
ایک طرف پاکستان کے ساتھ ساتھ بھارت میں بھی فضائی آلودگی پر قابو پانے کیلئے کوششیں جاری ہیں تو دوسری طرف پاک بھارت سرحد کے اطراف فصلوں کی باقیات جلانے کا سلسلہ تھما نہیں جس پر درجنوں کسان گرفتار کر لیے گئے ہیں۔
بین الاقوامی خبررساں ادارے سے بات کرتے ہوئے بھارتی حکام نے کہا کہ بھارتی شمالی ریاست ہریانہ میں کھیتوں کو صاف کرنے کیلئے دھان کی فصل کی باقیات غیرقانونی طور پر جلانے والے 16 کے قریب کسان گرفتار کر لیے گئے ہیں۔
پاک بھارت سرحد کے اطراف موسم سرما شروع ہوتے ہی کسان یہ غیرقانونی طور پر کسانوں کی باقیات جلانا شروع کر دیتے ہیں جو فضائی آلودگی کا سبب بنتا ہے۔ بھارتی حکام کے مطابق درجہ حرارت کم ہونے کے ساتھ پنجاب اور ہریانہ کی زرعی ریاستوں کی تعمیراتی دھول اور گاڑیاں کا دھواں ٹھنڈی ہوائیں آلودہ کرنے کا سبب ہے جس سے ہر سال نئی دہلی میں فضائی آلودگی بڑھ جاتی ہے۔
سنٹرل پولوشن کنٹرول بورڈ کی رپورٹ کے مطابق دہلی کا ایئرکوالٹی انڈیکس (اے کیو آئی) 320 درجے تھا، 0 سے 50 اے کیو آئی بہترین تصور کیا جاتا ہے جبکہ 400 سے 500 کو صحت کیلئے انتہائی خطرناک تصور کیا جاتا ہے۔ لاہور کے بعد نئی دہلی دنیا کا دوسرا آلودہ ترین شہر رہا جہاں کی وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے سموگ سے نپٹنے کیلئے بھارت کے ساتھ ماحولیاتی سفارتکاری کی تجویز دی ہے۔
پنجاب پولیس کا کہنا ہے کہ اینٹوں کے ممنوعہ بھٹے جلانے، فصلوں کی باقیات جلانے اور دھواں چھوڑنے والی گاڑیاں چلانے پر 182 مقدمات درج کیے گئے جبکہ 71 شہریوں کو گرفتار کر لیا گیا۔ سینئر وزیر پنجاب مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ فضائی آلودگی سے نپٹنے کیلئے مصنوعی بارش ودیگر اقدامات کے لیے فنڈز مختص کیے گئے ہیں، مصنوعی بارش کے ہر مرحلے پر 50 سے 70 لاکھ کے قریب لاگت آئے گی۔
ہریانیہ پولیس کے مطابق رواں برس کسانوں کی طرف سے فصلوں کی باقیات جلانے پر 22 مقدمات درج کیے گئے ہیں جبکہ 16 شہریوں کو گرفتار کیا گیا تھا جنہیں ضمانت پر رہا کیا جا چکا ہے۔ ہریانہ سے تعلق رکھنے والے 100 سے زیادہ کسانوں کے خلاف تحقیقات شروع کی گئی ہیں جبکہ 300 سے زیادہ شہریوں پر جرمانے بھی عائد کیے گئے ہیں۔
وزارت ماحولیات بھارت نے کہا کہ ناسازگار ماحولیاتی وموسمی عوام کے باعث دہلی کی ہوا کا معیار آئندہ دنوں 300 سے 400 کے قریب رہے گا۔ فضائی آلودگی سے نپٹنے کیلئے سڑکوں پر پانی چھڑکائو، پبلک بسز کا استعمال بڑھانے، پارکنگ فیسیں بڑھانے کے احکام جاری کیے ہیں، ماہرین ماحولیات نے ان اقدامات کو ناکافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ہنگامی اقدامات ہیں، فضائی آلودگی ختم کرنے کیلئے پائیدار حل نکالنے چاہئیں۔
- Featured Thumbs
- https://www.siasat.pk/data/files/s3/13crowasjdhjdinsinpaksl.png