آنےوالے دنوں میں سسٹم میں رہنے والے لوگ روئیں گے،فضل الرحمان

11faassstmm.png

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ چاہتی ہے کہ اسمبلیاں بھی ان کے مطابق ہوں اور لوگ بھی ، اگر ان کی مداخلت ہے تو آئندہ الیکشن کا بھی کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔

تفصیلات کے مطابق مولانا فضل الرحمان پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے پھٹ پڑے، انہوں نے کہا کہ ہم نے ساری زندگی الیکشن لڑے ہیں، داڑھی الیکشن میں سفید ہوئی ہے، آنےوالے دنوں میں بتاؤں گا کہ سسٹم میں رہنے والے لوگ روئیں گے، ہمیں اپنی کامیابی کا اندازہ ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسمبلی میں ہماری آواز کو دبانے کی کوشش کی جارہی ہے، الیکشن سے پہلے ہی یہ اطلاع مل گئی تھی کہ فیصلہ ہوگیا ہے کہ جمعیت کے حجم کو کم کیا جائے، ہم سے کس کو تکلیف ہے؟ ہم عالمی قوتوں کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں تو وہ یہ کہتے ہیں کہ ہمارے حجم کو کم کیا جائے، ہمیں کہا جارہا ہے کہ عوام میں جانے سے خطرہ ہے، جب الیکشن گزر گئے تو اس کے بعد کوئی تھریٹ نہیں ہے۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اگر یہ سمجھتے ہیں کہ دھاندلی نہیں ہوئی تو پھر پورا9 مئی کا بیانیہ دفن ہوگیا، اسٹیبلشمنٹ یہ چاہتی ہے کہ اسمبلیاں بھی ان کے مطابق ہو اور لوگ بھی، ہماری پوزیشن واضح ہے ہم کسی بھی حکومت میں شامل نہیں ہوں گے، کیونکہ ان سے ملک نہیں چلے گا اور نظام گرجائے گا، اصولی موقف ہے کہ صدر کے انتخاب میں ووٹ نہیں ڈالیں گے اور کے پی اسمبلی میں وزیراعلی اور اپوزیشن لیڈر کے انتخاب سے لاتعلق رہیں گے۔

پی ٹی آئی وفد سے ملاقات کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ہم نے پی ٹی آئی وفد کو روایات کے مطابق عزت دی، ہم نے عمران خان کی گرفتاری کے وقت بھی کہا تھا کہ مقابلے کا مزہ نہیں آرہا، میں کسی سیاستدان کے قید میں رہنے پر خوش نہیں ہوتا، ہم خود قید کاٹ چکے ہیں، سیاسی لوگ جیلوں میں جاتے ہیں۔
 

Pakistan90210

MPA (400+ posts)
11faassstmm.png

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ چاہتی ہے کہ اسمبلیاں بھی ان کے مطابق ہوں اور لوگ بھی ، اگر ان کی مداخلت ہے تو آئندہ الیکشن کا بھی کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔

تفصیلات کے مطابق مولانا فضل الرحمان پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے پھٹ پڑے، انہوں نے کہا کہ ہم نے ساری زندگی الیکشن لڑے ہیں، داڑھی الیکشن میں سفید ہوئی ہے، آنےوالے دنوں میں بتاؤں گا کہ سسٹم میں رہنے والے لوگ روئیں گے، ہمیں اپنی کامیابی کا اندازہ ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسمبلی میں ہماری آواز کو دبانے کی کوشش کی جارہی ہے، الیکشن سے پہلے ہی یہ اطلاع مل گئی تھی کہ فیصلہ ہوگیا ہے کہ جمعیت کے حجم کو کم کیا جائے، ہم سے کس کو تکلیف ہے؟ ہم عالمی قوتوں کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں تو وہ یہ کہتے ہیں کہ ہمارے حجم کو کم کیا جائے، ہمیں کہا جارہا ہے کہ عوام میں جانے سے خطرہ ہے، جب الیکشن گزر گئے تو اس کے بعد کوئی تھریٹ نہیں ہے۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اگر یہ سمجھتے ہیں کہ دھاندلی نہیں ہوئی تو پھر پورا9 مئی کا بیانیہ دفن ہوگیا، اسٹیبلشمنٹ یہ چاہتی ہے کہ اسمبلیاں بھی ان کے مطابق ہو اور لوگ بھی، ہماری پوزیشن واضح ہے ہم کسی بھی حکومت میں شامل نہیں ہوں گے، کیونکہ ان سے ملک نہیں چلے گا اور نظام گرجائے گا، اصولی موقف ہے کہ صدر کے انتخاب میں ووٹ نہیں ڈالیں گے اور کے پی اسمبلی میں وزیراعلی اور اپوزیشن لیڈر کے انتخاب سے لاتعلق رہیں گے۔

پی ٹی آئی وفد سے ملاقات کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ہم نے پی ٹی آئی وفد کو روایات کے مطابق عزت دی، ہم نے عمران خان کی گرفتاری کے وقت بھی کہا تھا کہ مقابلے کا مزہ نہیں آرہا، میں کسی سیاستدان کے قید میں رہنے پر خوش نہیں ہوتا، ہم خود قید کاٹ چکے ہیں، سیاسی لوگ جیلوں میں جاتے ہیں۔



Youthias life is now dependent on words of hope from Maulana Diesel 🤪🤣😂😜😁😆😄🤓😅