لاپتہ بلوچ بازیاب نہ ہوئے تووزیراعظم پر مقدمہ ہوگا,گھرجانا پڑےگا،ہائیکورٹ

battery low

Minister (2k+ posts)

لاپتہ بلوچ بازیاب نہ ہوئے تو وزیراعظم پر مقدمہ ہوگا اور گھر جانا پڑے گا، اسلام آباد ہائیکورٹ



مزید 22 بلوچ طلباء بازیاب ہوگئے، اٹارنی جنرل


مزید 22 بلوچ طلباء بازیاب ہوگئے، اٹارنی جنرل

اسلام آباد: بلوچ طلبا بازیابی کیس میں نگراں وزیراعظم انوار الحق عدالتی حکم کے باوجود اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیش نہ ہوئے۔

ہائی کورٹ میں بلوچ طلبا بازیابی کمیشن کی سفارشات پر عمل درآمد کیس کی سماعت ہوئی۔ نگران وزیر داخلہ سرفراز بگٹی ، نگران وزیر انسانی حقوق خلیل جارج ، لاپتہ بلوچ افراد کی فیملیز عدالت کے سامنے پیش ہوئیں۔
https://twitter.com/x/status/1729756629019623650
عدالت نے کہا کہ مجموعی طور 69 طلباء لاپتہ تھے۔اٹارنی جنرل نے بتایا کہ وزیراعظم بیرون ملک ہونے کی وجہ سے پیش نہیں ہوسکے، مزید 22 بلوچ طلباء بازیاب ہوگئے ہیں، 28 بلوچ طلباء تاحال لاپتہ ہیں، میں یقین دہانی کراتا ہوں تمام لاپتہ افراد کو بازیاب کرانے کی کوششیں کریں گے۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ بنیادی حقوقِ کا معاملہ ہے، جس کا پاکستان میں جو دل کررہا ہے وہ کررہا ہے، اس کیس میں سارے طالبعلم ہیں، یہ ہمارے اپنے شہری ہیں، سارا الزام ریاستی ایجنسی پر آرہا ہے، یا تو بتائیں کہ دوسرے ملک کی ایجنسی نے بندے اٹھائے ہیں ، ایک مخصوص ادارے پر الزامات ہیں ،تحقیقات بھی اسی سے کرائیں گے ؟ ریاستی ادارہ کوئی کام کرے تو انہیں پراسکیوٹ کون کرے گا، ان میں سے کوئی دہشت گرد ہے تو کارروائی کریں، ہم کلبھوشن کا ٹرائل کرسکتے ہیں تو انکا بھی کرسکتے ہیں۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ بلوچستان کا بندہ لاپتہ ہوجاتا ہے اور یہاں انتظامیہ 365 کے تحت ایک کاروائی کرکے منہ دوسری طرف کر لیتی ہے ، جو دہشت گرد ہیں ان کے خلاف کاروائی کریں عدالت کے سامنے پیش کریں ، کسی ایجنسی کو استثنی نہیں ھے جس کو مرضی ہے سالوں اٹھا کر لے جائیں ، پھر وہ تھانہ آبپارہ کے ایس ایچ او کے حوالے کر دیں ، کیا کسی مہذب معاشرے میں یہ کام ہوتے ہیں ، جو بھی لاپتہ شخص بازیاب ہوتا ہے وہ آکر کہتا ہے میں کیس کیس کی پیروی نہیں کرنا چاہتا ، بند کمروں میں نا کہانی سنائیں گے نا بند کمروں میں میں کسی کی سنوں گا جو کہنا ہے اوپن کورٹ میں کہیں۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ پولیس بندہ لیکر جاتی ہے بعد میں بندہ لاپتہ ہوجاتا ہے، تھانے جاتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے وہاں بندہ ہی نہیں، جبری گمشدگی والے کیسز میں لوگ آپ کے اپنے اداروں کے پاس ہیں ، سیکرٹری دفاع ذمہ دار ہیں کہ ان کے ادارے کسی ایسے کام میں ملوث نا ہوں، جبری گمشدگی کیسز کا حل نکال کر رہا کریں یا عدالت پیش کریں ، آج تک کسی اسٹیٹ کے ادارے کو ذمہ دار ٹھہرا کر کارروائی کیوں نہیں ہوئی؟

