
روس نے یوکرین پر حملہ کر دیا، جس کے بعد یوکرین کے دارالحکومت کیف میں دھماکے سنے گئے ہیں جبکہ پورے یوکرین میں مارشل لاء نافذ کر دیا گیا ہے۔یوکرین کے صدر زیلنسکی کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ مارشل لاء کا نفاذ پورے ملک پر ہو گا۔
برطانوی میڈیا رپورٹس کے مطابق روس کی جانب سے دارالحکومت کیف کے انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حملہ کیا گیا ہے، جس کے بعد سول طیاروں کے لیے یوکرین کی فضائی حدود بند کر دی گئی ہے۔ یوکرینی وزارتِ داخلہ نے کہا ہے کہ دارالحکومت کیف، ماریوپول، اڈیسہ اور دیگر شہروں پر حملے ہوئے ہیں۔
روسی فوج یوکرین کے علاقے ماریوپول اور اڈیسہ میں پہنچ گئی ہے۔ روسی فوج کی جانب سے یوکرین کے دارالحکومت کیف میں ملٹری کمانڈ سینٹرز پر بھی میزائل حملے کیے گئے ہیں۔ جب کہ ماریوپول اور بندرگاہ بلیک سی پورٹ اڈیسہ میں بھی دھماکے سنے گئے ہیں۔
یوکرین کی وزارتِ داخلہ کا کہنا ہے کہ روس نے بیلیسٹک اور کروز میزائلوں سے حملہ کیا ہے۔ ادھر روس اور یوکرین کے درمیان کشیدگی اور تنازع پر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس جاری ہے۔ سلامتی کونسل کاہنگامی اجلاس یوکرین کی درخواست پر بلایا گیا ہے، 3 روز کے دوران سلامتی کونسل کا یہ دوسرا ہنگامی اجلاس ہے۔
دوسری جانب روسی سفیر برائے اقوامِ متحدہ نے سلامتی کونسل کو مشرقی یوکرین پر روسی حملے سے آگاہ کر دیا ہے اور کہا ہے کہ اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت روس کا آپریشن درست ہے۔ روس نے جنگ کا اعلان کیا ہے، روس کو جنگ سے روکنا اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی ذمے داری ہے۔
جب کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے یوکرین پر خصوصی فوجی آپریشن کا اعلان کرتے ہوئے یوکرین کی فوج سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا ہے۔ پیوٹن نے دھمکی دی ہے کہ بیرونی مداخلت ہوئی تو روس جواب دے گا۔
یہی نہیں امریکی صدر جو بائیڈن کی جانب سے یوکرین پر روس کے حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ روس کے یوکرین پر حملے کا امریکا اور اتحادی متحد اور فیصلہ کن انداز میں جواب دیں گے۔
امریکی صدر جو بائیڈن کا کہنا ہے کہ روسی اقدامات پر مضبوط اور متحد ردِ عمل کے لیے نیٹو سے رابطہ کریں گے، یوکرین پر روسی حملہ تباہ کن انسانی نقصان کا سبب بنے گا۔ یوکرین پر حملے پر دنیا روس کو جوابدہ ٹھہرائے گی۔
- Featured Thumbs
- https://www.siasat.pk/data/files/s3/ukrian-masllaw.jpg