لاہور میں کالعدم تنظیم کے احتجاجی مظاہرے کے دوران 2 پولیس اہلکار شہید

9lahorepolice.jpg

لاہور میں کالعدم تنظیم کے احتجاجی مظاہرے کے دوران پولیس اور کارکنان کے درمیان تصادم کے نتیجے میں 2 پولیس اہلکار شہید ہوگئے ہیں۔

ایکسپریس نیوز کی رپورٹ کے مطابق لاہور کے علاقے ایم اے او کالج چوک میں کالعدم تنظیم کا احتجاجی دھرنا جاری تھا کہ اچانک پولیس اور مظاہرے کے درمیان جھڑ پ شروع ہوگئی، تصادم کے نتیجے میں بھگدڑ مچ گئی اور اسی دوران مظاہرین کی ایک گاڑی نے 2 پولیس اہلکاروں کو روند ڈالا، جبکہ مظاہرین کے پتھراؤ کے نتیجے میں ایس ایچ او سمیت 6 پولیس اہلکار زخمی بھی ہوئے۔


پولیس کے مطابق دونوں پولیس اہلکار لاہور کے تھانہ گوالمنڈی میں تعینات تھے، شہید ہونے والے اہلکاروں کی شناخت خالد اور ایوب کے ناموں سے ہوئی ہے۔

lahore-police-men-martyed-1634919292.jpg

واضح رہے کہ کالعدم تنظیم تحریک لبیک پاکستان کے کارکنان سربراہ سعد رضوی کی رہائی کیلئے لاہور میں دھرنا دیئےہوئے تھے آج مظاہرین نے لاہور سے اسلام آباد کی طرف مارچ شروع کردیا ہے، راستے میں متعدد مقامات پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کی بھی اطلاعات ہیں۔

وزیراعلی عثمان بزدار نے اس حوالے سے مذاکرات کیلئے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دیدی ہے جس میں صوبائی وزیر قانون راجا بشارت اور وزیر پراسیکیوشن چوہدری ظہیر الدین شامل ہیں۔

 
Advertisement

samkhan

Chief Minister (5k+ posts)
یا تو لبیک والوں کو چاہئے کہ حکومت کو کچل کر ریاست کا نظام اپنے ہاتھ میں لے لیں. ورنہ حکومت کو چاہئے کہ لینک والوں کا فتنہ ہمیشہ ہمیشہ کہ لیے ختم کر دیں. مگر حکومت، فوج اور لبیک والے تینوں بے غیرت ہیں لہذا ایسا کچھ نہیں ہونے والا. کچھ ہلاکتوں اور گرفتاریوں کہ بعد پھر سے مزاکرات ہونگے اور سب پرانی تنخواہ میں کام کرینگے اور عوام بھنگڑے ڈالیں گے کہ ملک تباہی سے بچ گیا
 

Kam

Senator (1k+ posts)
Let them get out of city and block the escape routes.
Then break legs of these people. Do not let them away. It's too much now.
 

hkniazi

Minister (2k+ posts)
Premium Member
TLP "thugs like pigs" need some spanking.
Pakistani security agencies like to release "naghmas" on every other occasion,
now they must think beyond that.
if that doesnt happens, all civialns should mob up together
 

Goldfinger

Councller (250+ posts)

