پر بھی پانی پھیر دی گئی۔

ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت کی طرف سے پیش کیے گئے رواں مالی سال 2024-25ء کے بجٹ میں بن، سویاں، شیرمال ودیگر بیکری آئٹمز پر 10 فیصد سیلز ٹیکس عائد کر دیا گیا ہے۔

دکانداروں کی طرف سے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ قیمتیں پھر سے بڑھیں گی جس سے کسٹمرز شکوہ کرینگے۔

بیکری آئٹمز کچن دن تک ہی سستے بکتے رہے ہیں جس کے بعد بجٹ میں ان پر 10فیصد انکم ٹیکس عائد ہونے کے بعد شہری بھی حکومت سے ناخوش ہوں گے کیونکہ عید کے دن ناشتے پر تیار کی جانے والی سویوں کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہونے کا امکان ہے۔شہریوں کے مطابق روزمرہ استعمال کی اشیائے ضروریہ اور ناشتے کی قیمتیں کم ہونی چاہئیں اور حکومت کو ایسے اقدامات کرنے چاہئیں کہ مہنگائی بتدریج کم ہو۔

بیکری مالکان کے مطابق پنجاب حکومت کے احکامات کے بعد کچھ دن پہلے ہی دکانوں پر لگی ریٹ لسٹ پر عملدرآمد شروع کیا گیا تھا اور اب بجٹ میں انکم ٹیکس عائد ہونے پر پھر سے نرخوں میں تبدیلی شہریوں پر ناگوار گزرے گی۔ صوبائی دارالحکومت لاہور میں سویوں کے چھوٹے پیکٹ کی قیمت 150 کے بجائے 160 روپے ہو جائے گی۔

بیکری مالکان کا کہنا ہے کہ سویوں کے بڑے پیکٹ کی قیمت اس وقت 200 روپے ہے جو بڑھ کر 220 روپے کی ہو جائے گ، رس کے چھوٹے پیکٹ کی قیمت 130 روپے اور بڑے پیکٹ کی قیمت 250 روپے ہو جائے گی۔ واضح رہے کہ فنانس بل میں سیلز ٹیکس اضافے سےمتعلق متعدد ترامیم ہوئی ہیں، ریٹیلرز میں آنے والی بیکریوں اور مٹھائی کی دکانوں پر فروخت ہونے والی سویاں، بن ، شیر مال اور رس پر 10فیصد سیلز ٹیکس عائد کیاگیا ہے۔