کیا مندر پر حملہ کرنا، بتوں کو توڑنا غلط عمل ہے

Baadshaah

MPA (400+ posts)
رحیم یار خان کے قصبے بھونگ میں لوگوں نے ہندوؤں کے مندر پر حملہ کیا، اندر پڑی مورتیاں / بت توڑ پھوڑ دیئے۔ سوشل میڈیا پر تقریباً تمام ذی شعور افراد نے اس کی مذمت کی۔ وزیراعظم عمران خان اور دیگر سیاسی لیڈران نے بھی اس کی مذمت کی۔ چیف جسٹس نے نوٹس لیا اور پولیس کو سخت احکامات جاری کئے، اس سے پہلے کرک میں ہندوؤں کے مندر پر حملہ ہوا، اس کی بھی سب نے مذمت کی۔۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ موجودہ دور میں کسی کی عبادتگاہ پر حملہ کرنا، بتوں کو توڑنا ایک غلط عمل ہے اور اس کی کسی صورت اجازت نہیں دی جاسکتی۔ جب ہمارا معاشرہ اس بات پر متفق ہے تو کیا وجہ ہے کہ ہم اپنے تعلیمی نصاب کو اس سے ہم آہنگ نہیں کرتے۔ ہمارے تعلیمی نصاب میں بچوں کو یہ کیوں پڑھایا جاتا ہے کہ حضرت ابراہیم کلہاڑا لے کر بت پرستوں کی عبادتگاہ میں داخل ہوگئے اور سب بت توڑ دیئے۔ ہم اپنے بچوں کو یہ کیوں پڑھاتے ہیں کہ سرکارِ دو عالم اور حضرت علی نے مکہ میں بتوں کو پاش پاش کردیا تھا۔ جب تعلیمی نصاب میں بتوں کو توڑنے کو گلوریفائی کیا جائے گا اور بچوں کو یہ بتایا جائے گا کہ بت توڑنا تو پیغمبروں کی سنت ہے اور بڑا ثواب کا کم ہے تو ایسی نسلیں دوسروں کی عبادتگاہوں کا احترام کیوںکر کریں گی؟ جب ہم جانتے ہیں کہ دورِ حاضر میں صدیوں پرانے زمانوں کے طریق پر نہیں چلا جاسکتا تو ہم اپنا نصاب درست کیوں نہیں کرلیتے؟

بات صرف یہیں تک محدود نہیں۔ ہمارے نام نہاد قومی شاعر جناب علامہ اقبال نے بھی اپنی شاعری میں جگہ جگہ بتوں کو توڑنے کو گلوریفائی کیا ہوا ہے اور یہ اشعار بھی ہمارے تعلیمی نصاب میں شامل ہیں۔ ملاحظہ کیجئے۔۔


تو ہی کہہ دے کہ اکھاڑا درِ خیبر کس نے
توڑ کر رکھ دیئے مخلوقِ خداوندوں کے پیکر کس نے

بت شکن اٹھ گئے، باقی جو رہے بت گر ہیں
تھا براہیم پدر اور پسر آزر ہیں

قوم اپنی جو زر و مالِ جہاں پر مرتی
بُت فروشی کے عَوض بُت شکَنی کیوں کرتی

اور بھی کئی اشعار ہیں جن میں بتوں کو توڑنے کو پروموٹ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ہمارے نصاب میں محمود غزنوی کو بطور ہیرو پڑھایا جاتا ہے جس نے ہندوؤں کے سب سے بڑے معبد سومنات کے مندر پر حملہ کیا اور اس کو تباہ و برباد کردیا۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری آنے والی نسلیں مذہبی منافرت کو چھوڑ کر مذہبی ہم آہنگی کو اپنائیں، تو یہ ضروری ہے کہ ہم اپنے نصاب کو ایسی نفرت بھری تعلیمات سے پاک کریں۔۔۔
 

Citizen X

(50k+ posts) بابائے فورم
According to the moulvism taught by these fake bhannd moulvis it is not only OK but a must. Look at what the taliban and ISIS did.