_121187722_whatsappimage2021-10-22at8.04.55pm-1.jpg

لاہور میں کالعدم تنظیم تحریکِ لبیک پاکستان کے ہزاروں کارکنوں نے اسلام آباد کی جانب مارچ شروع کر دیا ہے اور ان کی پیش قدمی روکنے کی کوشش کے دوران جھڑپوں میں کم از کم دو پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔
تحریکِ لبیک کی جانب سے بھی بڑی تعداد میں کارکنوں کے زخمی ہونے کے دعوے کیے گئے ہیں جن کی آزادانہ ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔
بی بی سی کے نامہ نگار عمر دراز ننگیانہ کے مطابق تحریکِ لبیک کے کارکنوں نے اپنے مطالبات تسلیم کیے جانے کے لیے دی گئی ڈیڈ لائن کے خاتمے کے بعد جمعے کو ملتان روڈ پر واقع اپنے مرکز سے ریلی کی صورت میں جب آگے بڑھنا شروع کیا تو ایم اے او کالج کے قریب پولیس نے انھیں روکنے کے لیے آنسو گیس کے گولے چلائے جبکہ اس دوران متعدد افراد کو گرفتار بھی کیا گیا۔
اس دوران ایم اے او کالج سے داتار دربار تک کا علاقہ جھڑپوں کا مرکز بنا رہا اور لاہور پولیس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ان جھڑپوں میں پولیس کے دو اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔
لاہور پولیس کا کہنا ہے کہ دونوں اہلکار ٹی ایل پی کے کارکنوں کے پتھراؤ کا نشانہ بنے۔ ترجمان آپریشنز ونگ کے مطابق پتھراؤ سے متعدد اہلکار زخمی بھی ہوئے ہیں جنھیں ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔
تاہم تحریک لبیک کا کہنا ہے کہ اس کے کارکنوں پر ان ہلاکتوں کا الزام بےبنیاد ہے۔
پولیس کی جانب سے مظاہرین کی جانب سے پولیس پر پٹرول بم پھینکنے کے الزامات بھی عائد کیے گئے ہیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ مشتعل ہجوم کی جانب سے ڈنڈوں کا آزادانہ استعمال کیا گیا۔
ترجمان کے مطابق پولیس تشدد کے باوجود تحمل مزاجی کا مظاہرہ کر رہی ہے۔
ادھر پنجاب کے وزیراعلیٰ نے تحریکِ لبیک کے لانگ مارچ میں شامل مظاہرین کے مبینہ تشدد اور گاڑیوں کی ٹکر سے ہلاک ہونے والے پولیس اہلکاروں کے لواحقین سے ہمدردی و اظہار تعزیت کرتے ہوئے قانون ہاتھ میں لینے والے عناصر کے خلاف سخت کارروائی کا حکم دیا ہے۔
ایک بیان میں عثمان بزدار نے کہا ہے کہ اس افسوسناک واقعے میں ملوث عناصر کے خلاف قانون کے تحت کارروائی کی جائے اور قانون کی عملدراری کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔
_121187723_tlpp.jpg

اس سے قبل پنجاب کے وزیراعلیٰ کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ صوبائی حکومت کی جانب سے وزیر قانون راجہ بشارت اور چوہدری ظہیرالدین مذاکرات کر رہے ہیں۔ عثمان بزدار کا کہنا تھا کہ ملک میں امن و آشتی کے لیے سب کو مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔
تاہم پھر ذرائع ابلاغ نے تحریک لبیک پاکستان کے ترجمان کے حوالے سے خبر دی تھی کہ پنجاب حکومت اور تنظیم کے درمیان لاہور میں مذاکرات کامیاب نہیں ہو سکے ہیں۔
جھڑپوں کے بعد تحریکِ لبیک کی مرکزی شوریٰ کی جانب سے بیان میں کہا گیا ہے کہ اب بات چیت صرف اسی صورت میں ہو گی کہ جب لاہور میں قید تنظیم کے قائد سعد حسین رضوی کو رہا کر کے جلوس میں نہیں لایا جاتا اور اب وہی مذاکرات میں تنظیم کی نمائندگی کریں گے۔
خیال رہے کہ تحریک لبیک کی قیادت حکومتی مذاکراتی ٹیم سے فرانسیسی سفیر کے معاملے پر کیے گئے معاہدے پر عمل کرنے پر مصِر ہے۔
تنظیم کی مرکزی شوریٰ پہلے ہی کہہ چکی ہے کہ اگر یہ مارچ روکنے کی کوشش کی گئی تو ان کے پاس ’پلان بی بھی موجود ہے۔‘
نامہ نگار عمر ننگیانہ نے بتایا کہ مقامی پولیس کے مطابق مظاہرین کو اسلام آباد جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ پولیس حکام کے مطابق حکومت کی ہدایات کا انتظار کیا جا رہا ہے اور احکامات کی صورت میں ریلی کے نکلنے کے راستے پر کنٹینر لگا کر اسے روکا جائے گا۔
 
Last edited by a moderator:

Qudsi

Senator (1k+ posts)