نگران وزیر داخلہ نے عدالت میں بتایا کہ ایک بھی شخص لاپتہ ہے اس کا کوئی جواز نہیں ہے، ہم اپنی ذمہ داری پوری کریں گے ، بہت سارے ایسے ہیں جو عدالتی مفرور ہیں، کچھ لوگ افغانستان چلے گئے ہیں ، بہت سارے کیسز ایسے بھی ہیں جن میں سیکورٹی فورسز کے ساتھ لڑتے ہوئے مارے گئے۔

وزارت داخلہ نے لاپتہ افراد کے معاملے پر ایڈیشنل سیکرٹری کو فوکل پرسن مقرر کردیا۔ عدالت نے درخواست گزار کو تمام لاپتہ افراد کی تفصیلات فوکل پرسن کو فراہم کرنے کا حکم دیا۔

لاپتہ بلوچ شخص کی بہن عدالت کے سامنے بات کرتے ہوئے جذبات پر قابو نا رکھ سکیں اور رو پڑیں۔ انہوں نے کہا کہ آصف بلوچ اور کزن رشید بلوچ کو 2018 میں گرفتار کیا گیا ، سرفراز بٹی کہتے ہیں یہ چھوٹا سا مسئلہ ہے میرا سب کچھ رک گیا ، ہم سارا گھر ختم ہو گیا ہے چھ سال سے دھکے کھا رہے ہیں۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے متنبہ کیا کہ کیا ہم سب اغوا ہونگے تو ہمیں سمجھ آئے گی؟ اگر لاپتہ افراد بازیاب نہ ہوئے تو وزیر اعظم اور آپ پر اندراج مقدمہ کا حکم دوں گا، پھر آپ کو اور وزیر اعظم کو گھر جانا پڑے گا، بڑے واضح الفاظ میں آپ کو سمجھا رہا ہوں ، سیکرٹری دفاع و سیکرٹری داخلہ بھی ذمہ دار ہوں گے ، مجھے رزلٹ چاہے یہ بچی آئندہ سماعت پر کہے کہ میرا بھائی واپس آگیا ہے، ان سے ملیں ان کو بلا لیں یا خود پریس کلب جائیں ان کی بات سنیں۔

نگران وزیر داخلہ نے جواب دیا کہ دو دن میں مل لوں گا کھانے پر بلاؤں گا۔


Source
 
Last edited by a moderator:

bahmad

Minister (2k+ posts)

لاپتہ بلوچ بازیاب نہ ہوئے تو وزیراعظم پر مقدمہ ہوگا اور گھر جانا پڑے گا، اسلام آباد ہائیکورٹ



مزید 22 بلوچ طلباء بازیاب ہوگئے، اٹارنی جنرل


مزید 22 بلوچ طلباء بازیاب ہوگئے، اٹارنی جنرل

اسلام آباد: بلوچ طلبا بازیابی کیس میں نگراں وزیراعظم انوار الحق عدالتی حکم کے باوجود اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیش نہ ہوئے۔

