جعلی بھرتیاں،اینٹی کرپشن پرویز الٰہی کیخلاف ریکارڈ پیش نہ کر سکی

11parvezelahaiaiaiaiai.jpg

پراسیکیوشن کو آئندہ سماعت پر مکمل ریکارڈ فراہم کرنے کا حکم ، سماعت 13 جون تک ملتوی: عدالت

پنجاب اسمبلی میں غیرقانونی بھرتیوں کے کیس میں گرفتار صدر پاکستان تحریک انصاف وسابق وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی اور رائے ممتاز کی بعدازگرفتاری ضمانت کی درخواست پر اینٹی کرپشن عدالت کے سپیشل جج علی رضا اعوان نے آج سماعت کی۔

پراسیکیوشن عدالت میں مقدمے کا ریکارڈ آج بھی پیش نہیں کر سکی جبکہ اینٹی کرپشن کی طرف سے جزوی ریکارڈ پیش کر دیا گیا ہے۔ پرویز الٰہی کے وکیل رانا انتظار نے کیس کے حوالے سے اپنے دلائل مکمل کیے


سرکاری وکیل کی طرف سے عدالت کو آگاہ کیا گیا کہ کیس کا تفتیشی افسر اس وقت کوئٹہ گیا ہوا ہے جس کی آج واپسی ہو جائے گی وہ راستے میں ہے ۔ پراسیکیوشن نے مکمل ریکارڈ عدالت میں پیش کرنے کیلئے مہلت طلب کی جس پر عدالت نے پراسیکیوشن کو آئندہ سماعت پر مکمل ریکارڈ فراہم کرنے کا حکم دے دیا اور سماعت کو 13 جون تک ملتوی کر دیا گیا۔

علاوہ ازیں پرویز الٰہی کی طرف سے جیل میں سہولیات اور علاج کیلئے 2 درخواستیں اینٹی کرپشن عدالت میں دائر کی گئیں جس پر سپیشل جج علی رضا اعوان نے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس سے جواب طلب کر لیا ہے۔ پرویز الٰہی کے وکیل کا کہنا تھا کہ انہیں علاج کی سہولیات مہیا نہیں کی جا رہیں۔ پرویز الٰہی کو جیل میں علاج کی بہتر سہولیات کے ساتھ ساتھ بی کلاس کی سہولت بھی فراہم کی جائے۔

یاد رہے کہ سابق وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی ودیگر ملزمان پر پنجاب اسمبلی کے ریکارڈ میں ردوبدل کرنے کے بعد غیرقانونی بھرتیوں کا الزام ہے۔ پرویز الٰہی کے دوراقتدار میں تحریری امتحان میں فیل ہوئے 12 امیدواروں کو پنجاب اسمبلی میں گریڈ 17 کی ملازمتیں دی گئیں۔ پرویز الٰہی کے شریک ملزم رائے ممتاز حسین کی طرف سے بھی بعدازگرفتاری ضمانت کی درخواست دائر کی گئی ہے۔