خدارا پاکستان پر رحم کرو :حامد میر

naveed

Chief Minister (5k+ posts)
اس نے اپنی زندگی کی آخری تقریر کاآغازبسم اللہ الرحمان الرحیم سے کیا۔ سخت گرمی اور دھوپ کے باوجود سینکڑوں لوگ اس کی تقریر سننے آئے تھےاورکچھ لو گ نماز جمعہ ادا کرکے اس جلسے کے عقب میں جگہ تلاش کررہے تھے جہاں حاضرین کو دھوپ سے بچانے کے لئے شامیانے لگائے گئے تھے۔ اس چلچلاتی گرمی میں اپنے سامنے بیٹھے ہوئے حاضرین کو مخاطب کرتے ہوئےمقرر نے براہوی زبان میں صرف اتنا ہی کہا’’بلوچستان کے بہادر لوگو‘‘ اور
ایک زور دار دھماکہ ہوا جس کے بعد یہ جلسہ مقتل بن گیا، جہاں لاشوں اور زخمیوں کے سوا کچھ نہ تھا۔



hamid_mir1.jpg


زندگی کی آخری تقریر میں بلوچستان کے بہادر لوگوں سے مخاطب ہونے والے اس بہادر انسان کا نام میر سراج رئیسانی تھا جس نے جولائی 2012میں دہشت گردوں کے حملے میں اپنے بیٹے میر حقمل رئیسانی کو کھویا تھا اور اس واقعے کے بعد خاموشی اختیار کرنے کے بجائے کھلے عام دہشت گردوں اور ان کے سرپرستوں کو للکارنا شروع کردیا تھا۔ میر سراج رئیسانی نے بلوچستان متحدہ محاذ کے نام سے ایک تنظیم بنا رکھی تھی جس کے پلیٹ فارم سے گزشتہ سال انہوں نے یوم آزادی پر پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا پرچم بلوچستان میں لہرایا اور شاید یہی وہ اعزاز تھا جو دشمنوں کے سینے میں کانٹا بن کر چبھا اور اس بہادر پاکستانی کی آواز خاموش کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا۔


میر سراج رئیسانی نے اپنی تنظیم کو بلوچستان عوامی پارٹی میں ضم کیا توبہت سے دوستوں اور رشتہ داروں نے سمجھایا کہ یہ سیاسی غلطی مت کرو لیکن انہوں نے کسی کی نہ سنی اور بلوچستان کے حلقہ پی بی 35سے الیکشن میں حصہ لینے کافیصلہ کرلیا۔ سراج رئیسانی ایسے علاقوں میں بھی انتخابی مہم چلا رہے تھے جو پاکستان دشمنوں کا گڑھ سمجھے جاتے ہیں۔ وہ خطرات اور دھمکیوں کے باوجود ہر جگہ پاکستان کا پرچم اٹھا کر پہنچ جاتے کیونکہ وہ بلوچستان میںکسی ایک پارٹی کی نہیں بلکہ پاکستان کی جنگ لڑرہےتھے اور اس جنگ میں دشمن نے بڑے بزدلانہ طریقے سے ایک خود کش حملہ آور کے ذریعہ انہیں شہید کردیا۔ جب یہ حملہ ہوا تو میں پشاور سے اسلام آباد واپس آرہا تھا۔ پشاور میں ہارون بلور اور ان کے ساتھیوں کی شہادت پر حاجی غلام احمد بلور اور الیاس بلور کے گھر فاتحہ اور
دعا کے بعد روانہ ہوا تو اطلاع ملی کہ بنوں میں اکرم درانی صاحب پر حملہ ہوا ہے ان کے کچھ ساتھی شہید ہوگئے لیکن وہ محفوظ رہے۔


