وزیرمذہبی امورکی کامیاب حکمت عملی،حج اخراجات میں ہزاروں روپےکی بڑی کمی

News_Icon

Chief Minister (5k+ posts)
image.jpg


وفاقی وزیر برائے مذہبی امور، سینیٹر محمد طلحہ محمود نے ایک پریس کانفرنس کے دوران حج 2023 کے انتظامات کامیابی
سے مکمل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ حج کے انتظامات کی بہترین
تکمیل سینیٹر طلحہ کی انتھک محنت اور جدوجہد کا نتیجہ ہے۔

سینیٹر طلحہ نے عید الفطر سے محض تین روز قبل وزارت کی ذمہ داری سنبھالی۔ اس وقت حج کی تیاریاں نہ ہونے کے برابر تھیں۔ تاہم سینیٹر طلحہ نے حاجیوں کو تمام ضروری سہولیات فراہم کرنے کے لیے لیے دن رات محنت کی۔ انہوں نے معاونین حج کی ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی جو مختلف گروپوں میں عازمین کے ساتھ سعودی عرب جائے گی۔


یہ ٹیم اس بات کو یقینی بنائے گی کہ حجاج کی خوراک، رہائش، ٹرانسپورٹیشن اور طبی سہولیات کے حوالے سے تمام ضروریات پوری ہوں۔

اس سال پاکستان کو 179,000 عازمین حج کا کوٹہ دیا گیا ہے۔ ان میں سے 85,000 عازمین سرکاری کوٹے کے تحت اور 89,000 نجی شعبے کے تحت فریضہ حج ادا کریں گے۔ اس عمل کو مزید ہموار کرنے اور عازمین کے وقت کی بچت کے لیے سینیٹر طلحہ محمود نے 'مکہ روٹ' کا اقدام متعارف کرایا ہے۔

اس اقدام کے تحط اسلام آباد ایئرپورٹ سے اڑان بھرنے والے 26,000 عازمین حج اسلام آباد ایئرپورٹ پر ہی امیگریشن کے تمام فرائض پورے کر سکیں گے۔ اس سے سعودی عرب آمد پر ان کے وقت کی بچت ہوگی۔ سینیٹر طلحہ کا مقصد آنے والے سالوں میں اس اقدام کو کراچی اور لاہور کے ہوائی اڈوں تک پھیلانا ہے۔

سینیٹر طلحہ محمود نے ایک آن لائن پورٹل بھی متعارف کروایا ہے جو عازمین حج کے لیے شکایات درج کرنے یا قیمتی تجاویز فراہم کرنے کے لیے مختص ہے۔

سینیٹر طلحہ نے خود اس منصوبے کی مالی معاونت فراہم کی ہے۔ یہ پلیٹفارم شکایات کے مؤثر حل اور عازمین حج کے ساتھ براہ راست رابطے کی ذریعہ فراہم کرتا ہے۔

ہوائی اڈوں پراس پورٹل کو بہت زیادہ فروغ دیا گیا ہے، اور سینیٹر ذاتی طور پر ہر شکایت کو سنبھالتے ہیں، یہاں تک کہ لوگوں کو خود واپس کال بھی کر رہے ہیں۔ ایک خصوصی، نجی ٹیم، جس کی مالی اعانت بھی سینیٹرصاحب خود کررہے ہیں، ان مسائل کو حل کرنے کے لیے انتھک محنت کرتی ہے۔

پورٹل کی کامیابی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اب تک درج کی گئی تمام 10,000 شکایات کو مؤثر طریقے سے حل کیا جا چکا ہے۔

سینیٹر محمود کی کوششوں سے حج کے اخراجات میں بھی کمی آئی ہے۔ ان کے چارج سنبھالنے سے پہلے حج کی لاگت ۱۱،۷۵۰،۰۰۰ روپے فی کس تھی۔ ان پیسوں میں قربانی کے فریضے کی قیمت شامل نہیں تھی۔ تاہم، اپنی انتھک محنت کے ذریعے سینیٹر طلحہ نے فی کس قیمت میں 55000 روپے تک کی کمی کو یقینی بنایا۔ واپس کی گئی رقم قربانی کے حقوق کی ادآئیگی کے لیے حجاج کے بینک اکاؤنٹس میں واپس ڈال دی گئی ہے۔

سینیٹر طلحہ کو اپنے فریضے کو بخوبی انجام دینے میں کئی مشکلات کاسامنا کرنا پڑا جن میں سب سے بڑا مسئلہ وسائل کی کمی کی صورت میں آیا ۔

تاہم، ان مشکلات کے باوجود سینیٹر طلحہ اس مقدس مقصد کو بخوبی انجام دینے میں کامیاب رہے۔ لیکن ان کا کام ابھی بھی جاری ہے۔ وہ دن رات محنت اور لگن سے ایک ایسے ٹھوس پلان کو شکل دے رہے ہیں جو عازمین حج کے لیے اس مقدس سفر کو آسان، یادگار اور روح پرور بنائے گا۔
 
Last edited by a moderator:

Rocky Khurasani

Senator (1k+ posts)
image.jpg


وفاقی وزیر برائے مذہبی امور، سینیٹر محمد طلحہ محمود نے ایک پریس کانفرنس کے دوران حج 2023 کے انتظامات کامیابی
سے مکمل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ حج کے انتظامات کی بہترین
تکمیل سینیٹر طلحہ کی انتھک محنت اور جدوجہد کا نتیجہ ہے۔

