پاکستان نےبجٹ تجاویز میں ٹیکس نیٹ کووسیع کرنےکاموقع ضائع کردیا:آئی ایم ایف

ishaq-dar-khan-aa.jpg


پاکستان میں انٹرنیشنل مانیٹرنگ فنڈ کی نمائندہ ایسٹر پریز نے کہا پاکستان نے بجٹ تجاویز میں ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے کا موقع گنوا دیا،آئی ایم ایف نے کہا بے نظیر انکم سپورٹ پرو گرام کیلئے وسائل کو کم کیا گیا، جبکہ نئی ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کو قرض پروگرام کی شرائط کے منافی قرار دے دیا۔

ایسٹر پریز نے کہا نئی ایمنسٹی ایک نقصان دہ نظیر پیدا کرتی ہے، ٹیکس اخراجات میں ایمنسٹی پروگرام کی شرائط حکمرانی کے ایجنڈے کے خلاف ہے،توانائی شعبے پر مالی دباؤ میں کمی کیلئے اقدامات پر زور دیا اور بجٹ کی منظوری سے پہلے حکومت کے ساتھ مل کر کام کرنے کی پیشکش کی۔

دوسری جانب موڈیز انویسٹر سروس نے خبردار کیا ہے کہ انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ کے ساتھ پاکستان کے بیل آؤٹ پروگرام کی کامیابی کے امکانات کم ہوگئے،پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان 6.7 ارب ڈالر کے بیل آؤٹ پروگرام پر بات چیت جاری ہے لیکن موڈیز کے مطابق یہ پروگرام مشکلات کا شکار ہے۔

موڈیز کے تجزیہ کار گریس لم نے کہا کہ اس بات کے قوی امکانات موجود ہیں کہ پاکستان جون کے آخر میں ختم ہونے والا آئی ایم ایف پروگرام مکمل نہیں کر پائے گا،آئی ایم ایف پروگرام کے بغیر پاکستان دیوالیہ ہوسکتا ہے کیونکہ اس کے زرمبادلہ ذخائر بہت کم ہیں۔

پاکستان عالمی مالیاتی ادارے کے ساتھ بیل آؤٹ پروگرام کی بحالی کیلئے آخری کوششیں کر رہا ہے،بحالی کے عمل میں 2 ارب ڈالر کی ادائیگیاں اور ایکسچینج ریٹ پالیسی بڑی رکاوٹیں ہیں۔

پاکستان کو رواں مالی سال 23 ارب ڈالر کے بیرونی قرضے ادا کرنے ہیں، یہ رقم پاکستان کے زر مبادلہ ذخائر سے 5 گنا زیادہ ہے،گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے قرضے کی ری اسٹرکچرنگ سے متعلق اطلاعات کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا کہ جون میں 90 کروڑ ڈالر کا قرضہ ادا کریں گے جبکہ 2.3 ارب ڈالر کی ادائیگی کو موخر کروایا جائے گا۔