صوابی کے قریب میری گاڑی موٹر وے پر ایک جلوس میں پھنس گئی۔ یہ مسلم لیگ(ن) کا جلوس تھا جو نواز شریف کے استقبال کے لئے پشاور سے لاہور جارہا تھا۔ چھوٹی بڑی گاڑیوں کا یہ جلوس کافی بڑا تھا جس میں بلا مبالغہ ہزاروں افراد شریک تھے۔ اس جلوس کے اندر سے راستہ بنا کر آگے نکلنے میں آدھ گھنٹہ لگ گیا اور جیسے ہی اسلام آباد میں داخل ہوا تو کوئٹہ سے ایک دوست نے اطلاع دی کہ مستونگ میں میر سراج رئیسانی پر حملہ ہوا ہے۔ یہ خبر سنتے ہی مجھے ان کا بیٹا حقمل اور والد غوث بخش رئیسانی یاد آئے جو اس قسم کے حملوں کا نشانہ بنے۔ دفتر پہنچا اور مختلف ٹی وی چینلز کی اسکرینوں پر میر سراج رئیسانی پر حملے کی خبر تلاش کی لیکن یہ خبر نظر نہیں آئی۔ تمام ٹی وی چینلز نواز شریف کے استقبال کے لئے مسلم لیگ (ن) کی ریلیوں کو دکھا رہے تھے۔ پھر میں نے ان ٹی وی اسکرینوں پر دیکھا کہ مسلم لیگی قیادت کنٹینر پر چڑھ چکی ہے۔ مجھے 2014یاد آگیا جب میرے یہ مسلم لیگی دوست کنٹینر پر چڑھنے والوں کو جمہوریت کا دشمن قرار دیتے تھے،

بہرحال نواز شریف کا پرامن استقبال مسلم لیگ (ن) کا آئینی و سیاسی حق تھا لیکن نگراں حکومت نے انہیں روکنے کے لئے وہی ہتھکنڈے استعمال کئے جو 2014 میں شہباز شریف کی حکومت نے عوامی تحریک اور پی ٹی آئی کا لانگ مارچ روکنے کے لئے استعمال کئے تھے۔ مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں اور پنجاب پولیس میں جگہ جگہ پنجہ آزمائی کی خبروں کے درمیان مجھے ایک پٹی نظر آئی’’مستونگ میں سراج رئیسانی پر حملہ، پانچ افراد جاںبحق‘‘۔
تھوڑی دیر بعد خبر دی گئی سراج رئیسانی سمیت دس افراد جاں بحق اور پھر یہ خبر غائب ہوگئی۔ ایک دفعہ پھر ٹی وی چینلز لاہور میں نواز شریف کے استقبال کی تیاریوں میں کھو گئے۔ میری ہمت نہیں پڑرہی تھی کہ میں حاجی لشکری رئیسانی کو فون کرکے اظہار افسوس کروں۔ اب میں اپنے دفتر میں بیٹھا کوئٹہ اور مستونگ میں فون کررہا تھا اور مجھے بتایا جارہا تھا کہ میر سراج رئیسانی پر حملے میں سو سے زیادہ افراد مارے گئے ہیں لیکن ٹی وی چینلز پر یہ تعداد بیس بتائی جارہی تھی۔ دوسری طرف 13جولائی کے دن جیو نیوز پر خصوصی نشریات میں شمولیت کے لئے ساتھی اصرار کررہے تھے۔ دل بہت مضطرب تھا، لاہور سے پولیس اور مسلم لیگیوں کے مابین جھڑپوں کی خبریں آرہی تھیں اور مستونگ میں دہشت گردی کا بڑا واقعہ ہوگیا تھا۔


جب ٹی وی چینلز نے جاں بحق افراد کی تعداد 40 بتانا شروع کی تو پھر میں نے ایک لائیو پروگرام میں یہ گزارش کی کہ خدارا بلوچستان والوں پر بھی کچھ توجہ دو۔ کم از کم اتنا کردیتے کہ لاہور کو اسی فیصد اور مستونگ کو 20فیصد کوریج دے دیتے لیکن اس دن ریٹنگ کی دوڑ تھی۔ 131بلوچوں کی لاشیں پیچھے رہ گئیں اور ریٹنگ آگے نکل گئی۔ پاکستان کا میڈیا پنجاب کا میڈیا بن کر رہ گیا۔ میڈیا نے جو کیا وہ غلط تھا لیکن جو میڈیا کے ساتھ ہوا وہ بھی غلط تھا۔ نواز شریف کے ساتھ ابوظہبی سے لاہور آنے والے صحافیوں کے ساتھ ائیر پورٹ پر سیکورٹی کے اداروں نے بدتمیزی کی اور دھمکیاں دیں۔

منیزے جہانگیر نے نواز شریف کے ساتھ ہونے والی دھکم پیل کو اپنے کیمرے میں محفوظ کرنے کی کوشش کی تو ایک سیکورٹی اہلکار نے اپنا پستول نکال لیا۔ 13جولائی کا دن پاکستان میں جمہوریت اور آئین و قانون کے لئے ایک سیاہ دن تھا۔ سپریم کورٹ کے ایک سابق چیف جسٹس کی نگراں حکومت کے دور میں آئین پاکستان کی دفعہ15اور 16کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہوئی جو شہریوں کو نقل و حرکت اور پرامن سیاسی سرگرمیوں کا حق دیتی ہے۔ دفعہ 19کی خلاف ورزی ہوئی جو آزادی اظہار کا حق دیتی ہے ۔

