قیام سے تنزل

Afaq Chaudhry

Chief Minister (5k+ posts)
Tayyaba-Zia-Cheema-NawaiWaqt-Columns.jpg


طیبہ ضیاء


حضرت عمر فاروقؓ کے عدل کی یہ حالت تھی کہ جب آپ کا انتقال ہوا تو آپ کی سلطنت کے دور دراز علاقے کا ایک چرواہا بھاگتا ہوا آیا اور چیخ کر بولا لوگو! حضرت عمر فاروقؓ کا انتقال ہو گیا۔ لوگوں نے حیرت سے پوچھا تم مدینہ سے ہزاروں میل دور جنگل میں ہو، تمہیں اس سانحہ کی اطلاع کس نے دی؟ چرواہا بولا جب تک عمر فاروقؓ زندہ تھے، میری بھیڑیں جنگل میں بے خوف پھرتی تھیں اور کوئی درندہ ان کی طرف آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھتا تھا لیکن آج پہلی بار ایک بھیڑیا میری بھیڑ کا بچہ اٹھا کر لے گیا، میں نے بھیڑیے کی جرات سے جان لیا، آج دنیا میں عمر فاروقؓ موجود نہیں ہیں ۔۔۔ جبکہ پاکستان کے بھیڑیے اس ملک کو جڑ سے اکھیڑ دینا چاہتے ہیں۔ قانون اور آئین کی دھجیاں بکھیری جا رہی ہیں۔ امیر المومنین فاروق اعظمؓ کا زمانہ یاد کر کے دل خون کے آنسو روتا ہے۔ کہاں گئے وہ لوگ،کہاں گئے وہ زمانے،کیا بنے گا ہمارا،کس منہ سے خدا کا سامنا کریں گے ۔۔۔ ہمارے بزرگ سادہ لوگ تھے، خوبصورت زندگی گزارکر، حُسین طریقے سے چلے گئے، ہمیں اپنی فکر ہے۔ پاکستان بہت دور نکل چکا ہے۔ جھوٹ اور منافقت نے اس کی صورت بگاڑ دی ہے۔
دنیا کے نقشہ پر ایک ایسا ملک ہے، جس کے وجود کا مقصد مسلمانوں کو ایک آزاد ریاست مہیا کرنا تھا۔ بزرگوں نے اس ریاست کا نام پاکستان رکھا تھا۔ پاکستان قائم کرتے وقت بزرگوں نے سوچا تھا کہ وہ اپنی نسلوں کو ایک ایسی سر زمین دے کر جائیں گے جہاں مسلمان اپنے مذہب اور روایات کے مطابق آزاد زندگی گزار یں گے۔ ہر میدان میں ترقی کر سکیں گے۔ غلامی کے طوق سے نجات پا سکیں گے۔ عدل عام ہو گا۔ انصاف کا راج ہو گا۔ قانون سب کے لئے یکساں ہو گا۔ کوئی بیروزگار نہ ہو گا۔ ہر طرف امن اور سکون ہو گا۔ روٹی کپڑا اور مکان ہو گا۔ پاکستان وہ نا م ہو گا جو غلامی میں پسے ہوئے مسلمانوں کو اعتماد دے گا۔ دنیا کے نقشہ پر پاکستان کا وجود تو قائم ہو گیا مگر چونسٹھ برس گزرنے کے باوجود پاکستان اپنا مقام پانے میں کامیاب نہ ہو سکا۔ ایک سے دو پاکستان بنا لئے لیکن دوسرے نے اپنا نام بنگلہ دیش رکھ لیا۔ مسلمان اپنا وقار کھو چکے ہیں جبکہ پاکستان کے مسلمان اپنا سب کچھ کھو چکے ہیں۔ اسلاف کا زمانہ گزر چکا۔ عمر فاروقؓ کا زمانہ دینی کتب تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔ بدعنوانی اور جرائم پاکستان کا کلچر بن چکا ہے۔ پاکستان میں ایک انسان کو بنیادی ضروریات سے بھی محروم کر دیا گیا ہے البتہ گوجر خان کے شہری سکون کی نیند سوتے ہیں۔ راجہ پرویز اشرف کے علاقے میں لوڈشیڈنگ نہیں ہوتی اور نہ ہی پانی گیس کا کوئی مسئلہ ہے۔ راجے نے گوجر خان کے مکینوں سے وعدہ کیا ہے کہ وہ گوجر خان کو پیرس بنا دے گا۔ سُنا ہے جب سے راجہ وزیراعظم بنا ہے، گوجر خان کی مساجد سے جوتے بھی چوری نہیں ہوتے۔ شادی کے موقع پر ایک رسم ادا کی جاتی ہے اور وہ ہے جوتا چھپائی جوکہ لڑکے کی سالیاں ادا کرتی ہیں۔ یہ ہی رسم مساجد میں ہر نماز کے بعد ادا کی جاتی ہے جس کو جوتا چرائی کہا جاتا ہے مگر یہ رسم کون سالے کرتے ہیں اس پر بھی تحقیق کی جائے۔ راجے کے علاقے میں نہ صرف بجلی کی فراوانی ہے بلکہ گیس مہارانی اور پانی ہی پانی ہے۔ ملتان میں بھی گیلانی ہے۔ مرا ہاتھی سوا لاکھ کا سہی، انتخابی ٹرک پر بیٹھا آج بھی وزیراعظم لگتا ہے۔ پاکستان میں ہر گزرتے دن کے ساتھ تبدیل ہوتے حالات کے تناظر میں اس ملک کے مستقبل کی تشویش لاحق رہتی ہے مگر بحثیت مسلمان جب اللہ کی طرف دیکھتے ہیں تو مایوسی کو کہیں نہ کہیں کوئی کرن ایسی ضرور دکھائی دے جاتی ہے جو اس ملک کی زندگی کی امید دےتی ہے۔ محض زندہ رہنا کوئی کمال نہیں، وہ تو جانور بھی زندہ ہیں بلکہ پاکستان کے انسانوں سے بہتر حال میں زندہ ہیں۔ پاکستان میں زندگی کا مفہوم اپنے حقیقی معنی کھو چکا ہے، وہاں صرف دن ٹپائے جاتے ہیں۔ لوڈشیڈنگ اور شدید گرمی سے پاکستان کا یہ حال ہو گیا ہے کہ وہاں کے مسلمان جو کبھی جشن آمدِ رمضان منایا کرتے تھے، رمضان المبارک کی آمد سے خوفزدہ دکھائی دے رہے ہیں۔ بیرون ممالک جہاں بجلی پانی اور تمام سہولیات میسر ہیں، وہاں بھی مسلمان طویل اور گرم روزے کی آمد سے پریشان ہیں۔ مسلمان آج جس سطح پر پہنچ چکے ہیں، قیامت کی علامت ہے۔
حکمران جس مقام تک پہنچ چکے ہیں، ندامت ہی ندامت ہے۔ توہین عدالت بل کی منظوری آئین کے ساتھ مذاق ہی نہیں بلکہ وجودِ پاکستان کی توہین ہے۔ جہاں تک دوہری شہریت کے بل کی منظوری کی بات ہے تو جس روز پاکستان کا وجود عمل میں آیا تھا، دوہری شہریت کا قانون اسی روز دفن ہو گیا تھا۔ قیام پاکستان کے مہاجرین ہندوستان کی شہریت سرنڈر کر کے پاکستان کی حدود میں داخل ہوئے اور ان کی نسلیں پاکستان میں پیدا ہوئیں جو تا قیامت پاکستانی کہلائیںگی۔ پاکستان کی سیاست کو چلانے کے لئے ایک کشتی پر سوار ہونا پڑے گا۔ کچھ پانے کے لئے کچھ کھونا پڑے گا۔ سیاست کے مزے لوٹنے کے لئے دوہری شہریت سرنڈر کرنا پڑے گی۔ صدر زرداری کہتے ہیں کہ انہوں نے چالیس سال آگے کا سوچ کر ق لیگ اور ایم کیو ایم سے اتحاد کیا ہے۔ موصوف یہ سیاسی کچھڑی پکانے سے پہلے اگر چونسٹھ سال پیچھے کا سوچ لیتے تو اتحاد کی ضرورت پیش نہ آتی اور آئندہ کے کئی چالیس برس بھی سکون کے ساتھ گزر جاتے مگر موجودہ اتحاد کے ساتھ عوام کا چالیس منٹ گزارنا بھی مشکل ہے۔ موصوف کی اتنی زندگی نہیں جتنی لمبی منصوبہ بندی کئے بیٹھے ہیں۔ ایک وہ زمانہ تھا جب ایک بھیڑیا جنگل میں بیٹھا جان گیا تھا کہ عمر فاروقؓ نہیں رہے اور ایک یہ زمانہ ہے کہ پورا ملک چور اٹھا کر لے جائیں، کوئی پوچھنے والا نہیں۔
!

http://www.nawaiwaqt.com.pk/pakistan-news-newspaper-daily-urdu-online/Opinions/Columns/12-Jul-2012/28859
 

Afraheem

Senator (1k+ posts)
جناب رولا ہی ڈالنا ہے یا پھر کچھ کرنا ہے لٹ گے برباد ہو گے ہاے ہاے کیا کریں اگر جرات ہے تو نکلو سب اسلام آباد کی طرف جو مل جائے انقلاب فرانس کی طرح پھانسی پر چڑھا دو اگر اتنی ہمت نہیں تو کم از کم اگلے الیکشن میں عمران خان کو ووٹ دے دو ہاں ہاں عمران خان کے پاس کوئی جادو کا چراغ نہیں مگر کسی بھی نیک کام کی ابتدا ایک قدم سے ہوتی ہے عمران خان پہلا قدم درست سمت میں ہوگا پھر ان شاللہ آگے اللہ خیر کرے اللہ سے امید ہے عمران خان اچھی حکومت کرے گا اور ملک کو درست سمت میں لے کر جائے گا ان شاللہ اگر یہ نا ہوا تو پھر دم مست قلندر ہوگا اور آگے کا حال صرف اللہ سبحان ہے جانتے ہیں
 
Sponsored Link