jigrot
Minister (2k+ posts)
الحمدللہ! آج پوری قوم کو فخر ہے کہ پاکستان نے ایک بڑے دشمن، بھارت، کے عزائم کو خاک میں ملا دیا۔ ایک ایسی جنگ جس میں دشمن نے پاکستان کو کمزور سمجھ کر حملہ کیا، وہاں ہماری بہادر افواج، خاص طور پر پاک فضائیہ اور پاک فوج نے دشمن کو منہ توڑ جواب دے کر پوری دنیا کو بتا دیا کہ پاکستان نہ کمزور ہے اور نہ ہی خاموش بیٹھنے والا ملک ہے۔
ہم دل کی گہرائیوں سے اپنی افواج کو مبارکباد پیش کرتے ہیں جنہوں نے کم وسائل کے باوجود بڑی طاقت کو شکست دی۔ اس فتح نے ہمیں قومی یکجہتی کا سبق بھی دیا ہے۔ جب بات پاکستان کی ہو، تو ہم سب ایک ہیں نہ کوئی سیاسی اختلاف، نہ کوئی علاقائی تقسیم، نہ کوئی فرقہ واریت۔
لیکن اب، جب جنگی فضا قدرے تھم گئی ہے، ہمیں اپنے اندر کی جنگ کی طرف بھی دیکھنا ہوگا۔ وہ جنگ جو ہم نے خود اپنے اداروں، نظام اور معاشرتی ڈھانچے میں پیدا کی ہے۔
ہمیں اب یہ سوال کرنا ہوگا
جب دشمن سے لڑنے کے لیے ہم ایک ہو سکتے ہیں، تو پھر انتخابی دھاندلی کو کیوں قبول کریں؟
ہم پاک فوج کے کردار کی عزت کرتے ہیں، لیکن فوج کا سیاست میں دخل نہ ملک کے لیے فائدہ مند ہے اور نہ ہی جمہوریت کے لیے۔
ہم ایسی عدلیہ نہیں چاہتے جو دباؤ کے تحت فیصلے کرے، ہم ایک آزاد اور خودمختار عدلیہ چاہتے ہیں جو انصاف کے اصولوں پر کام کرے۔
ہم ایسے سیاست دانوں کو مسترد کرتے ہیں جو چوری، کرپشن، اور اقتدار کی ہوس میں ملک کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
ہم ایک ایسا پاکستان چاہتے ہیں جو نہ صرف سرحدوں پر محفوظ ہو بلکہ نظامِ حکومت میں بھی مضبوط، شفاف اور عوام دوست ہو۔
ہم دشمن کے خلاف متحد تھے، اب ہمیں کرپشن، سیاسی مداخلت، اور عدالتی کمزوری کے خلاف بھی متحد ہونا ہوگا۔
پاکستان صرف جنگ جیتنے سے مضبوط نہیں ہوگا وہ اس وقت مضبوط ہوگا جب ہم اپنی بنیادیں درست کریں گے، اداروں کو آزاد کریں گے، اور عوام کو حقِ حکمرانی دیں گے۔
یہی وقت ہے کہ ہم اپنے آپ سے وعدہ کریں
جیسے ہم نے دشمن کے سامنے جھکنے سے انکار کیا، ویسے ہی ہم اندرونی ظلم، ناانصافی، اور کرپشن کے سامنے بھی جھکنے سے انکار کریں گے۔
ہم ایک مضبوط، خودمختار، اور خوشحال پاکستان چاہتے ہیں اور اس کے لیے ہم صرف افواج پر نہیں، اپنے شعور، اتحاد اور کردار پر بھی یقین رکھتے ہیں۔
ہم دل کی گہرائیوں سے اپنی افواج کو مبارکباد پیش کرتے ہیں جنہوں نے کم وسائل کے باوجود بڑی طاقت کو شکست دی۔ اس فتح نے ہمیں قومی یکجہتی کا سبق بھی دیا ہے۔ جب بات پاکستان کی ہو، تو ہم سب ایک ہیں نہ کوئی سیاسی اختلاف، نہ کوئی علاقائی تقسیم، نہ کوئی فرقہ واریت۔
لیکن اب، جب جنگی فضا قدرے تھم گئی ہے، ہمیں اپنے اندر کی جنگ کی طرف بھی دیکھنا ہوگا۔ وہ جنگ جو ہم نے خود اپنے اداروں، نظام اور معاشرتی ڈھانچے میں پیدا کی ہے۔
ہمیں اب یہ سوال کرنا ہوگا
جب دشمن سے لڑنے کے لیے ہم ایک ہو سکتے ہیں، تو پھر انتخابی دھاندلی کو کیوں قبول کریں؟
ہم پاک فوج کے کردار کی عزت کرتے ہیں، لیکن فوج کا سیاست میں دخل نہ ملک کے لیے فائدہ مند ہے اور نہ ہی جمہوریت کے لیے۔
ہم ایسی عدلیہ نہیں چاہتے جو دباؤ کے تحت فیصلے کرے، ہم ایک آزاد اور خودمختار عدلیہ چاہتے ہیں جو انصاف کے اصولوں پر کام کرے۔
ہم ایسے سیاست دانوں کو مسترد کرتے ہیں جو چوری، کرپشن، اور اقتدار کی ہوس میں ملک کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
ہم ایک ایسا پاکستان چاہتے ہیں جو نہ صرف سرحدوں پر محفوظ ہو بلکہ نظامِ حکومت میں بھی مضبوط، شفاف اور عوام دوست ہو۔
ہم دشمن کے خلاف متحد تھے، اب ہمیں کرپشن، سیاسی مداخلت، اور عدالتی کمزوری کے خلاف بھی متحد ہونا ہوگا۔
پاکستان صرف جنگ جیتنے سے مضبوط نہیں ہوگا وہ اس وقت مضبوط ہوگا جب ہم اپنی بنیادیں درست کریں گے، اداروں کو آزاد کریں گے، اور عوام کو حقِ حکمرانی دیں گے۔
یہی وقت ہے کہ ہم اپنے آپ سے وعدہ کریں
جیسے ہم نے دشمن کے سامنے جھکنے سے انکار کیا، ویسے ہی ہم اندرونی ظلم، ناانصافی، اور کرپشن کے سامنے بھی جھکنے سے انکار کریں گے۔
ہم ایک مضبوط، خودمختار، اور خوشحال پاکستان چاہتے ہیں اور اس کے لیے ہم صرف افواج پر نہیں، اپنے شعور، اتحاد اور کردار پر بھی یقین رکھتے ہیں۔