مجھے یہ غلط فہمی تھی کہ پنجاب کے نگراں وزیر اعلیٰ ڈاکٹر حسن عسکری رضوی لاہور میں پولیس کی طرف سے لاقانونیت کا نوٹس لیں گے اور بےبسی کی صورت میں استعفیٰ دیدیں گے لیکن مجھے اپنی اس غلط فہمی پر اپنے آپ سے شرمندہ ہونا پڑا۔ یہ وہ ڈاکٹر صاحب نہیں رہے جنہیں میں عرصے سے جانتا ہوں۔افسوس کہ ہم تاریخ سے سبق سیکھنے کے لئے تیار نہیں۔ تاریخ 13جولائی 2018کو شروع نہیں ہوتی۔ اس تاریخ میں 17جون 2014کا دن بھی آتا ہے جب پنجاب پولیس نے عوامی تحریک پر ظلم کے پہاڑ توڑے۔ اسی تاریخ میں 7نومبر 2007بھی آتا ہے جب مشرف دور میں میڈیا پرپابندیاں لگائی گئیں۔ جو کام مشرف اور ن لیگ کی حکومتوں نے کئے وہ 13جولائی کو ن لیگ کے ساتھ ہوئے۔

ستم بالائے ستم یہ کہ نواز شریف کے خلاف دو ریفرنسوں کی سماعت جیل کے اندر ہوگی۔ یہ غیر قانونی ہے، پہلے نواز شریف کو اس ملک کے خفیہ اداروں نے آئی جے آئی کا سربراہ بنایا تھا اب ایک نئی آئی جے آئی کی سربراہی عمران خان کو سونپی جارہی ہے اور عمران خان کا حشر نواز شریف سے
مختلف نہیں ہوگا۔ خدا کے لئے تاریخ سے سبق سیکھو اور پاکستان پر رحم کرو۔


https://jang.com.pk/news/521517
 
Last edited by a moderator:

mian_ssg

MPA (400+ posts)
All the touching story ended on IK. Who is giving him the PMship. He has struggled for more than 20 years and people want him to lead this nation out of crisis. If he fails we will try to search the better option. For the time being and the available options we have, he is the best. Stop this propaganda.
 

Aashoor Asim

Councller (250+ posts)

موصوف نے حبِ نوازشریف میں وہ وہ جھوٹ گھڑے ہیں کہ پڑھنے والوں پر گھڑوں پانی پڑ گیا ہے۔ حامد میر نے آج کے کالم میں لکھا کہ "13جولائی کا دن پاکستان میں جمہوریت اور آئین و قانون کے لئے ایک سیاہ دن تھا۔"

ایسی بات کوئی پاکستان کا دشمن تو کہہ سکتا ہے لیکن کوئی پاکستان کا دوست ہرگز نہیں کہہ سکتا کیونکہ 13 جولائی پاکستان کا ایک تاریخ ساز دن تھا جب پاکستان کے ایک طاقتو ترین شخص کو ہتھکڑی لگی جس پر کرپشن، منی لانڈرنگ اور آمدن سے بڑھ کر اثاثے رکھنے کا جرم ثابت ہوا اور اس کو اپنی صفائی کے لیے بے شمار موقع دیے گئے لیکن وہ آج تک ایک بھی گواہ پیش کرنے میں اور منی ٹریل دینے میں ناکام رہا۔

اگر ایسے کرپٹ ترین اور خائن شخص کو ہتھکڑی لگنا جمہوریت اور آئین و قانون کے لیے سیاہ دن تھا تو پھر اس جمہوریت اور آئین و قانون کی بساط ہی لپیٹ دینی چاہیے کیونکہ جو جمہوریت اور آئین و قانون پیتنیس سال حکومت کرنے والے سے اس کا مواخذہ نہ کر سکے تو پھر ایسے نظامِ سیاست پر ہی لعنت ہے۔ حامد میر کو یہ دن سیاہ تو لگے گا ہی کیونکہ یہ وہی شاہوں کے نمک خوار ہیں جن کی یہاں دیہاڑیاں لگی ہوئی ہیں۔

