ترجمان طالبان حکومت ذبیح اللہ نےدوحہ میں خاتون رپورٹر کاسوال نظرانداز کردیا

2zabihullafemmatelkfk.png

افغانستان میں طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے دوحہ میں خاتون رپورٹر کا خواتین سے متعلق سوال نظر انداز کر دیا,دوحہ کانفرنس کے دوران طالبان وفد کے سربراہ سے افغان خاتون رپورٹر نے سوال کیا کہ کیا آپ خواتین سے خوف زدہ ہیں؟‘ذبیح اللہ مجاہد نے اس سوال کا کوئی جواب نہیں دیا، انھوں نے افغانستان میں اقتدار کے قانونی جواز کا سوال بھی نظر انداز کر دیا۔

وفد میں شریک طالبان رہنما سہیل شاہین نے اس سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا اگر ہمارے پاس قانونی جواز نہ ہوتا تو افغانستان سے قبضہ کیسے ختم کروادیا,اقوام متحدہ کی قیادت میں اتوار کے روز قطر میں افغانستان کے لیے دو درجن سے زائد ممالک کے خصوصی ایلچیوں پر مشتمل دو روزہ کانفرنس شروع ہوئی۔


دو روزہ اجلاس قطری دارالحکومت دوحہ میں افغان بحران پر اقوام متحدہ کے زیر اہتمام تیسرا اجلاس ہے,کانفرنس میں طالبان نے عالمی مالیاتی پابندیاں ختم کرنے اور مغرب کے ساتھ زیادہ سے زیادہ تعلقات کی خواہش کا اظہار کیا، خواتین کی آزادی پر عائد پابندیوں کے حوالے سے طالبان کا کہنا تھا کہ اس پر ان کی پالیسی مختلف ہے۔

کابل میں طالبان حکومت کے چیف ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ وفد نے اجلاس کے موقع پر روس، بھارت اور ازبکستان سمیت کئی ممالک کے نمائندوں سے ملاقاتیں کیں,طالبان نے اگست 2021 میں افغان دارالحکومت کابل پر اقتدار حاصل کیا تھا۔
 

Mux

Citizen
Its wise to be silent at time. Not like Pakistani politicians Railway minister talking about Foreign policy, IT minister talking about Food etc etc