حکومت نے آئی ایم ایف کے کونسے 5 بڑے مطالبات تسلیم کرکے لاگوکردئیے؟

Kashif Rafiq

Prime Minister (20k+ posts)
budgehtiii.jpg


اسلام آباد : وفاقی حکومت نے آئی ایم ایف کی شرائط پر 415 ارب کے مزید ٹیکس لگا دیئے اور دودھ کے ڈبے پر سیلز ٹیکس 500روپے سے بڑھا کر 600 روپے کردیا۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی حکومت نے آئی ایم ایف کے پانچ بڑے مطالبات تسلیم کرتے ہوئے بجٹ اقدامات لاگو کردیئے اور چار سو پندرہ ارب کے مزید ٹیکس لگادیئے۔

حکومت کی جانب سے ڈبے میں بند بچوں کے دودھ پر ٹیکس سو روپے بڑھا دیا جبکہ دو سو گرام والے دودھ کے ڈبے پر سیلز ٹیکس پانچ سو روپے سے بڑھا کر چھ سو روپے کردیا گیا۔

زیادہ آمدن پراضافی سپر ٹیکس نئی شرح سے نافذ ہوگیا، انکم سلیب تیس کروڑسے بڑھا کر پچاس کروڑ کردیاگیا، سالانہ پچاس کروڑ روپےسے زیادہ آمدن پر دس فیصد سپر ٹیکس نافذ ہوگیا۔

ماہانہ دو لاکھ روپے سے زائد کی تنخواہ پر انکم ٹیکس کی شرح میں ڈھائی فیصد اضافہ کیا گیا ہے، اس کے علاوہ ایئرلائنز، آٹوموبائلز، بیوریجز، سیمنٹ، کیمیکلز، سگریٹ، تمباکوسیکٹر، فرٹیلائزر، لوہا، اسٹیل، ایل این جی ٹرمینل اورآئل مارکیٹنگ سمیت آئل ریفائنری کےشعبےبھی سپر ٹیکس کی کیٹیگری میں شامل ہیں۔

پٹرولیم، گیس، ادویہ سازی، شوگر اور ٹیکسٹائل سیکٹر پر بھی دس فیصد سپرٹیکس نافذ ہوگیا ہے۔