First student from Balochistan elected as Oxford Union president

asif86

MPA (400+ posts)

LONDON: In a historic first, Israr Kakar, a student from Balochistan, has been elected as president of the Oxford Union.


He is the third Pakistani and first from Balochistan to hold this prestigious position. The Oxford Union, founded in 1823, is one of the oldest and most esteemed debating societies in the world.

Mr Kakar hails from a small village in the Qila Abdullah district.

Currently, he is enrolled in the DPhil programme at Oxford’s Law Department.






Notably, Mr Kakar’s elder brother was also a Rhodes Scholar at Oxford, making him the second in his family to attend college.

Elected on Saturday, Mr Kakar in an interview with Geo News said.

“I am incredibly grateful to the members of the Oxford Union for placing their trust in me. This achievement will inspire the next generation of aspiring young people from humble backgrounds,” he said.

Published in Dawn, June 9th, 2024
 

Mocha7

Minister (2k+ posts)

قلعہ عبداللہ کے اسرار کاکڑ آکسفورڈ یونین کے صدر منتخب ہوگئے​

بے نظیر بھٹو اور احمد نواز کے بعد اسرار یہ اعزاز پانے والے تیسرے پاکستانی، 13 بھائی بہنوں میں سے چھوٹے ہیں


0911430078069de.webp



بلوچستان سے تعلق رکھنے والے اِسرار کاکڑ برطانیہ کی آکسفورڈ یونیورسٹی کی یونین کے صدر منتخب ہوگئے۔ وہ یہ اعزاز پانے والے تیسرے پاکستانی اور پہلے بلوچستانی باشندے ہیں۔

1977 میں بے نظیر بھٹو آکسفورڈ یونین کی صدر منتخب ہونے والی پہلی پاکستانی تھیں۔ اسرار کاکڑ کا تعلق بلوچستان کے ضلع قلعہ عبداللہ کے ایک گاؤں سے ہے۔ 13 بھائی بہنوں میں وہ سب سے چھوٹا ہے۔ گاؤں میں پرائمری کی سطح پر تعلیم پانے کے بعد اسرار کاکڑ نے ایبٹ آباد، لاہور، امریکا اور برطانیہ میں تعلیم حاصل کی۔

اسرار کاکٹر نے یونیورسٹی آف ایبرڈین سے ایل ایل بی آنرز کی ڈگری امتیازی حیثیت میں حاصل کی۔ اس کے بعد وہ لندن کے ادارے لنکنز اِن گئے جہاں سے انہوں نے بار ایٹ لا کی تعلیم مکمل اسکالر شپ پر حاصل کی۔ اس وقت وہ یونیورسٹی آف آکسفورڈ کے شعبہ قانون میں ڈی فِل پروگرام میں انرولڈ ہیں۔

اسرار کاکڑ کے بڑے بھائی بھی آکسفورڈ میں رھوڈز اسکالر تھے۔

اسرار احمد کا کہنا ہے کہ ان کا انتخاب غیر معمولی نوعیت کا ہے کیونکہ ایک پس ماندہ علاقے سے تعلق رکھنے پر بھی انہوں نے محنت کی اور لوگوں نے ان پر بھروسا کیا۔ انہوں نے ووٹ دینے پر طلبہ کا شکریہ ادا کیا۔ یہ پاکستان اور بلوچستان دونوں کے لیے فخر کی بات ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یونین کو زیادہ سے زیادہ مضبوط بنانے اور اس کی اہمیت میں اضافہ کرنے کے لیے بہت کچھ کرنا ہے۔


آکسفورڈ یونیون کے سرکاری اخبار نے بتایا کہ اسرار کاکڑ نے 617 اور ان کے حریف اِزی ہوروکز نے 393 ووٹ لیے۔ یونین کے گزشتہ دو انتخابات کے مقابلے میں فتح کا فرق بہت زیادہ ہے۔ رچل حداد، موسکالینکو، موسٰی ہراج اور سِدھانت ناگرتھ نے بالترتیب لائبریرین، خزانچی اور سیکریٹری کا انتخاب جیتا۔

1823 میں قائم ہونے والی آکسفورڈ یونین کا شمار برطانیہ میں یونیورسٹی کی قدیم ترین یونینوں میں ہوتا ہے۔ برطانوی ملکہ، سابق امریکی صدر رونالڈ ریگن، اور مدر ٹیریسا بھی اس یونین کی صدر رہ چکی ہیں۔

