
اصل مسئلہ فیصلہ بدلنے کا نہیں مل بانٹ کر کھانے کا ہے جس پر عمران خان راضی نہیں ہے۔
تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی چینل سنو ٹی وی کے پروگرام @ جوائنٹ سیشن میں ایک سوال کہ "پاکستان میں اداروں اور شخصیات پر سے اعتماد ٹوٹنے کا ذمہ دار اصل میں ہے کون؟" کا جواب دیتے ہوئے سینئر صحافی وتجزیہ نگار اطہر کاظمی کا کہنا تھا کہ کہا جاتا ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان رات کے وقت ایک فیصلہ کرتے ہیں اور دوپہر کے کھانے تک فیصلہ بدل جاتا ہے، اصل مسئلہ دوپہر کے کھانے کا نہیں بلکہ مل بانٹ کر کھانے کا ہے! جب تک وہ مسئلہ حل نہ ہو تو بہت سے تعلقات بہتر ہو جاتے ہیں لیکن عمران خان راضی نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ جنہوں نے سڑکوں پر گھسیٹنا تھا ان میں اعتماد کا فقدان کتنا زیادہ تھا، جو کہتا تھا کہ یہ مودی کا یار ہے لیکن جب اپنے مفادات سامنے آئے تو سب اکٹھے ہو گئے۔ انہوں نے کہا کہ بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ ریاستی مفادات نہیں ذاتی مفادات کو سامنے رکھ کر مسئلے حل کیے جاتے ہیں، ذاتی مفادات پر سب اکٹھے ہو جاتے ہیں۔
https://twitter.com/x/status/1579500901676777473
ہمیں کہا جاتا ہے کہ میاں محمد نوازشریف کے بیانات کو من وعن تسلیم کر لیا جائے جن کے اپنے بیانات ایک دوسرے سے نہیں ملتے، لندن میں جن فلیٹس میں وہ بیٹھے ہیں ان فلیٹس کے حوالے سے مختلف مواقع پر 15 متضاد بیانات دے چکے ہیں لیکن ہم سے توقع کی جاتی ہے کہ میں ان کا بیان من وعن تسلیم کر لوں۔
پروگرام میں شریک سینئر تجزیہ نگار مشرف زیدی کے بیان پر طنزیہ انداز میں کہ جیسے انہوں نے جون ایلیا کو کسی مغربی ثقافت سے جوڑ دیا، ایسے ہی کوشش کی جاتی ہے کہ جمہوریت کو ہم میاں محمد نوازشریف سے جوڑ دیں تو جتنا بے تکا جوڑ وہ ہے ایسا ہی بے تکا جوڑ جمہوریت اور سابق وزیرعظم وقائد مسلم لیگ ن میاں محمد نوازشریف کا ہے۔