Invaluable ancient artifacts destroyed by these medieval savages
20140211_buddha_afp.jpg


If these savages ever took over Egypt they would do the same with the pyramids and sphinx
 

The wizard

MPA (400+ posts)
Simple theory hai pehli jb hazoor pbuh ny batal ko khatam Krny k liye butto ko toor kr Makkah fatah kiya aur phir aik jagah farmaya b tha mazhabi azadi ka....... Bs mullah idhr easily bharka jata humara mulk azad hai Islam haq pr hai hr koi asani sy aur apni Marzi sy Islam mai a skta phir butto ko toorna jahalat hi hai
 
Last edited:

Sher-Kok

MPA (400+ posts)
اس تھریڈ میں بت شکنی کے بارے میں جن خیالات کوپیش کیا گیا ہے وہ کم علمی پہ مبنی ہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبہ کے بتوں کو توڑا، کیونکہ کعبہ خالص اللہ کی عبادت کے لئے قائم کیا گیا تھا، مشرکین مکہ نے اس کو شرک سے آلودہ کر دیا تھا اس لئے اسے اللہ کے حکم سے اس گندگی سے پاک کرنا ضروری تھا، اور حرمین کی سرزمین کو اللہ نے اپنے لئے خاص کر لیا ہے اس لئے وہاں بت پرستی کی اجازت نہیں ہے، اللہ جو چاہتا ہے وہ کرتا ہے۔ جزیرہ نمائے عرب کو اللہ کے حکم سے بتوں سے پاک کیا گیا، علامہ اقبال کے شعر میں اسی طرف اشارہ ہے۔
قوم اپنی جو زر و مالِ جہاں پر مرتی
بُت فروشی کے عَوض بُت شکَنی کیوں کرتی
بادشاہی مسجد پہ سکھوں نے قبضہ کیا تو وہ وہاں گھوڑے باندھتے رہے اور عبادت روک دی، جب مسلمانوں نے دوبارہ قبضہ کیا تو اس کو پاک کیا اور دوبارہ عبادت کے لئے کھول دیا۔
سیدنا ابراہیم نے لوگوں کو یہ بات سمجھانے کے لئے کہ بت تمہاری حاجات کو کیسے پورا کر سکتے ہیں وہ تو اپنی حفاظت بھی نہیں کر سکتے، بتوں کوتوڑا، جس کی سزا کے طور پر ان کو آگ میں پھینکا گیا، یہ ایک نبی کا عمل ہے جو ان کے ساتھ خاص ہے، اسی طرح انہوں نے اپنے بیٹے کو ذبح کرنے کے لئے چھری چلا دی جو ان کے ساتھ خاص ہے۔
بیسویں صدی کے آغاز تک کا دور فاتحین کا دور تھا ، طاقتور جس ملک کو بزور شمشیر فتح کرتے اس کے مالک قرار پاتے، مسلمانوں نے جو علاقے فتح کئے ان میں زیادہ تر روا داوی سے کام لیا، اگر انہوں نے کہیں تجاوز کیا تو یہ ان کا ذاتی فعل ہے، اگر مسلمان جبر سے کام لیتے تو ہندوستان اور سپین کی اکثریت کو جبرا" مسلمان کر لیتے لیکن انہوں نے ہمیشہ رواداری سے کام لیا اور مذہب کے معاملے میں کوئی جبر روا نہیں رکھا۔ جبکہ عیسائیوں نے سپین پر دوبارہ قبضہ کیا تو انہون نے وہاں کے تمام مسلمانوں کو جبرا" عیسائی بنا دیا۔

 

Dr Adam

Prime Minister (20k+ posts)

ابے وہ گڑھی خدا بخش کے جس مندر میں قبروں کے اندر ابھی تک تمہارے بھگوان زندہ ہیں اس مندر بارے کیا خیال ہے؟ تم پپلی مجاور اس مندر کو کب گرا کر ثواب کما رہے ہو؟؟؟
برسبیل تذکرہ پوچھا ہے
 
Last edited:

Husaink

Prime Minister (20k+ posts)
رحیم یار خان کے قصبے بھونگ میں لوگوں نے ہندوؤں کے مندر پر حملہ کیا، اندر پڑی مورتیاں / بت توڑ پھوڑ دیئے۔ سوشل میڈیا پر تقریباً تمام ذی شعور افراد نے اس کی مذمت کی۔ وزیراعظم عمران خان اور دیگر سیاسی لیڈران نے بھی اس کی مذمت کی۔ چیف جسٹس نے نوٹس لیا اور پولیس کو سخت احکامات جاری کئے، اس سے پہلے کرک میں ہندوؤں کے مندر پر حملہ ہوا، اس کی بھی سب نے مذمت کی۔۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ موجودہ دور میں کسی کی عبادتگاہ پر حملہ کرنا، بتوں کو توڑنا ایک غلط عمل ہے اور اس کی کسی صورت اجازت نہیں دی جاسکتی۔ جب ہمارا معاشرہ اس بات پر متفق ہے تو کیا وجہ ہے کہ ہم اپنے تعلیمی نصاب کو اس سے ہم آہنگ نہیں کرتے۔ ہمارے تعلیمی نصاب میں بچوں کو یہ کیوں پڑھایا جاتا ہے کہ حضرت ابراہیم کلہاڑا لے کر بت پرستوں کی عبادتگاہ میں داخل ہوگئے اور سب بت توڑ دیئے۔ ہم اپنے بچوں کو یہ کیوں پڑھاتے ہیں کہ سرکارِ دو عالم اور حضرت علی نے مکہ میں بتوں کو پاش پاش کردیا تھا۔ جب تعلیمی نصاب میں بتوں کو توڑنے کو گلوریفائی کیا جائے گا اور بچوں کو یہ بتایا جائے گا کہ بت توڑنا تو پیغمبروں کی سنت ہے اور بڑا ثواب کا کم ہے تو ایسی نسلیں دوسروں کی عبادتگاہوں کا احترام کیوںکر کریں گی؟ جب ہم جانتے ہیں کہ دورِ حاضر میں صدیوں پرانے زمانوں کے طریق پر نہیں چلا جاسکتا تو ہم اپنا نصاب درست کیوں نہیں کرلیتے؟

بات صرف یہیں تک محدود نہیں۔ ہمارے نام نہاد قومی شاعر جناب علامہ اقبال نے بھی اپنی شاعری میں جگہ جگہ بتوں کو توڑنے کو گلوریفائی کیا ہوا ہے اور یہ اشعار بھی ہمارے تعلیمی نصاب میں شامل ہیں۔ ملاحظہ کیجئے۔۔


تو ہی کہہ دے کہ اکھاڑا درِ خیبر کس نے
توڑ کر رکھ دیئے مخلوقِ خداوندوں کے پیکر کس نے

بت شکن اٹھ گئے، باقی جو رہے بت گر ہیں
تھا براہیم پدر اور پسر آزر ہیں

قوم اپنی جو زر و مالِ جہاں پر مرتی
بُت فروشی کے عَوض بُت شکَنی کیوں کرتی

اور بھی کئی اشعار ہیں جن میں بتوں کو توڑنے کو پروموٹ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ہمارے نصاب میں محمود غزنوی کو بطور ہیرو پڑھایا جاتا ہے جس نے ہندوؤں کے سب سے بڑے معبد سومنات کے مندر پر حملہ کیا اور اس کو تباہ و برباد کردیا۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری آنے والی نسلیں مذہبی منافرت کو چھوڑ کر مذہبی ہم آہنگی کو اپنائیں، تو یہ ضروری ہے کہ ہم اپنے نصاب کو ایسی نفرت بھری تعلیمات سے پاک کریں۔۔۔
ابے اوے گدھے تم اپنا علاج کیوں نہیں کروا لیتے سیدھا یہاں بیماری پھیلانے آ جاتے ہو
 

Anemex

Councller (250+ posts)
So prophet Ibrahim and Muhammad destroying idols is good but Muslims doing it is bad?
Prophet Muhammad P.B.U.H Broke idols of KABA which is House of ALLAH, The most sacred place for Islam. He didn't break any other idol in any home of Makkah or any other Place of Makkah !

Also Prophet Mohammad P.B.U.H asked not to break other worship places and kill other religious people even during WAR !!!

He P.B.U.H even asked even NOT to say bad about the Gods of other Religions !