پشاور میں اے پی ایس کے سانحے میں بچ جانے والا طالب علم احمد نواز آکسفورڈ یونین کا صدر منتخب ہونے
والا دوسرا پاکستانی تھا۔



 

Wake up Pak

Prime Minister (20k+ posts)

قلعہ عبداللہ کے اسرار کاکڑ آکسفورڈ یونین کے صدر منتخب ہوگئے​

بے نظیر بھٹو اور احمد نواز کے بعد اسرار یہ اعزاز پانے والے تیسرے پاکستانی، 13 بھائی بہنوں میں سے چھوٹے ہیں


0911430078069de.webp



بلوچستان سے تعلق رکھنے والے اِسرار کاکڑ برطانیہ کی آکسفورڈ یونیورسٹی کی یونین کے صدر منتخب ہوگئے۔ وہ یہ اعزاز پانے والے تیسرے پاکستانی اور پہلے بلوچستانی باشندے ہیں۔

1977 میں بے نظیر بھٹو آکسفورڈ یونین کی صدر منتخب ہونے والی پہلی پاکستانی تھیں۔ اسرار کاکڑ کا تعلق بلوچستان کے ضلع قلعہ عبداللہ کے ایک گاؤں سے ہے۔ 13 بھائی بہنوں میں وہ سب سے چھوٹا ہے۔ گاؤں میں پرائمری کی سطح پر تعلیم پانے کے بعد اسرار کاکڑ نے ایبٹ آباد، لاہور، امریکا اور برطانیہ میں تعلیم حاصل کی۔

اسرار کاکٹر نے یونیورسٹی آف ایبرڈین سے ایل ایل بی آنرز کی ڈگری امتیازی حیثیت میں حاصل کی۔ اس کے بعد وہ لندن کے ادارے لنکنز اِن گئے جہاں سے انہوں نے بار ایٹ لا کی تعلیم مکمل اسکالر شپ پر حاصل کی۔ اس وقت وہ یونیورسٹی آف آکسفورڈ کے شعبہ قانون میں ڈی فِل پروگرام میں انرولڈ ہیں۔

اسرار کاکڑ کے بڑے بھائی بھی آکسفورڈ میں رھوڈز اسکالر تھے۔

اسرار احمد کا کہنا ہے کہ ان کا انتخاب غیر معمولی نوعیت کا ہے کیونکہ ایک پس ماندہ علاقے سے تعلق رکھنے پر بھی انہوں نے محنت کی اور لوگوں نے ان پر بھروسا کیا۔ انہوں نے ووٹ دینے پر طلبہ کا شکریہ ادا کیا۔ یہ پاکستان اور بلوچستان دونوں کے لیے فخر کی بات ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یونین کو زیادہ سے زیادہ مضبوط بنانے اور اس کی اہمیت میں اضافہ کرنے کے لیے بہت کچھ کرنا ہے۔


آکسفورڈ یونیون کے سرکاری اخبار نے بتایا کہ اسرار کاکڑ نے 617 اور ان کے حریف اِزی ہوروکز نے 393 ووٹ لیے۔ یونین کے گزشتہ دو انتخابات کے مقابلے میں فتح کا فرق بہت زیادہ ہے۔ رچل حداد، موسکالینکو، موسٰی ہراج اور سِدھانت ناگرتھ نے بالترتیب لائبریرین، خزانچی اور سیکریٹری کا انتخاب جیتا۔

1823 میں قائم ہونے والی آکسفورڈ یونین کا شمار برطانیہ میں یونیورسٹی کی قدیم ترین یونینوں میں ہوتا ہے۔ برطانوی ملکہ، سابق امریکی صدر رونالڈ ریگن، اور مدر ٹیریسا بھی اس یونین کی صدر رہ چکی ہیں۔

پشاور میں اے پی ایس کے سانحے میں بچ جانے والا طالب علم احمد نواز آکسفورڈ یونین کا صدر منتخب ہونے
والا دوسرا پاکستانی تھا۔




Patwari kabhi aysi jaga nahi pohunch saktay. Patwaris, University of Donkey say graduate ho kar khoha biryani kha kar bus apnay criminal aur dumb leaders ko support kar sak taay hain.