کراچی میں پرائیویٹ سکیورٹی گارڈز کی تعداد پولیس اہلکاروں سے بڑھ گئی

13kakrkksjkjkdj.png

شہرقائد میں پولیس اہلکاروں سے زیادہ تعداد میں پرائیویٹ کمپنیوں میں بھرتی سکیورٹی گارڈز کی تعداد ہونے کا انکشاف سامنے آیا ہے۔

آئی جی سندھ غلام نبی سندھ کی طرف سے یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ شہرقائد میں پولیس اہلکاروں کی تعداد 44 ہزار 4 سو 36 ہے جبکہ پرائیویٹ کمپنیوں میں بھرتی کیے گئے سکیورٹی گارڈز کی تعداد 50 ہزار سے بھی بڑھ چکی ہے۔ آئی جی سندھ نے فیصلہ کیا ہے کہ اس حوالے سے وزیر داخلہ سندھ کو آگاہ کیا جائے۔

آئی جی سندھ کا میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ اتنی بڑی تعداد میں پرائیویٹ کمپنیوں میں سکیورٹی گارڈز بھرتی ہونا سکیورٹی کمپنیز کی طرف سے ایس او پیز کی خلاف ورزی ہے جس سے وزیر داخلہ سندھ کو آگاہ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ کراچی میں سکیورٹی گارڈز کی فائرنگ سے 4 شہریوں کے قتل ہونے کے واقعہ کے بعد سکیورٹی کمپنیز کی طرف سے ایس او پیز کی خلاف ورزی کرنے پر وہ انتہائی برہم نظر آئے۔

آئی جی سندھ کا کہنا تھا کہ کراچی میں کام کرنے والی غیرمصدقہ سکیورٹی کمپنیز کو بند ہونا چاہیے، کراچی میں رجسٹرڈ سکیورٹی کمپنیز کی تعداد 2 سو کے قریب ہے جو محکمہ داخلہ کے دائرہ کار میں آتی ہیں۔ سکیورٹی کمپنیز کی طرف سے ایس او پیز کی خلاف ورزی کا معاملہ سامنے آنے پر ان کمپنیوں کے خلاف محکمہ داخلہ کو لکھا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ کراچی میں پرائیویٹ سکیورٹی کمپنیز کے سکیورٹی گارڈز کی فورس کی تعداد پولیس اہلکاروں سے زیادہ ہونا تشویشناک ہے۔ سیکیورٹی گارڈز کی غفلت کے باعث شہریوں کی جان جانے کے معاملے پر آئی جی سندھ غلام نبی میمن نے واضح مؤقف اپناتے ہوئے کہا غیرمصدقہ سکیورٹی کمپنیز کو بند ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ پولیس کا کردار قانونی ہے جو قانون کی خلاف ورزی ہونے کے بعد متحرک ہوتی ہے، پہلے کوئی بھی شخص سکیورٹی کمپنی میں بھرتی ہو جاتا تھا، ہم نے ان کمپنیز کو اپنے سافٹ ویئر تک رسائی دی اور پولیس کی مدد سے کئی مجرموں کو گرفتار کیا۔ سکیورٹی ایجنسیز کے ایک وفد سے بھی چند دن پہلے ملاقات ہوئی جس میں ان سے پرائیویٹ سکیورٹی گارڈ بھرتی کرنے سے پہلے لائحہ عمل تیار کرنے کا کہا تھا۔

انہوں نے کہا کہ سکیورٹی کمپنیز کو سکیورٹی کلیئرنس، تربیت اور ایس او پیز پر عملدرآ کرنا ہو گا، سکیورٹی گارڈز کی تربیت کے لیے سندھ پولیس بھی اپنا بھرپور کردار ادا کرے گی۔ نجی سکیورتی کمپنیاں حفاظتی اسلح کی نمائش پر پابندی ممکن بنائیں، ایسے واقعات تربیت یا فٹنس نہ ہونے کے باعث ہوتے ہیں، غیرتربیت یافتہ افراد کو ہتھیار دے دیئے جاتے ہیں، ایسی کمپنیز کیخلاف کارروائی کرنے کیلئے محکمہ داخلہ سندھ کو لکھیں گے۔