‏مجھے زبردستی پرویز الہیٰ کے خلاف وعدہ معاف گواہ بننے پر مجبور کیا گیا

2antiiraimumtatztzt.jpg

چوہدری پرویز الہیٰ کیس کی سماعت کے دوران سیکرٹری پنجاب اسمبلی رائے ممتاز نے زبردستی وعدہ معاف گواہ بننے پر مجبور کیے جانے کا انکشاف کیا ہے، دوسری جانب محکمہ اینٹی کرپشن نے کیس کی سماعت کرنے والے جج پر اعتراض کردیا۔

تفصیلات کے مطابق لاہور کی ضلع کچہری میں سابق وزیراعلی چوہدری پرویز الہیٰ کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی، دوران سماعت اینٹی کرپشن نے جج پر اعتراض کیا جس پر ریمارکس دیتے ہوئے فاضل جج غلام مرتضیٰ ورک نے کہا کہ میں آپ کی فیور کی بات کروں تو ٹھیک ہے نہ کروں تو میں غلط،میں وہی جج ہوں جس نے محمد خان بھٹی اور پی ٹی آئی کارکنوں کا ریمانڈ دیا، آج آپ کو اعتراض ہے، میں غلط فیصلہ کروں تو آپ اس فیصلے کو چیلنج کریں۔

دوران سماعت سیکرٹری پنجاب اسمبلی رائے ممتاز نے بیان دیتے ہوئے کہا کہ مجھےکل گرفتار کیا گیا اور ایک مقام پر لے جایا گیا، اس جگہ پر ڈی جی اینٹی کرپشن میرے سامنے بیٹھے اور انہوں نے کہا کہ کرسی پر رہنا ہے یا نہیں رہنا؟ میں نے کہا رہنا ہے تو مجھےپرویز الہیٰ کے خلاف زبردستی وعدہ معاف گواہ بننے کا کہا گیا۔

https://twitter.com/x/status/1665315060414300161
انہوں نے کہا کہ زبردستی میرا بیان لیا گیا ، میں پوری رات نہیں سوسکا۔

دوران سماعت اینٹی کرپشن کے وکیل نے عدالت سے چوہدری پرویز الہیٰ کے14 روزہ جسمانی ریمانڈ کی درخواست کی۔

وکلاء نے دلائل دیتے ہوئے موقف اپنایا کہ تمام ریکارڈ عدالت میں اینٹی کرپشن کی جانب سے بھجوا دیا گیا ہے، جسمانی ریمانڈ کس ریکارڈ کی برآمدگی کے کیے مانگا جا رہا ہے؟