ہائی کورٹ میں بلوچ طلبا بازیابی کمیشن کی سفارشات پر عمل درآمد کیس کی سماعت ہوئی۔ نگران وزیر داخلہ سرفراز بگٹی ، نگران وزیر انسانی حقوق خلیل جارج ، لاپتہ بلوچ افراد کی فیملیز عدالت کے سامنے پیش ہوئیں۔
https://twitter.com/x/status/1729756629019623650
عدالت نے کہا کہ مجموعی طور 69 طلباء لاپتہ تھے۔اٹارنی جنرل نے بتایا کہ وزیراعظم بیرون ملک ہونے کی وجہ سے پیش نہیں ہوسکے، مزید 22 بلوچ طلباء بازیاب ہوگئے ہیں، 28 بلوچ طلباء تاحال لاپتہ ہیں، میں یقین دہانی کراتا ہوں تمام لاپتہ افراد کو بازیاب کرانے کی کوششیں کریں گے۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ بنیادی حقوقِ کا معاملہ ہے، جس کا پاکستان میں جو دل کررہا ہے وہ کررہا ہے، اس کیس میں سارے طالبعلم ہیں، یہ ہمارے اپنے شہری ہیں، سارا الزام ریاستی ایجنسی پر آرہا ہے، یا تو بتائیں کہ دوسرے ملک کی ایجنسی نے بندے اٹھائے ہیں ، ایک مخصوص ادارے پر الزامات ہیں ،تحقیقات بھی اسی سے کرائیں گے ؟ ریاستی ادارہ کوئی کام کرے تو انہیں پراسکیوٹ کون کرے گا، ان میں سے کوئی دہشت گرد ہے تو کارروائی کریں، ہم کلبھوشن کا ٹرائل کرسکتے ہیں تو انکا بھی کرسکتے ہیں۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ بلوچستان کا بندہ لاپتہ ہوجاتا ہے اور یہاں انتظامیہ 365 کے تحت ایک کاروائی کرکے منہ دوسری طرف کر لیتی ہے ، جو دہشت گرد ہیں ان کے خلاف کاروائی کریں عدالت کے سامنے پیش کریں ، کسی ایجنسی کو استثنی نہیں ھے جس کو مرضی ہے سالوں اٹھا کر لے جائیں ، پھر وہ تھانہ آبپارہ کے ایس ایچ او کے حوالے کر دیں ، کیا کسی مہذب معاشرے میں یہ کام ہوتے ہیں ، جو بھی لاپتہ شخص بازیاب ہوتا ہے وہ آکر کہتا ہے میں کیس کیس کی پیروی نہیں کرنا چاہتا ، بند کمروں میں نا کہانی سنائیں گے نا بند کمروں میں میں کسی کی سنوں گا جو کہنا ہے اوپن کورٹ میں کہیں۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ پولیس بندہ لیکر جاتی ہے بعد میں بندہ لاپتہ ہوجاتا ہے، تھانے جاتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے وہاں بندہ ہی نہیں، جبری گمشدگی والے کیسز میں لوگ آپ کے اپنے اداروں کے پاس ہیں ، سیکرٹری دفاع ذمہ دار ہیں کہ ان کے ادارے کسی ایسے کام میں ملوث نا ہوں، جبری گمشدگی کیسز کا حل نکال کر رہا کریں یا عدالت پیش کریں ، آج تک کسی اسٹیٹ کے ادارے کو ذمہ دار ٹھہرا کر کارروائی کیوں نہیں ہوئی؟

نگران وزیر داخلہ نے عدالت میں بتایا کہ ایک بھی شخص لاپتہ ہے اس کا کوئی جواز نہیں ہے، ہم اپنی ذمہ داری پوری کریں گے ، بہت سارے ایسے ہیں جو عدالتی مفرور ہیں، کچھ لوگ افغانستان چلے گئے ہیں ، بہت سارے کیسز ایسے بھی ہیں جن میں سیکورٹی فورسز کے ساتھ لڑتے ہوئے مارے گئے۔

وزارت داخلہ نے لاپتہ افراد کے معاملے پر ایڈیشنل سیکرٹری کو فوکل پرسن مقرر کردیا۔ عدالت نے درخواست گزار کو تمام لاپتہ افراد کی تفصیلات فوکل پرسن کو فراہم کرنے کا حکم دیا۔

