سندھ حکومت کا180 ملین ڈالرز کا تازہ اسکینڈل سامنے آگیا

2sindscandenrskdjjdjd.png

‏سندھ حکومت کا ایک سو اسی ملین ڈالرز کا تازہ اسکینڈل سامنے آگیا,گزشتہ برس جب ملک ڈیفالٹ کے دہانے پرتھا اور ایک ایک ڈالر کوترس رہا تھا تو پیپلز پارٹی نے ایک سو اسی ملین ڈالرزکے عوض40الیکٹرک بسیں اِمپورٹ کیں

25چارجنگ ایشوز کی بنا پر گراؤنڈ کی جاچکی ہیں۔ فی بس قیمت45لاکھ ڈالرز یعنی ایک اعشاریہ بلین روپے کی تھی.

الیکٹرک بسوں کا آغاز جون 2023 میں سندھ حکومت کی جانب سے پیپلز بس سروسز کے منصوبے کے تحت کیا گیا تھا۔

https://twitter.com/x/status/1729256586328354902
کلاک ٹاور تک پہنچنے کے لیے جناح ایونیو کے قریب ٹینک چوک سے اس کا ایک روٹ شروع ہوتا ہے، جو ائرپورٹ، شارع فیصل، ایف ٹی سی بلڈنگ، کورنگی اور خیابان اتحاد کے راستے سے ہوتا ہوا گزرتا ہے۔

دوسرا روٹ ملیر کینٹ چیک پوسٹ سے شروع ہوتا ہے، جو صفورا چوک، موسمیات، کامران چورنگی، پرفیوم چوک، ملینیم، ڈالمیا اور آغا خان اسپتال سے گزرتے ہوئے ایم اے جناح روڈ پر جاتا ہے۔

بسوں کو بجلی کی فراہمی کے لیے چارجنگ ڈاک کی ضرورت ہوتی ہے۔

بحریہ ٹاؤن اور ملیر کینٹ میں کل 40 بسوں کے لیے دو پاور اسٹیشن قائم کیے گئے ہیں لیکن چارج اسٹیشن فعال نہ ہونے کی وجہ سے دو روٹس پر بسوں کی آمدورفت معطل ہوچکی ہے۔

اس وقت کے وزیر اطلاعات سندھ شرجیل میمن نے کہا تھا کہ مہنگائی کے طوفان میں عوام کو ریلیف فراہم کررہےہیں، سندھ حکومت آٹے کی خریداری کی مد میں عوام کو سبسڈی دے رہی ہے۔

انہوں نے بتایا تھا کہ ابھی تک 29 لاکھ سے زائد لوگ پیسے نکال چکے ہیں، 29لاکھ 36ہزار سے زائد لوگوں کو پیسے فراہم کیے گئے، آٹے کی خریداری کی مد میں فی کس 2ہزار روپے فراہم کیے جارہے ہیں،اب تک 5ارب 87کروڑ سے زائد کی رقم فراہم کرچکےہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ 50ہزارسے کم آمدنی والے افراد کو آٹے پر سبسڈی فراہم کررہے ہیں، بی آئی ایس پی کے ذریعےلوگوں کو سبسڈی دی جارہی ہے۔
 

exitonce

Chief Minister (5k+ posts)
Its all because of Bajwa barwa, zardari have bought the MNA's and generated all money like this to fulfill the stupid ideas of duffers.