آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس،آغا سراج درانی کے اثاثوں کی تفصیلات جاری

9durani.jpg

قومی احتساب بیورو (نیب) نے اسپیکر سندھ اسمبلی اور پی پی رہنماآغا سراج درانی کو سپریم کورٹ کے باہر سے گرفتار کرلیا جس کے بعد نیب کی جانب سے آغا سراج درانی کے اثاثوں کی تفصیلات جاری کر دی گئیں۔

نیب کی جانب سے جاری کی گئی رپورٹ کے مطابق آغا سراج درانی کی بےنامی پراپرٹیزکی مالیت 1ارب 4کروڑ 50لاکھ روپے ہے۔ نیب رپورٹ میں بتایا گیا 2011 میں ڈی ایچ اے فیز 6 میں 500اسکوائریارڈ کا پلاٹ خریدا گیا جو کہ بے نامی جائیداد میں شامل ہیں، پلاٹ نمبر 115 کی ملکیت غلام مرتضیٰ کے نام پر ہے۔

نیب رپورٹ میں مزید انکشاف کیا گیا کہ ڈی ایچ اے فیز 6 میں ایک اور ایک ہزار اسکوائر یارڈ کا بے نامی پلاٹ ہے، پلاٹ نمبر 116شکیل احمد سومرو کے نام خریدا گیا جبکہ شکیل احمد سومرو کے نام پر ڈی ایچ اے فیز 8میں بھی ایک ہزار اسکوائر یارڈ کا پلاٹ خریدا گیا ہے۔


ملیرمیں 40ایکٹر اراضی بھی بے نامی جائیداد کا بھی انکشاف ہوا ہے جو 2012 میں منور علی کے نام پر خریدی گئی تھی۔2013 میں ڈی ایچ اے فیز 6 میں گلبہارلوہاربلوچ کےنام پر ایک ہزار اسکوائر یارڈ کا ایک اور پلاٹ 'نمبر 86' خریداگیا۔

نیب کی رپورٹ کے مطابق ڈی ایچ اے فیز 6 میں بنگلو نمبر اے 3بھی بےنامی جائیداد کا حصہ ہے ، جس کی ملکیت محمد عرفان کے نام پر ہے اور یہ بنگلو 2011میں خریدا گیا۔

نیب نے ان تمام جائیدادوں کی قیمت کے حوالے سے انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ مذکورہ بےنامی پراپرٹیزکی مالیت 1ارب 4کروڑ 50لاکھ روپے ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ آغا سراج کے پاس ایک کروڑ 48لاکھ کے پرائز بانڈ ز اور 6 گاڑیاں بھی ہیں۔

واضح رہے کہ نیب نے آغا سراج درانی، ان کی اہلیہ، بچوں، بھائی اور دیگر پر مبینہ طور پر غیر قانونی طریقوں سے بنائے گئے ایک ارب 61 کروڑ روپے کے اثاثے رکھنے کا الزام عائد کیا تھا۔

اسپیکر سندھ اسمبلی کو قومی احتساب بیورو (نیب) نے مبینہ طور پر معلوم آمدن سے زائد منقولہ اور غیر منقولہ اثاثے بنانے کی تحقیقات کے سلسلے میں فروری 2019 میں اسلام آباد کی ایک ہوٹل سے گرفتار بھی کیا تھا۔


بعدازاں 21 فروری کو انہیں کراچی کی احتساب عدالت میں پیش کیا گیا تھا جہاں عدالت نے ان کا ریمانڈ منظور کیا اور اس میں کئی مرتبہ توسیع ہوئی۔ تاہم 13 دسمبر کو سندھ ہائی کورٹ نے ایک کروڑ روپے کے ضمانتی مچلکوں کے عوض آغا سراج درانی کی ضمانت منظور کرلی تھی تاہم اگلے ہی روز ان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کرنے کا حکم بھی دیا تھا۔

عدالت نے آغا سراج درانی کی گرفتاری پر نیب کے اقدام پر سوال اٹھایا اور اسپیکر سندھ اسمبلی کی گرفتاری اور ان کے گھر کی تلاشی کو بلاجواز قرار دیا تھا۔

علاوہ ازیں احتساب عدالت میں آغا سراج درانی اور اہلخانہ سمیت دیگر 18 افراد کے خلاف آمدن سے زائد اثاثوں سے متعلق ریفرنس بھی دائر ہے جس میں گزشتہ برس 30 نومبر کو ملزمان پر فرد جرم عائد کی گئی تھی۔
 
Advertisement

Talisman

MPA (400+ posts)
Hang him now..Pakistan..make this khanzeer dakoo of Sindh with his partner in crime Zardari harami hang them both.
No one will hire him as a jamadaar..he is a Arabputee?
 

arafay

Chief Minister (5k+ posts)
LMAO! Just his house in PECHS karachi is probably 25-30 crore.

I would be shocked if market value of all his properties is less than Rs 10 billion
 
Sponsored Link