لاپتہ بلوچ شخص کی بہن عدالت کے سامنے بات کرتے ہوئے جذبات پر قابو نا رکھ سکیں اور رو پڑیں۔ انہوں نے کہا کہ آصف بلوچ اور کزن رشید بلوچ کو 2018 میں گرفتار کیا گیا ، سرفراز بٹی کہتے ہیں یہ چھوٹا سا مسئلہ ہے میرا سب کچھ رک گیا ، ہم سارا گھر ختم ہو گیا ہے چھ سال سے دھکے کھا رہے ہیں۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے متنبہ کیا کہ کیا ہم سب اغوا ہونگے تو ہمیں سمجھ آئے گی؟ اگر لاپتہ افراد بازیاب نہ ہوئے تو وزیر اعظم اور آپ پر اندراج مقدمہ کا حکم دوں گا، پھر آپ کو اور وزیر اعظم کو گھر جانا پڑے گا، بڑے واضح الفاظ میں آپ کو سمجھا رہا ہوں ، سیکرٹری دفاع و سیکرٹری داخلہ بھی ذمہ دار ہوں گے ، مجھے رزلٹ چاہے یہ بچی آئندہ سماعت پر کہے کہ میرا بھائی واپس آگیا ہے، ان سے ملیں ان کو بلا لیں یا خود پریس کلب جائیں ان کی بات سنیں۔

نگران وزیر داخلہ نے جواب دیا کہ دو دن میں مل لوں گا کھانے پر بلاؤں گا۔


Source
Lagtha ha cheap justice Ka iss PM sy Dil bhrr gya
 

Will_Bite

Prime Minister (20k+ posts)

لاپتہ بلوچ بازیاب نہ ہوئے تو وزیراعظم پر مقدمہ ہوگا اور گھر جانا پڑے گا، اسلام آباد ہائیکورٹ



مزید 22 بلوچ طلباء بازیاب ہوگئے، اٹارنی جنرل


مزید 22 بلوچ طلباء بازیاب ہوگئے، اٹارنی جنرل

اسلام آباد: بلوچ طلبا بازیابی کیس میں نگراں وزیراعظم انوار الحق عدالتی حکم کے باوجود اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیش نہ ہوئے۔

ہائی کورٹ میں بلوچ طلبا بازیابی کمیشن کی سفارشات پر عمل درآمد کیس کی سماعت ہوئی۔ نگران وزیر داخلہ سرفراز بگٹی ، نگران وزیر انسانی حقوق خلیل جارج ، لاپتہ بلوچ افراد کی فیملیز عدالت کے سامنے پیش ہوئیں۔
https://twitter.com/x/status/1729756629019623650
عدالت نے کہا کہ مجموعی طور 69 طلباء لاپتہ تھے۔اٹارنی جنرل نے بتایا کہ وزیراعظم بیرون ملک ہونے کی وجہ سے پیش نہیں ہوسکے، مزید 22 بلوچ طلباء بازیاب ہوگئے ہیں، 28 بلوچ طلباء تاحال لاپتہ ہیں، میں یقین دہانی کراتا ہوں تمام لاپتہ افراد کو بازیاب کرانے کی کوششیں کریں گے۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ بنیادی حقوقِ کا معاملہ ہے، جس کا پاکستان میں جو دل کررہا ہے وہ کررہا ہے، اس کیس میں سارے طالبعلم ہیں، یہ ہمارے اپنے شہری ہیں، سارا الزام ریاستی ایجنسی پر آرہا ہے، یا تو بتائیں کہ دوسرے ملک کی ایجنسی نے بندے اٹھائے ہیں ، ایک مخصوص ادارے پر الزامات ہیں ،تحقیقات بھی اسی سے کرائیں گے ؟ ریاستی ادارہ کوئی کام کرے تو انہیں پراسکیوٹ کون کرے گا، ان میں سے کوئی دہشت گرد ہے تو کارروائی کریں، ہم کلبھوشن کا ٹرائل کرسکتے ہیں تو انکا بھی کرسکتے ہیں۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ بلوچستان کا بندہ لاپتہ ہوجاتا ہے اور یہاں انتظامیہ 365 کے تحت ایک کاروائی کرکے منہ دوسری طرف کر لیتی ہے ، جو دہشت گرد ہیں ان کے خلاف کاروائی کریں عدالت کے سامنے پیش کریں ، کسی ایجنسی کو استثنی نہیں ھے جس کو مرضی ہے سالوں اٹھا کر لے جائیں ، پھر وہ تھانہ آبپارہ کے ایس ایچ او کے حوالے کر دیں ، کیا کسی مہذب معاشرے میں یہ کام ہوتے ہیں ، جو بھی لاپتہ شخص بازیاب ہوتا ہے وہ آکر کہتا ہے میں کیس کیس کی پیروی نہیں کرنا چاہتا ، بند کمروں میں نا کہانی سنائیں گے نا بند کمروں میں میں کسی کی سنوں گا جو کہنا ہے اوپن کورٹ میں کہیں۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ پولیس بندہ لیکر جاتی ہے بعد میں بندہ لاپتہ ہوجاتا ہے، تھانے جاتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے وہاں بندہ ہی نہیں، جبری گمشدگی والے کیسز میں لوگ آپ کے اپنے اداروں کے پاس ہیں ، سیکرٹری دفاع ذمہ دار ہیں کہ ان کے ادارے کسی ایسے کام میں ملوث نا ہوں، جبری گمشدگی کیسز کا حل نکال کر رہا کریں یا عدالت پیش کریں ، آج تک کسی اسٹیٹ کے ادارے کو ذمہ دار ٹھہرا کر کارروائی کیوں نہیں ہوئی؟

