تو اے مسافرِ شب خود چراغ بن اپنا

Afaq Chaudhry

Chief Minister (5k+ posts)
آصف جیلانی

امریکی جاسوس شکیل آفریدی کو ایبٹ آباد میں پولیو کے جعلی ٹیکوں کی مہم کے ذریعے امریکیوں کے لیے اسامہ بن لادن کا سراغ لگانے پر غداری کے جرم میں 33 سال قید کی سزا پر امریکی انتظامیہ اور سینیٹ کے اراکین نے ایسا واویلا مچایا ہے جیسے قیامت ٹوٹ پڑی ہو۔ واشنگٹن کے اقتدار کے ایوانوں میں اپنے جاسوس کو بچانے میں بے بسی اور ناکامی کے شدید احساس اور انتقام کی آگ کا یہ عالم ہے کہ آناً فاناً سینیٹ کی اپروپریشنز کمیٹی نے شکیل آفریدی کی سزا پر پاکستان کو سخت سزا دینے کے لیے مکمل اتفاقِ رائے سے پاکستان کی امداد میں سے 33 ملین ڈالر کاٹنے کا فیصلہ کیا ہے، ایک ملین ڈالر سالانہ کے حساب سے آفریدی کی 33 سال کی سزا کے خلاف۔ امریکی سینیٹر انتقام کی آگ میں اتنے جھلس گئے کہ انہوں نے ایک لمحے کے لیے بھی یہ نہیں سوچا کہ وہ اس فیصلے کے ذریعے ایک جاسوس کی خاطر پاکستان کے 18 کروڑ عوام کو ترقیاتی اور دفاعی امداد سے محروم کررہے ہیں اور یہ حقیقت بھی بے نقاب کررہے ہیں کہ امریکی امداد کا بنیادی مقصد امداد کے بل پر اپنے مفادات کا تحفظ اوراپنے اثر و رسوخ کو فروغ دینا ہے۔ یہی نہیں بلکہ ضرورت پڑنے پر امدادکو بلیک میل کرنے کے لیے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے جیسا کہ شکیل آفریدی کی صورت میں نظر آرہا ہے۔ امریکی امدادکے پس پشت بنیادی طور پر خودغرضی پر مرکوز فلسفے کی حقیقت کوئی نئی اور اچنبھے کی بات نہیں، بلکہ پاکستان نے 1954ء میں امریکی فوجی معاہدوں اور اس کے عوض امداد کے چنگل میںگرفتار ہونے کے بعد پچھلے 58برس میں متعدد بار امریکی غداریوں کی بہت بری چوٹ کھائی ہے لیکن اس کے باوجود ہمارے ملک کے حکمرانوں کی آنکھیں نہیں کھلیں، اور وہ بار بار ان غداریوں کا نشانہ بنے ہیں۔ تاریخ کے آئینے میں دیکھیں تو ایک نہایت تلخ حقیقت یہ سامنے آتی ہے کہ پاکستان میں انگریزوں کے پروردہ اور ان کے مفادات کے محافظ آئی سی ایس بیوروکریٹس نے جب 1950ء میں پاکستان کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کو امریکا کی گود میں دھکیلا تھا تو وزیر خارجہ سر ظفر اللہ خان، وزیر خزانہ غلام محمد، سیکریٹری خارجہ اکرام اللہ خان اور سیکریٹری دفاع اسکندر مرزا سب نے امریکا سے ترقیاتی امداد کی جگہ فوجی امداد پر زور دیا تھا۔ اُسی وقت امریکیوں نے بھانپ لیا تھا کہ پاکستان کی قیادت میں دوراندیشی کا فقدان ہے اور اسے آسانی سے اس علاقے میں امریکا کے فوجی، اقتصادی اور سیاسی اثرو رسوخ کے فروغ اور اپنے مفادات کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ 1950ء میں لیاقت علی خان کے امریکا کے دورے کے بعد جب صدر ٹرومین نے پاکستان میں سوویت یونین کی جاسوسی کے لیے CIAکے اڈوں کے قیام کا مطالبہ کیا تو لیاقت علی خان نے اس مطالبے کو ماننے سے صاف انکار کردیا تھا۔ اب یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں کہ اسی انکار کی بناء پر امریکا نے لیاقت علی خان کو راستے سے ہٹانے کے لیے اُن کے قتل کی سازش کی تھی جس پر مغرب نواز عناصر کی مدد سے عمل درآمد کیا گیا اور16 اکتوبر 1951ء کو راولپنڈی کے ایک جلسہ عام میں انہیں گولی مارکر شہید کردیا گیا۔ اس کے بعد امریکیوں کو کھلا میدان مل گیا۔ مئی 1954ء میں امریکیوں نے پاکستان کو اپنے فوجی معاہدے میں جکڑلیا، یہی نہیں بلکہ پاکستان کو سیٹو اور سینٹو کے فوجی معاہدوں کے بندھنوں میں بھی باندھ دیا گیا۔ اور پھر 1956ء میں صدر آئزن ہاور کے مطالبے پر پاکستان کے حکمرانوں کو پشاور میں سوویت یونین پر جاسوسی پروازوں کے لیے خفیہ اڈے کے قیام پر مجبور ہونا پڑا۔ اُس زمانے میں یوں لگتا تھا کہ امریکی پاکستانی حکمرانوں کے سامنے امداد کا ٹکڑا ڈالتے تھے اور اپنے مطالبات بلا کسی ردوقدح کے منوالیتے تھے۔ پاکستان کے ساتھ امریکا کی پہلی بڑی غداری 1965ء میں اُس وقت سامنے آئی جب ہندوستان کے ساتھ جنگ شروع ہوتے ہی امریکا نے پاکستان کو اسلحہ کی ترسیل بند کردی اور برطانیہ پر بھی زور دیا کہ وہ بھی پاکستان کو اسلحہ فراہم کرنے سے انکار کردے۔ اُس وقت جب کہ پاکستان کا صرف اور صرف امریکا اور برطانیہ کے اسلحہ پر دار و مدار تھا یہ بندش پاکستان کے ہاتھ کاٹنے کے مترادف تھی۔ دوسری طرف ہندوستان سوویت یونین اور دوسرے سوشلسٹ ممالک سے بڑے پیمانے پر اسلحہ حاصل کررہا تھا۔ پاکستان نے امریکا کے ساتھ فوجی معاہدوں کی دُہائی دی لیکن امریکا نے یہ کہہ کر دامن جھٹک دیا کہ یہ معاہدے تو صرف سوویت یونین کے خلاف ہیں۔ پھر1971ء میں بنگلہ دیش کی جنگ کے دوران پاکستان کو دولخت ہونے سے بچانے کے لیے امریکا سے اپنی دیرینہ وفاداری کی بنیاد پر مدد کی درخواست کی گئی۔ امریکا نے دلاسہ دیا کہ اس کا ساتواں بحری بیڑہ مشرقِ بعید سے خلیج بنگال کی سمت روانہ ہوگیا ہے۔ لیکن اس سے پہلے کہ امریکی جنگی جہاز پاکستان کی مدد کو پہنچتے، پاکستان دولخت ہوگیا۔ تاریخ میں یہ پاکستان کے ساتھ امریکا کی دوسری غداری رقم کی جائے گی۔ شکیل آفریدی کے معاملے پر پاکستان کی امداد میں تخفیف کا فیصلہ پہلا فیصلہ نہیں، اس سے پہلے بارہا امریکا نے پاکستان کی فوجی اور اقتصادی امداد بند کی ہے اور پاکستان پر اقتصادی تادیبی پابندیاں عائد کی ہیں۔1974ء میں صدر کارٹر نے پاکستان کے جوہری پروگرام کو روکنے کے لیے اقتصادی پابندیاں عائد کی تھیں۔ اس کے بعد 1979ء میں پاکستان کے جوہری پروگرام پر تشویش کے بہانے پاکستان کی اقتصادی امداد بند کردی تھی، پھر 1990ء میں پریسلر ترمیم کے تحت جوہری پروگرام پر قدغن لگانے کے لیے پاکستان کا ایک ارب بیس کروڑ ڈالر مالیت کا اسلحہ روک لیا گیا، جب کہ پاکستان نے پہلے سے اس کی ادائیگی کردی تھی۔ 1998ء میں پاکستان کے جوہری آزمائشی دھماکوں کے بعد پاکستان کی فوجی اور اقتصادی امداد بند کردی گئی تھی اور سخت اقتصادی پابندیاں عائد کردی گئی تھیں۔ تاریخ شاہد ہے کہ پاکستان نے ان تمام بندشوں اور پابندیوں کا نہایت استقامت سے مقابلہ کیا۔ اسی کی بنیاد پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ اگر امریکی سینیٹ کے فیصلے کے مطابق پاکستان کی 33 ملین ڈالر امداد بند ہوتی ہے تو پاکستان اس کے مضمرات کا ڈٹ کر مقابلہ کرسکتا ہے۔ 9/11کے بعد پچھلے دس برس میں پاکستان کو دہشت گردی کی عالمی جنگ میں امریکا کا حلیف بننے پر کُل دس ارب ڈالر کی امداد ملی ہے۔ امریکا کے حامی عناصر یہ شور مچاتے ہیں کہ اگر پاکستان اس امداد سے محروم ہوجاتا تو اس کی معیشت ٹھپ پڑجاتی۔ یہ عناصر یہ بات بھول جاتے ہیں کہ بیرون ملک آباد 63 لاکھ پاکستانی ہر سال 13ارب ڈالر سے زیادہ کی رقومات وطن بھجواتے ہیں، اور اگر ضرورت پڑے تو جس طرح 1998ء میں پاکستان کے جوہری آزمائشی دھماکوں کے بعد سخت پابندیوں کا مقابلہ کرنے میں بیرون ملک آباد پاکستانیوں نے مدد کی تھی اب بھی وہ مدد کے لیے تیار ہیں۔ ملک کے حکمرانوں نے نہ جانے کیوں یہ ڈر اور خوف اپنے ذہنوں پر طاری کرلیا ہے کہ پاکستان امریکا کی امداد کے بغیر اپنے پیروں پر نہیں کھڑا ہوسکتا۔ پاکستان پہلے بھی امریکی امداد کے بغیر زندہ رہا ہے اور اب بھی اپنے وسیع وسائل کے بل پر زندہ رہ سکتا ہے، لیکن اس کے لیے لازمی ہے کہ حکمران خوداعتمادی پیدا کریں، اپنے اللے تللے ختم کریں، کرپشن کا قلع قمع کریں، قومی بقا کے لیے کفایت شعاری اختیار کریں اور ٹیکس کا ایک ایسا نیا نظام وضع کریں جس کے تحت بلاتخصیص ملک کے تمام عوام پر منصفانہ طور پر ٹیکس عائد کیے جائیں اور ان کی وصولی کا مؤثر طریقہ اختیار کیا جائے۔ جہاں تک امریکی جاسوس شکیل آفریدی کا معاملہ ہے، خبریں یہ ہیں کہ امریکا میں انٹیلی جنس برادری اور سینیٹ کے اراکین کی ایک بڑی تعداد صدر اوباما سے سخت ناراض ہے کہ انہوں نے ایبٹ آباد پر حملے سے پہلے اپنے جاسوس شکیل آفریدی کو تحفظ فراہم کرنے یا اسے پاکستان سے نکالنے کے لیے کوئی کارروائی نہیں کی۔ آفریدی کو پاکستانی حکام نے ایبٹ آباد حملے کے22 روز بعد گرفتار کیا تھا۔ اوباما انتظامیہ پر یہ الزام لگایا جارہا ہے کہ اس دوران سخت غفلت سے کام لیا گیا اور آفریدی کو پاکستانی حکام کے چنگل سے بچانے کے لیے کچھ نہیں کیا گیا، حالانکہ اس سلسلے میں حملے سے پہلے منصوبہ بندی کی جانی چاہیے تھی۔ صدر اوباما پر امریکی انٹیلی جنس برادری اور سینیٹ کے اراکین کے اس سخت دباؤ کے پیش نظر عام طور پر یہ خطرہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ شکیل آفریدی کو پاکستان کی جیل سے نکالنے کے لیے اسی طرح امریکی سیلز کے خصوصی دستوں کا حملہ کیا جائے گاجس طرح اسامہ بن لادن کو ہلاک کرنے کے لیے ایبٹ آباد میں حملہ کیا گیا تھا۔
http://www.jasarat.com/epaper/index.php?page=03&date=2012-05-27
 

Zaidi Qasim

Prime Minister (20k+ posts)
يہ غلام ابن غلام ، يہ اپنے زمانے کے مير صادق اور مير جعفر ،يہ کياني ،زرداري اور گيلاني اس بدقسمت قوم کے ليۓ کيا چراغ بنيں گے بلکہ يہ تو اندھيروں کے سوداگرہيں ، اور روشنی اور اميدوں کے قاتل ، يہ کسی کو اجالے کا رستہ کب دکھا سکتے ہيں ۔
 
Sponsored Link