سینیٹر طلحہ نے عید الفطر سے محض تین روز قبل وزارت کی ذمہ داری سنبھالی۔ اس وقت حج کی تیاریاں نہ ہونے کے برابر تھیں۔ تاہم سینیٹر طلحہ نے حاجیوں کو تمام ضروری سہولیات فراہم کرنے کے لیے لیے دن رات محنت کی۔ انہوں نے معاونین حج کی ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی جو مختلف گروپوں میں عازمین کے ساتھ سعودی عرب جائے گی۔


یہ ٹیم اس بات کو یقینی بنائے گی کہ حجاج کی خوراک، رہائش، ٹرانسپورٹیشن اور طبی سہولیات کے حوالے سے تمام ضروریات پوری ہوں۔

اس سال پاکستان کو 179,000 عازمین حج کا کوٹہ دیا گیا ہے۔ ان میں سے 85,000 عازمین سرکاری کوٹے کے تحت اور 89,000 نجی شعبے کے تحت فریضہ حج ادا کریں گے۔ اس عمل کو مزید ہموار کرنے اور عازمین کے وقت کی بچت کے لیے سینیٹر طلحہ محمود نے 'مکہ روٹ' کا اقدام متعارف کرایا ہے۔

اس اقدام کے تحط اسلام آباد ایئرپورٹ سے اڑان بھرنے والے 26,000 عازمین حج اسلام آباد ایئرپورٹ پر ہی امیگریشن کے تمام فرائض پورے کر سکیں گے۔ اس سے سعودی عرب آمد پر ان کے وقت کی بچت ہوگی۔ سینیٹر طلحہ کا مقصد آنے والے سالوں میں اس اقدام کو کراچی اور لاہور کے ہوائی اڈوں تک پھیلانا ہے۔

سینیٹر طلحہ محمود نے ایک آن لائن پورٹل بھی متعارف کروایا ہے جو عازمین حج کے لیے شکایات درج کرنے یا قیمتی تجاویز فراہم کرنے کے لیے مختص ہے۔

سینیٹر طلحہ نے خود اس منصوبے کی مالی معاونت فراہم کی ہے۔ یہ پلیٹفارم شکایات کے مؤثر حل اور عازمین حج کے ساتھ براہ راست رابطے کی ذریعہ فراہم کرتا ہے۔

ہوائی اڈوں پراس پورٹل کو بہت زیادہ فروغ دیا گیا ہے، اور سینیٹر ذاتی طور پر ہر شکایت کو سنبھالتے ہیں، یہاں تک کہ لوگوں کو خود واپس کال بھی کر رہے ہیں۔ ایک خصوصی، نجی ٹیم، جس کی مالی اعانت بھی سینیٹرصاحب خود کررہے ہیں، ان مسائل کو حل کرنے کے لیے انتھک محنت کرتی ہے۔

پورٹل کی کامیابی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اب تک درج کی گئی تمام 10,000 شکایات کو مؤثر طریقے سے حل کیا جا چکا ہے۔

سینیٹر محمود کی کوششوں سے حج کے اخراجات میں بھی کمی آئی ہے۔ ان کے چارج سنبھالنے سے پہلے حج کی لاگت ۱۱،۷۵۰،۰۰۰ روپے فی کس تھی۔ ان پیسوں میں قربانی کے فریضے کی قیمت شامل نہیں تھی۔ تاہم، اپنی انتھک محنت کے ذریعے سینیٹر طلحہ نے فی کس قیمت میں 55000 روپے تک کی کمی کو یقینی بنایا۔ واپس کی گئی رقم قربانی کے حقوق کی ادآئیگی کے لیے حجاج کے بینک اکاؤنٹس میں واپس ڈال دی گئی ہے۔

سینیٹر طلحہ کو اپنے فریضے کو بخوبی انجام دینے میں کئی مشکلات کاسامنا کرنا پڑا جن میں سب سے بڑا مسئلہ وسائل کی کمی کی صورت میں آیا ۔

تاہم، ان مشکلات کے باوجود سینیٹر طلحہ اس مقدس مقصد کو بخوبی انجام دینے میں کامیاب رہے۔ لیکن ان کا کام ابھی بھی جاری ہے۔ وہ دن رات محنت اور لگن سے ایک ایسے ٹھوس پلان کو شکل دے رہے ہیں جو عازمین حج کے لیے اس مقدس سفر کو آسان، یادگار اور روح پرور بنائے گا۔
For Youtube Link click here:


For Dailymotion video, click here:


Subscribe this Youtube channel for the recent videos of Adil Raja. Videos are made private after 24 hours.
https://www.youtube.com/channel/UCOYL4CZ-0qveLJwjJakB2Gw

Videos are not deleted from my DailyMotion channel. To follow my Dailymotion channel, please click here:

https://www.dailymotion.com/RockyKhurasani
 

Visionartist

Chief Minister (5k+ posts)
Nahi siraf tayri baji kay khothay say hay

sabit ho giya yeh teriy family story hey- ibret ki aakheriy had per bhi bachpan sey ab tak apney ghar meyn tum ney jo dekha likh deytey ho- ab kuch jadeed batteyn seek lo- taoba ker lo- mujhey tumharıy fmily history meyn dilchaspiy nahiyn- mat likha kero-iddet mey nikah kerney sey sir 3 mah 8 mah kiy hukoomat miltiy hey- aagey jin fail ho jata hey​

 
Sponsored Link