حامد میر نے صریحاً جھوٹ لکھا کہ "نواز شریف کے ساتھ ابوظہبی سے لاہور آنے والے صحافیوں کے ساتھ ائیر پورٹ پر سیکورٹی کے اداروں نے بدتمیزی کی اور دھمکیاں دیں۔ منیزے جہانگیر نے نواز شریف کے ساتھ ہونے والی دھکم پیل کو اپنے کیمرے میں محفوظ کرنے کی کوشش کی تو ایک سیکورٹی اہلکار نے اپنا پستول نکال لیا۔"

ساری دنیا نے لائیو کوریج کے دوران دیکھا کہ سیکورٹی تھریٹس کی وجہ سے رینجرز اور نیب کے اہلکار اندر گئے اور بغیر کسی دھکم پیل کے انہوں نے نوازشریف اور مریم نواز کو حراست میں لے لیا اور اگر کسی اہلکار نے کسی پر کوئی پستول نہیں تانا کیونکہ نوازشریف کی شدید ترین خواہش تھی کہ ان کے ساتھ بدتمیزی ہو یا بال پکڑ کر کھینچا جائے تا کہ وہ اپنے بین الاقوامی دوستوں کو وہ تصویریں دکھا کر اس کو سیاسی رنگ دے سکیں لیکن رینجرز اہلکار نے نہایت احترام کے ساتھ ان کو حراست میں لے کر تمام تر خدشات کا قلع قمع کر دیا اور شاید حامد میر اسی وجہ سے سیخ پا ہو رہے ہیں کہ انہوں نے جو سوچا تھا وہ نہ ہو سکا۔

حامد میر نے یہ بھی لکھا کہ "نوازشریف کے خلاف دو ریفرنسز کی سماعت جیل کے اندر ہوگی، یہ غیر قانونی ہے"۔

اس پروپیگنڈے اور پریشر کی وجہ صرف یہ ہے کہ نوازشریف اور مریم نواز چاہتے ہیں کہ ان کی پیشیاں نیب عدالت میں چلتی رہیں تا کہ یہ لوگ وکٹری کے سائن بنا کر باہر جائیں اور عوام کے سامنے پھر سے جھوٹ بولیں اور سیاسی انتشار پیدا کر سکیں لیکن اگر سماعتیں جیل کے اندر ہوتی ہیں تو ان کی امیدوں پر پانی پڑ جائے گا۔ اور حامد میر یہاں پر صرف اپنا لفافہ حلال کر رہا ہے اور کچھ نہیں۔

اور سب سے آخر میں حامد میر نے خفیہ اداروں پر بغیر کوئی ثبوت پیش کیے یہ الزام لگایا ہے کہ خفیہ ادارے ایک نئی آئی جے آئی بنا کر عمران خان کو اس کا سربراہ بنا رہے ہیں۔ یہ وہ پروپیگنڈا اور جھوٹ ہے جو ہم پچھلے دس سالوں سے مسلسل سنتے آ رہے ہیں جب کہ حقیقت یہ ہے کہ عمران خان نے پچھلے دس سالوں میں بہترین اپوزیشن کر کے اپنی اہلیت اور قابلیت دکھا دی ہے اور نون لیگ اور پیپلزپارٹی مسلسل جھوٹ اور منافقانہ سیاست کی وجہ سے عوام میں ایکسپوز ہو چکے ہیں۔ حامد میر کو اپنی اس خبر کا ثبوت پیش کرنا چاہیے ورنہ ہم یہ مان لیں گے کہ حامد میر نے خود پر قاتلانہ حملے کی طرح اس بات کا بھی جھوٹا الزام آئی ایس آئی پر لگایا ہے۔

حامد میر یہ سوشل میڈیا کا دور ہے، آج ہم تمہارے ایک ایک جھوٹ، پروپیگنڈے اور لفافے کو بے نقاب کر کے عوام کے سامنے رکھ دیں گے۔ تم جتنے جھوٹ بولو گے ہم اتنا ہی سچ لکھیں گے۔۔۔۔۔!!۔


تحریر و تجزیہ: عاشور بابا
 

Dawood Magsi

Minister (2k+ posts)
Yeh Bara hi Haramii kisam ka insan hai Hamid Khhanzeer, yeh beghairatt apna column bechney k liye kuchh bhi likh sakta hai.
 

crankthskunk

Chief Minister (5k+ posts)
With one difference my dear "Pseudo Journalist" in 2014, the agitation was against the massive rigging+murder of 14 innocent people and injury to close to 100 people. Last week agitation was "Why you have jailed a corrupt thug". Probably you have failed to notice, but there are so many sections in Pakistani laws that stop people from protesting for criminals, hiding, helping them. These sections actually allow the security agencies to register cases against those who breach the law.
Peaceful right to assembly is not for criminal activities or in support of criminals and their activity. Nowhere in the world you are allowed to exercise this right.

