
پاکستان اور بھارت نے اپنے شہریوں کی باہمی واپسی کے بعد واہگہ اور اٹاری بارڈرز کو دوبارہ بند کر دیا ہے۔ دونوں ممالک نے رہ جانے والے شہریوں کی واپسی کے لیے خصوصی طور پر بارڈرز کھولے تھے جہاں آخری شہریوں نے ایک دوسرے کے ملک سے واپسی کی۔ کئی شہریوں نے اس موقع پر اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "سیاست کی خاطر عوام کو ایک دوسرے سے دور کرنے والا کسی کا دوست نہیں ہو سکتا"۔ ان میں سے کچھ بھارتی شہری پاکستانی رشتہ داروں سے ملنے آئے تھے، تو کچھ شادیوں یا دیگر ذاتی وجوہات کی بنا پر یہاں موجود تھے۔
پورا دن پاکستانی شہری واہگہ بارڈر پر بھارت میں رہ جانے والے اپنے پیاروں کی واپسی کا انتظار کرتے رہے۔ واپس جانے والے بھارتی شہریوں نے پاکستانی مہمان نوازی کی تعریف کی اور کہا کہ انہیں یہاں رہتے ہوئے بہت پیار ملا۔ پاکستانی سفارت خانے کے اراکین صبح سویرے واہگہ بارڈر کے راستے پاکستان پہنچ گئے جبکہ بھارتی سفارت کاروں کے سامان سے بھرے سات کنٹینرز بھی بھارت روانہ کر دیے گئے۔
اب دونوں ممالک کے درمیان سرحدی گزرگاہیں دوبارہ بند ہو چکی ہیں اور معمول کے مطابق سفارتی تعلقات کے علاوہ عوامی سطح پر آمدورفت معطل ہے۔ شہریوں نے اس صورتحال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی تناؤ کے باوجود عام لوگوں کے درمیان محبت اور بھائی چارے کے جذبات برقرار ہیں۔ واپس جانے والے بھارتی شہریوں نے خصوصی طور پر پاکستانی عوام کی مہمان نوازی اور رواداری کو سراہا۔