This clarifies Breaking idols placed in Masid is absolutely right but Breaking Idols in Mandir the worship places of other religion is absolutely Wrong,

So use your brain and try to read and understand Islamic teachingss and try to undertand the Prohpet's guidance !!!

Note: Mahmood Ghaznavi was not Prophet, we are not asked by Allah to Follow him !
 

Anemex

Councller (250+ posts)
According to the moulvism taught by these fake bhannd moulvis it is not only OK but a must. Look at what the taliban and ISIS did.

Invaluable ancient artifacts destroyed by these medieval savages
20140211_buddha_afp.jpg


If these savages ever took over Egypt they would do the same with the pyramids and sphinx
This was not Mandir, not Pakistan. AFG belongs to Afghans they can do whatever they want. Just focus on your own country
 

ranaji

(50k+ posts) بابائے فورم
ابے اوے گدھے تم اپنا علاج کیوں نہیں کروا لیتے سیدھا یہاں بیماری پھیلانے آ جاتے ہو
کیونکہ اس فورم ہر ڈاکٹر آدم سمیت تین ویلے ڈاکٹر تو ہر وقت رہتے ہیں
تین تو وہ ہیں جو سرٹیفائیڈ ڈاکٹر ہیں جن میں سے دو سرٹیفائیڈ سرجن بھی ہیں۔ کوئی اور بھی چھپا رستم ہو تو معلوم نہیں
اور یہاں تو کنسل ٹیشن بھی فری ہے
اور بغیر ویٹنگ
اس لئے
 

Baadshaah

MPA (400+ posts)
Prophet Muhammad P.B.U.H Broke idols of KABA which is House of ALLAH, The most sacred place for Islam. He didn't break any other idol in any home of Makkah or any other Place of Makkah !

Also Prophet Mohammad P.B.U.H asked not to break other worship places and kill other religious people even during WAR !!!

He P.B.U.H even asked even NOT to say bad about the Gods of other Religions !

This clarifies Breaking idols placed in Masid is absolutely right but Breaking Idols in Mandir the worship places of other religion is absolutely Wrong,

So use your brain and try to read and understand Islamic teachingss and try to undertand the Prohpet's guidance !!!

Note: Mahmood Ghaznavi was not Prophet, we are not asked by Allah to Follow him !
اس تھریڈ میں بت شکنی کے بارے میں جن خیالات کوپیش کیا گیا ہے وہ کم علمی پہ مبنی ہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبہ کے بتوں کو توڑا، کیونکہ کعبہ خالص اللہ کی عبادت کے لئے قائم کیا گیا تھا، مشرکین مکہ نے اس کو شرک سے آلودہ کر دیا تھا اس لئے اسے اللہ کے حکم سے اس گندگی سے پاک کرنا ضروری تھا، اور حرمین کی سرزمین کو اللہ نے اپنے لئے خاص کر لیا ہے اس لئے وہاں بت پرستی کی اجازت نہیں ہے، اللہ جو چاہتا ہے وہ کرتا ہے۔ جزیرہ نمائے عرب کو اللہ کے حکم سے بتوں سے پاک کیا گیا، علامہ اقبال کے شعر میں اسی طرف اشارہ ہے۔
قوم اپنی جو زر و مالِ جہاں پر مرتی
بُت فروشی کے عَوض بُت شکَنی کیوں کرتی
بادشاہی مسجد پہ سکھوں نے قبضہ کیا تو وہ وہاں گھوڑے باندھتے رہے اور عبادت روک دی، جب مسلمانوں نے دوبارہ قبضہ کیا تو اس کو پاک کیا اور دوبارہ عبادت کے لئے کھول دیا۔
سیدنا ابراہیم نے لوگوں کو یہ بات سمجھانے کے لئے کہ بت تمہاری حاجات کو کیسے پورا کر سکتے ہیں وہ تو اپنی حفاظت بھی نہیں کر سکتے، بتوں کوتوڑا، جس کی سزا کے طور پر ان کو آگ میں پھینکا گیا، یہ ایک نبی کا عمل ہے جو ان کے ساتھ خاص ہے، اسی طرح انہوں نے اپنے بیٹے کو ذبح کرنے کے لئے چھری چلا دی جو ان کے ساتھ خاص ہے۔
بیسویں صدی کے آغاز تک کا دور فاتحین کا دور تھا ، طاقتور جس ملک کو بزور شمشیر فتح کرتے اس کے مالک قرار پاتے، مسلمانوں نے جو علاقے فتح کئے ان میں زیادہ تر روا داوی سے کام لیا، اگر انہوں نے کہیں تجاوز کیا تو یہ ان کا ذاتی فعل ہے، اگر مسلمان جبر سے کام لیتے تو ہندوستان اور سپین کی اکثریت کو جبرا" مسلمان کر لیتے لیکن انہوں نے ہمیشہ رواداری سے کام لیا اور مذہب کے معاملے میں کوئی جبر روا نہیں رکھا۔ جبکہ عیسائیوں نے سپین پر دوبارہ قبضہ کیا تو انہون نے وہاں کے تمام مسلمانوں کو جبرا" عیسائی بنا دیا۔




حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبُو دَاوُدَ الْمُبَارَكِيُّ سُلَيْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا أَبُو شِهَابٍ عَنْ شُعْبَةَ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ أَبِي الْمُوَرِّعِ عَنْ عَلِيٍّ قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَنَازَةٍ فَقَالَ مَنْ يَأْتِي الْمَدِينَةَ فَلَا يَدَعُ قَبْرًا إِلَّا سَوَّاهُ وَلَا صُورَةً إِلَّا طَلَخَهَا وَلَا وَثَنًا إِلَّا كَسَرَهُ قَالَ فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ أَنَا ثُمَّ هَابَ أَهْلَ الْمَدِينَةِ فَجَلَسَ قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَانْطَلَقْتُ ثُمَّ جِئْتُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَمْ أَدَعْ بِالْمَدِينَةِ قَبْرًا إِلَّا سَوَّيْتُهُ وَلَا صُورَةً إِلَّا طَلَخْتُهَا وَلَا وَثَنًا إِلَّا كَسَّرْتُهُ قَالَ فَقَالَ مَنْ عَادَ فَصَنَعَ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ فَقَدْ كَفَرَ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ عَلَى مُحَمَّدٍ يَا عَلِيُّ لَا تَكُونَنَّ فَتَّانًا أَوْ قَالَ مُخْتَالًا وَلَا تَاجِرًا إِلَّا تَاجِرَ الْخَيْرِ فَإِنَّ أُولَئِكَ هُمْ الْمُسَوِّفُونَ فِي الْعَمَلِ

حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہم لوگ ایک جنازے میں شریک تھے، اس موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کون شخص مدینہ منورہ جائے گا کہ وہاں جا کر کوئی بت ایسا نہ چھوڑے جسے اس نے توڑ نہ دیا ہو، کوئی قبر ایسی نہ چھوڑے جسے برابر نہ کردیا اور کوئی تصویر ایسی نہ دیکھے جس پر گارا اور کیچڑ نہ مل دے؟ ایک شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ! میں یہ کام کروں گا، چنانچہ وہ آدمی روانہ ہوگیا، لیکن جب مدینہ منورہ پہنچا تو وہ اہل مدینہ سے مرعوب ہو کر واپس لوٹ آیا۔ یہ دیکھ کر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ! میں جاتا ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی، چنانچہ جب وہ واپس آئے تو عرض کیا یا رسول اللہ! میں نے جہاں بھی کسی نوعیت کا بت پایا اسے توڑ دیا، جو قبر بھی نظر آئی اسے برابر کر دیا اور جو تصویر بھی دکھائی دی اس پر کیچڑ ڈال دیا، اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اب جو شخص ان کاموں میں سے کوئی کام دوبارہ کرے گا گویا وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کردہ وحی کا انکار کرتا ہے، نیز یہ بھی فرمایا کہ اے علی! تم لوگوں کو فتنہ میں ڈالنے والے یا شیخی خورے مت بننا، صرف خیر ہی کے تاجر بننا، کیونکہ یہ وہی لوگ ہیں جن پر صرف عمل کے ذریعے ہی سبقت لے جانا ممکن ہے.مسند احمد ۔ جلد اول ۔ حدیث 1111۔