ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ، پولیس اور عدلیہ کرپٹ ترین اداروں میں شامل

1corruptdepart.jpg

ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل پاکستان نے قومی سطح پر کرپشن کے تاثر کے حوالے سے اپنی سالانہ رپورٹ "نیشنل کرپشن پرسیپشن سروے 2022" جاری کی ہے جس میں بتایا کہ پولیس ملک کا کرپٹ ترین ادارہ ہے دوسرے نمبر پر ٹینڈرنگ اور کنٹریکٹ جبکہ تیسرے نمبر پر عدلیہ ہے۔

این سی پی ایس 2022 جمعہ کی رات ایک بجے جاری کی گئی۔ رپورٹ میں نیب سمیت انسداد کرپشن اداروں پر بھی عدم اعتماد کا اظہار کیا گیا ہے۔ اکثریت تعداد میں عوام نے بتایا ہے کہ انسداد کرپشن کے اداروں کا کرپشن کی روک تھام میں کردار غیر موثر ہے۔


سروے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پولیس بدستور پاکستان کا کرپٹ ترین شعبہ ہے۔ ٹینڈرنگ اور کنٹریکٹ دوسرا اور عدلیہ تیسرا کرپٹ ترین ادارہ ہے جبکہ تعلیم کا شعبہ اب چوتھے نمبر پر آ چکا ہے۔

صوبائی لحاظ سے اعداد وشمار دیکھیں تو سندھ میں تعلیم کرپٹ ترین شعبہ ہے، پولیس دوسرے، ٹینڈرنگ اور کنٹریکٹ تیسرے نمبر پر ہے۔ پنجاب میں پولیس کرپٹ ترین شعبہ ہے، ٹینڈرنگ اور کنٹریکٹ دوسرے نمبر پر جبکہ عدلیہ تیسرے نمبر پر ہے۔

خیبرپختونخوا میں عدلیہ سب سے کرپٹ ترین شعبہ ہے، جبکہ ٹینڈرنگ اور کنٹریکٹ دوسرے اور پولیس تیسرے نمبر پر کرپٹ ترین ادارہ ہے۔ اسی طرح بلوچستان میں ٹینڈرنگ اور کنٹریکٹ پہلے نمبر پر کرپٹ ترین ادارہ ہے، جبکہ پولیس دوسرے اور عدلیہ تیسرے نمبر پر ہے۔

قومی سطح پر دیکھا جائے تو 45 فیصد پاکستانیوں کے مطابق اینٹی کرپشن اداروں کا کردار کرپشن کے خاتمے کے معاملے میں موثر نہیں۔ سندھ میں 35 فیصد افراد کا کہنا ہے کہ نیب کا کردار موثر ہے۔ پنجاب میں 31 فیصد جبکہ کے پی میں 61 فیصد اور بلوچستان میں 58 فیصد افراد انسداد بدعنوانی کے اداروں کو غیر مؤثر تصور کرتے ہیں۔

پاکستانیوں کا بدستور یہ ماننا ہے کہ خدمات کی فراہمی میں کرپشن بہت زیادہ ہے۔ پبلک سروس کے تین سب سے کرپٹ ادارے، جن کیلئے عوام کو رشوتیں دینا پڑتی ہیں، روڈز (40فیصد)، بجلی کی مسلسل فراہمی (28 فیصد) اور پینے کے صاف پانی تک رسائی (17 فیصد) ہے۔

این سی پی ایس 2022 کے مطابق کرپشن کی تین بڑی وجوہات یہ ہیں کہ کرپشن کے مقدمات میں فیصلے تاخیر کا شکار ہیں، حکومتیں ریاستی اداروں کو اپنے ذاتی فائدے کیلئے استعمال کرتی ہیں تیسری سب سے بڑی وجہ حکومتوں کی اپنی نااہلی بھی ہے۔

جہاں تک کرپشن سے نمٹنے کی بات ہے تو قومی سطح پر 33 فیصد عوام کہتے ہیں کہ کرپشن پر عمر قید کی سزا دینا چاہئے، 28 فیصد پاکستانی کہتے ہیں کہ تمام سرکاری ملازمین، سیاست دانوں، فوجیوں، ججوں وغیرہ کو چاہئے کہ وہ اپنے اثاثہ جات عوام کے سامنے رکھیں جبکہ 25 فیصد عوام کا کہنا ہے کہ کرپشن کیسز کی سماعت نیب، ایف آئی اے اور اینٹی کرپشن کورٹس میں روزانہ بنیادوں پر ہونی چاہئے اور فیصلہ چند ماہ میں کر دینا چاہیے۔

62 فیصد عوام کا خیال ہے کہ حالیہ سیلاب کے دوران مقامی این جی اوز کا کردار موثر اور بہتر رہا۔ پاکستانیوں کی بڑی تعداد سمجھتی ہے کہ حالیہ سیلاب کے بعد امدادی رقم شفاف انداز سے تقسیم نہیں کی گئی۔
 

Nazimshah

MPA (400+ posts)
When Imran khan and rest Pakistanis said the same, they are facing contempt of court charges. The world big organisation is saying the same now what they going to do?????
 
Sponsored Link