نگران وزیر داخلہ نے عدالت میں بتایا کہ ایک بھی شخص لاپتہ ہے اس کا کوئی جواز نہیں ہے، ہم اپنی ذمہ داری پوری کریں گے ، بہت سارے ایسے ہیں جو عدالتی مفرور ہیں، کچھ لوگ افغانستان چلے گئے ہیں ، بہت سارے کیسز ایسے بھی ہیں جن میں سیکورٹی فورسز کے ساتھ لڑتے ہوئے مارے گئے۔

وزارت داخلہ نے لاپتہ افراد کے معاملے پر ایڈیشنل سیکرٹری کو فوکل پرسن مقرر کردیا۔ عدالت نے درخواست گزار کو تمام لاپتہ افراد کی تفصیلات فوکل پرسن کو فراہم کرنے کا حکم دیا۔

لاپتہ بلوچ شخص کی بہن عدالت کے سامنے بات کرتے ہوئے جذبات پر قابو نا رکھ سکیں اور رو پڑیں۔ انہوں نے کہا کہ آصف بلوچ اور کزن رشید بلوچ کو 2018 میں گرفتار کیا گیا ، سرفراز بٹی کہتے ہیں یہ چھوٹا سا مسئلہ ہے میرا سب کچھ رک گیا ، ہم سارا گھر ختم ہو گیا ہے چھ سال سے دھکے کھا رہے ہیں۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے متنبہ کیا کہ کیا ہم سب اغوا ہونگے تو ہمیں سمجھ آئے گی؟ اگر لاپتہ افراد بازیاب نہ ہوئے تو وزیر اعظم اور آپ پر اندراج مقدمہ کا حکم دوں گا، پھر آپ کو اور وزیر اعظم کو گھر جانا پڑے گا، بڑے واضح الفاظ میں آپ کو سمجھا رہا ہوں ، سیکرٹری دفاع و سیکرٹری داخلہ بھی ذمہ دار ہوں گے ، مجھے رزلٹ چاہے یہ بچی آئندہ سماعت پر کہے کہ میرا بھائی واپس آگیا ہے، ان سے ملیں ان کو بلا لیں یا خود پریس کلب جائیں ان کی بات سنیں۔

نگران وزیر داخلہ نے جواب دیا کہ دو دن میں مل لوں گا کھانے پر بلاؤں گا۔


Source
dehaan sey bhai..
Kakar sey pehley judge ghar na chala jaye
 

چاچا بوٹا

MPA (400+ posts)
یہ بھڑوے کہاں سے بازیاب کروائیں گے یہ تو صرف چابی والے بندر ہیں ۔
اصل کریمنلز۔ منیرا کنجر اور ندیم بھڑوے کو الٹا لکاو آدھے گھنٹے میں ان کی جیبوں سے سارے بازیاب ہو جائیں گے