My Pakistani friends, be aware of this agenda of our "Pseudo Journalists" , they are trying to justify the support of Nawaz in this garb.
In last few days Kashif, his wife Meher, Musharaf Zaidi etc. and now Hamid Mir has gone down the same agenda.
Who is she quoting? Manize Jehangir, we all know which house she belongs to. They are trying to implicate Pakistani agencies in Mastung attack, which is absurd. All indications are that the attacker came from Afghanistan and was supported by RAW and their Afghan counter part and perhaps the Big Sam.
Their agents in Pakistan are now twisting things. They are the biggest disloyal people in Pakistan, should be charged for treason.
 

Abdullah9

Senator (1k+ posts)
If IK prove himself after he is elected as PM what he expresses now for the nation then dont worry nobody can throw him away like NS. we will defend him.
 

Truthstands

Minister (2k+ posts)
Hamid mir Jafar sahib khud ke leya Pakistan par reham karo. Aoni Haram ki boti shaheed ke mazmoon main halal mut karo. Tum jaisy low level jaise so called sahafi hi is qoam ke sub se baray dushman hain. India ki baat karty moat ati hay. Gaddar kashmiri. Tapsi te apy tus karsi.......
 

Urdu speaking

Minister (2k+ posts)
Yaa bajay Nawaz Sharif ko bolnay k flat bachoo aur pasa wapis kero Pakistan ko ulta kaha reha hay Pakistan ki awam ko kay Nawaz Sharif par bara zulum ho reha hay... Sala anti establishment anti Pakistan
 

Pakistan2017

Chief Minister (5k+ posts)
خدارا پاکستان پر رحم کرو سب مل کر حامد میر اور اس جیسے خنزیر صحافیوں کو جہنم واصل کر دو
 

WatanDost

Chief Minister (5k+ posts)
پہلے نواز شریف کو اس ملک کے خفیہ اداروں نے آئی جے آئی کا سربراہ بنایا تھا اب ایک نئی آئی جے آئی کی سربراہی عمران خان کو سونپی جارہی ہے اور عمران خان کا حشر نواز شریف سے
مختلف نہیں ہوگا۔ خدا کے لئے تاریخ سے سبق سیکھو اور پاکستان پر رحم کرو۔


تخم غدار بدتر از غدار ... میر جعفر حامد

آئ جے آئ ایک چوں چوں کا مربہ تھا جس میں سے سے ایک جونک نکالی گئی جو پاکستان کا خون چوس کر
١٠ مرلہ کے گھر سے ١٠٠٠٠ ہزار ایکڑ کے گھر اور لکھ پتی سے کھرب پتی بن گئی

اب یہ بتا خان جو الله کے فضل سے بنا بنایا ہے اور جس کی ہوس صرف اور صرف اتنی ہے کہ میرا ملک اور
ملک کے لوگ جہالت ، غربت اور ناانصافی سے نکل آئیں اور اس مقصد کے لیے ١٩٩٦ سے کوئی شارٹ کٹ ٧نہیں لیا .... اسے ضرورت کیا ہے کسی کے ہاتھوں .... کھیلنے کی جب کہ تقدیر نے اسے خود .... بنا دیا صرف اس کی ایک صفت پر یعنی بڑا خواب اور اس خواب کی تعبیر کےلیے انتھک جدوجہد

لہذا یہ رنڈی رونا کہیں اور جا کے رو
 

Anuuge67

Chief Minister (5k+ posts)
American's are responsible for this horrific war crime against Pakistani Nation.

The EVIL empire of Satan is destroying all Arab and Muslim countries.. This devil must be removed from Afghanistan period.

Muslims countries should reconsider it's diplomatic relations with this Jew controlled Dajjali dying empire.
 

Aliimran1

Chief Minister (5k+ posts)
حامد یہ پیغام تم اپنے دوست اور سجن نورے کے سجن مودی کو پہنچاؤ کہ پاکستان میں را اور موساد کی سرگرمیاں بند کرے -- یہ ساری دہشت گردی کی کاروائیاں نورے کو رہائی کی کوشش ہیں اورنورے کو رہا نہ کرنے کی صورت میں آنے والے دنوں میں ان میں شدت آ سکتی ہے