اتنا کریڈٹ تو دیں

Doctor sb

Senator (1k+ posts)
موجودہ حکمرانوں سے پالیسی امور پر میری طرح آپ کے بھی تحفظات ہوں گے- ان کی نااہلی وناکامی پر انہیں شدید تنقید کا نشانہ بھی اکثروپیشتر بناتے ہیں
مگر ایک بات کا کریڈٹ دینا پڑے گا کہ اپنے پیشرؤں کے برعکس ان میں یہ "شودی" عادت نہیں کہ ہر سرکاری کام کے لیے جاری اشتہار میں اپنی بوتھی سجائی ہو

پچھلے تو عوام کے حواس پر اس قدر سوار ہوگۓ تھے کہ عوامی لیٹرین ہو یا بچوں کی امتحانی شیٹ، ہر سرکاری چیز پر اپنی شکلیں چسپاں کرتے تھے
خدشہ یہ تھا کہ کچھ عرصہ اور اقتدار میں رہتے تو شاید ہر شہری کی ولدیت کے خانہ میں بھی اپنا نام دے دیتے- ان سے کچھ بعید بھی نہیں

وباء کے اس دور میں حکومت 150 ارب کی خطیررقم تقسیم کر رہی ہے مگر کہیں پر بھی عمران خان یا وزیر مشیر کے جہازی سائز بینر نہیں لگے اور نہ ہی اخبارات اور ٹی وچینلوں کے مزے کراۓ گے- حکومت بالخصوص عمران خان بلاشبہ اس مثبت اقدام پر تحسین کے مستحق ہیں-
 

Judge

MPA (400+ posts)
ڈانکٹر لگتا ہے تو اندر سے کوئی پٹواری ہے
جو جان بوجھ کر چرسی کی مرمت کرواتا ہے
تجھے اچھی طرح سے پتا ہے
کہ ہر پروگرام پر چرسی کا بوتھا شریف چھاپہ جاتا ہے
 

Zaidi Qasim

Prime Minister (20k+ posts)


جناب ،یہ ایک اچھی روایت ہے بلکل ایسا ہی ہونا چاھیے ، مگر آپ کا یہ کہنا کہ ایسا نہیں ہورہا ہے ، درست نہیں ہے ۔ ھاں یہ کام بڑے پیمانے پر نہیں ہورہا ہے ، لیکن آپ گورنر سندھ اسماعیل کی وڈیو دیکھ کر اندازہ کرسکتے ہیں کہ دماغی اور خیالی حالت کیا ہے ، ٹائیگر فورس کا قیام بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی تھی جسے بے انتہا تنقید کے بعد روکنا پڑا ۔
 

Doctor sb

Senator (1k+ posts)


جناب ،یہ ایک اچھی روایت ہے بلکل ایسا ہی ہونا چاھیے ، مگر آپ کا یہ کہنا کہ ایسا نہیں ہورہا ہے ، درست نہیں ہے ۔ ھاں یہ کام بڑے پیمانے پر نہیں ہورہا ہے ، لیکن آپ گورنر سندھ اسماعیل کی وڈیو دیکھ کر اندازہ کرسکتے ہیں کہ دماغی اور خیالی حالت کیا ہے ، ٹائیگر فورس کا قیام بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی تھی جسے بے انتہا تنقید کے بعد روکنا پڑا ۔
ٹائیگر فورس پر میری راۓ یہی تھی کہ اس کا نام بدل کر قومی رضاکار یا کوئی ملتا جلتا رکھا جاۓ- یہ وقت پارٹی بازی کا نہیں
 

ranaji

President (40k+ posts)
پچھلے تو عوام کے حواس پر اس قدر سوار ہوگۓ تھے کہ عوامی لیٹرین ہو یا بچوں کی امتحانی شیٹ، ہر سرکاری چیز پر اپنی شکلیں چسپاں کرتے تھے
خدشہ یہ تھا کہ کچھ عرصہ اور اقتدار میں رہتے تو شاید ہر شہری کی ولدیت کے خانہ میں بھی اپنا نام دے دیتے- ان سے کچھ بعید بھی نہیں


ان چوروں ڈاکوؤں کی اولاد کے خانے میں لازمی کسی نا کسی حرامی بن بلائے مہمان کی ولدیت آ جائیگی اگر ڈی این اے میچ کرا گیا