_121187722_whatsappimage2021-10-22at8.04.55pm-1.jpg

لاہور میں کالعدم تنظیم تحریکِ لبیک پاکستان کے ہزاروں کارکنوں نے اسلام آباد کی جانب مارچ شروع کر دیا ہے اور ان کی پیش قدمی روکنے کی کوشش کے دوران جھڑپوں میں کم از کم دو پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔
تحریکِ لبیک کی جانب سے بھی بڑی تعداد میں کارکنوں کے زخمی ہونے کے دعوے کیے گئے ہیں جن کی آزادانہ ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔
بی بی سی کے نامہ نگار عمر دراز ننگیانہ کے مطابق تحریکِ لبیک کے کارکنوں نے اپنے مطالبات تسلیم کیے جانے کے لیے دی گئی ڈیڈ لائن کے خاتمے کے بعد جمعے کو ملتان روڈ پر واقع اپنے مرکز سے ریلی کی صورت میں جب آگے بڑھنا شروع کیا تو ایم اے او کالج کے قریب پولیس نے انھیں روکنے کے لیے آنسو گیس کے گولے چلائے جبکہ اس دوران متعدد افراد کو گرفتار بھی کیا گیا۔
اس دوران ایم اے او کالج سے داتار دربار تک کا علاقہ جھڑپوں کا مرکز بنا رہا اور لاہور پولیس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ان جھڑپوں میں پولیس کے دو اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔
لاہور پولیس کا کہنا ہے کہ دونوں اہلکار ٹی ایل پی کے کارکنوں کے پتھراؤ کا نشانہ بنے۔ ترجمان آپریشنز ونگ کے مطابق پتھراؤ سے متعدد اہلکار زخمی بھی ہوئے ہیں جنھیں ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔
تاہم تحریک لبیک کا کہنا ہے کہ اس کے کارکنوں پر ان ہلاکتوں کا الزام بےبنیاد ہے۔
پولیس کی جانب سے مظاہرین کی جانب سے پولیس پر پٹرول بم پھینکنے کے الزامات بھی عائد کیے گئے ہیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ مشتعل ہجوم کی جانب سے ڈنڈوں کا آزادانہ استعمال کیا گیا۔
ترجمان کے مطابق پولیس تشدد کے باوجود تحمل مزاجی کا مظاہرہ کر رہی ہے۔
ادھر پنجاب کے وزیراعلیٰ نے تحریکِ لبیک کے لانگ مارچ میں شامل مظاہرین کے مبینہ تشدد اور گاڑیوں کی ٹکر سے ہلاک ہونے والے پولیس اہلکاروں کے لواحقین سے ہمدردی و اظہار تعزیت کرتے ہوئے قانون ہاتھ میں لینے والے عناصر کے خلاف سخت کارروائی کا حکم دیا ہے۔
ایک بیان میں عثمان بزدار نے کہا ہے کہ اس افسوسناک واقعے میں ملوث عناصر کے خلاف قانون کے تحت کارروائی کی جائے اور قانون کی عملدراری کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔
_121187723_tlpp.jpg

اس سے قبل پنجاب کے وزیراعلیٰ کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ صوبائی حکومت کی جانب سے وزیر قانون راجہ بشارت اور چوہدری ظہیرالدین مذاکرات کر رہے ہیں۔ عثمان بزدار کا کہنا تھا کہ ملک میں امن و آشتی کے لیے سب کو مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔
تاہم پھر ذرائع ابلاغ نے تحریک لبیک پاکستان کے ترجمان کے حوالے سے خبر دی تھی کہ پنجاب حکومت اور تنظیم کے درمیان لاہور میں مذاکرات کامیاب نہیں ہو سکے ہیں۔
جھڑپوں کے بعد تحریکِ لبیک کی مرکزی شوریٰ کی جانب سے بیان میں کہا گیا ہے کہ اب بات چیت صرف اسی صورت میں ہو گی کہ جب لاہور میں قید تنظیم کے قائد سعد حسین رضوی کو رہا کر کے جلوس میں نہیں لایا جاتا اور اب وہی مذاکرات میں تنظیم کی نمائندگی کریں گے۔
خیال رہے کہ تحریک لبیک کی قیادت حکومتی مذاکراتی ٹیم سے فرانسیسی سفیر کے معاملے پر کیے گئے معاہدے پر عمل کرنے پر مصِر ہے۔
تنظیم کی مرکزی شوریٰ پہلے ہی کہہ چکی ہے کہ اگر یہ مارچ روکنے کی کوشش کی گئی تو ان کے پاس ’پلان بی بھی موجود ہے۔‘
نامہ نگار عمر ننگیانہ نے بتایا کہ مقامی پولیس کے مطابق مظاہرین کو اسلام آباد جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ پولیس حکام کے مطابق حکومت کی ہدایات کا انتظار کیا جا رہا ہے اور احکامات کی صورت میں ریلی کے نکلنے کے راستے پر کنٹینر لگا کر اسے روکا جائے گا۔

سورس
molvie is the ugliest creature on earth.
 

Dr Adam

Chief Minister (5k+ posts)

اس گروپ کو بہت تدبیر سے سمجھا کر ان سے نمٹنا ہو گا . یہ لوگ بہت حساس معاملے کو شیلڈ بنا کر اپنی غنڈہ گردی کرتے ہیں
گورنر چوہدری سرور، سپیکر پرویز الہی اور وزیر اعلیٰ عثمان بزدار پر مشتمل ایک اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی بنا دی جائے جو اس معاملے کو دیکھے اور اس گروپ کے کرتوں دھرتوں سے بات چیت کر کے معاملے کو افہام و تفہیم سے نپٹائے . معاملہ اگر نااہل بزدار پر چھوڑا گیا تو حالات ہاتھ سے نکل جائیں گے
 

Hussain1967

Minister (2k+ posts)

اس گروپ کو بہت تدبیر سے سمجھا کر ان سے نمٹنا ہو گا . یہ لوگ بہت حساس معاملے کو شیلڈ بنا کر اپنی غنڈہ گردی کرتے ہیں
گورنر چوہدری سرور، سپیکر پرویز الہی اور وزیر اعلیٰ عثمان بزدار پر مشتمل ایک اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی بنا دی جائے جو اس معاملے کو دیکھے اور اس گروپ کے کرتوں دھرتوں سے بات چیت کر کے معاملے کو افہام و تفہیم سے نپٹائے . معاملہ اگر نااہل بزدار پر چھوڑا گیا تو حالات ہاتھ سے نکل جائیں گے
Do you still expect that duffer Buzdar can show tadabbur?
 

concern_paki

Chief Minister (5k+ posts)
Police constables who get killed were not Muslims, why they get killed, what kind of Islam TLP trying to propagate, its terrorism in the name of Islam and they are not Muslimd but terrorists
 

Hussain1967

Minister (2k+ posts)
I have seen a video in which a contingent of policemen are chanting same slogan which TLP people are chanting. I suspect that police will show disobedience in implementing the orders of provincial government and, as a result, TLP protestors will reach Islamabad in big number. Even a 15K-20K religious crowd is sufficient to jolt a government.
 

Sean

Politcal Worker (100+ posts)
یہ سب کچھ بڑوں کی ایما کے بغیر ممکن نہیں۔۔۔۔لگتا ہے کپتان کی پاور کو بیلنس کرنے کے لیے یہ
بےغیرتی کروائی جا رہی ہے۔۔۔۔۔۔۔
ان دہشت گردوں کو الیمینیٹ کر دینا چاہیے۔۔۔
 

Sean

Politcal Worker (100+ posts)

اس گروپ کو بہت تدبیر سے سمجھا کر ان سے نمٹنا ہو گا . یہ لوگ بہت حساس معاملے کو شیلڈ بنا کر اپنی غنڈہ گردی کرتے ہیں
گورنر چوہدری سرور، سپیکر پرویز الہی اور وزیر اعلیٰ عثمان بزدار پر مشتمل ایک اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی بنا دی جائے جو اس معاملے کو دیکھے اور اس گروپ کے کرتوں دھرتوں سے بات چیت کر کے معاملے کو افہام و تفہیم سے نپٹائے . معاملہ اگر نااہل بزدار پر چھوڑا گیا تو حالات ہاتھ سے نکل جائیں گے
کتا جب پاگل ہو جاے تو اس کا آخری علاج سب کو پتا ہے کہ کیا ہے۔۔۔۔ یہ دہشت گرد تو کتوں سے بدتر مخلوق ہیں
 
Sponsored Link