تربت میں مبینہ ماورائے عدالت شہری کے قتل پر احتجاج 5 ویں روز بھی جاری

13تئرباتتسیھتاجاجاجسجسھد.png

سی ٹی ڈی حراست میں مبینہ ماورائے عدالت قتل کی ایف آئی درج ہونے تک مظاہرہ جاری رہے گا: مظاہرین

صوبہ بلوچستان کے شہر تربیت ایک شہری بالاچ مولابخش کے مبینہ طور پر ماورائے عدالت کے خلاف مظاہری آج پانچویں روز بھی احتجاج کر رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق تربت کے رہائشی ایک شہری بالاچ مولابخش کے مبینہ ماورائے عدالت قتل کے بعد اس کے خاندان کے افراد کی طرف سے دھرنا پانچویں دن بھی جاری رہا جبکہ متعلقہ حکام کی طرف سے مظاہرین کے ساتھ مذاکرات میں اب تک کسی قسم کی پیشرفت نہیں ہو سکی۔

ماورائے عدالت قتل کے بعد جاری دھرنا کے باعث علاقے میں شٹرڈائون ہڑتال کر دی گئی اور تمام دکانیں بند رہیں۔ بالاچ مولابخش کے خاندان کے افراد نے سیاسی جماعتوں کے حامیوں اور بلوچ یکجہتی کونسل (بی وائے سی) کے ہمراہ تربت کو سندھ کے دارالحکومت کراچی ودیگر علاقوں سے منسلک ڈی-بلوچ چائنہ پاکستان اکنامک کوریڈور روڈ پر دھرنا دیا جس سے اس شاہراہ پر ہر طرح کی ٹریفک معطل ہو گئی۔

https://twitter.com/x/status/1729410067932586289
بالاچ مولابخش کے لواحقین پانچ دنوں سے تربت میں اس کی لاش کے ہمراہ دھرنا دے کر بیٹھے ہیں، جمعہ کو سیشن جج نے قتل کی ایف آئی درج کرنے کا حکم دیا تھا جس پر ابھی تک عملدرآمد نہیں ہو سکا۔ مقتول کے اہل خانہ اور بلوچستان یکجہتی کونسل کے رہنمائوں نے الزام عائد کیا ہے کہ مقتول کی بہن نجمہ بلوچ کو چیئرمین کیچ ڈسٹرکٹ کونسل دفتر کے عہدیدار بات چیت کرنے کیلئے لے کر نامعلوم مقام پر چلے گئے ہیں۔

لواحقین کی طرف سے الزام عائد کیا گیا ہے کہ ہمارا نجمہ بلوچ سے کئی گھنٹوں سے رابطہ نہیں ہو سکا جبکہ اس کا موبائل فون بھی اس وقت سے سائلنٹ موڈ پر رکھا گیا تھا۔ نجمہ بلوچ نے واپس آنے پر بتایا کہ حکام کی طرف سے ان پر اپنے بھائی کی تدفین کرنے اور دھرنے کو ختم کرنے کے لیے دبائو ڈالا جا رہا ہے۔

مظاہرین نے موقف اختیار کیا ہے کہ جب تک بالاچ مولابخش کے سی ٹی ڈی حراست میں مبینہ ماورائے عدالت قتل کی ایف آئی درج نہیں ہو جاتی اور جوڈیشل انکوائری کا اعلان نہیں ہو جاتا ہم دھرنا ختم نہیں کریں گے۔ بی وائے سی رہنمائوں نے مکران ڈویژن میں پہیہ جام اور مکمل شٹرڈائون ہڑتال کا اعلان کرتے ہوئے ٹرانسپورٹر اور تاجروں کو ہڑتال کی کال دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی دبائو میں نہیں آئیں گے۔

واضح رہے کہ سی ٹی ڈی کی طرف سے تربت پسنی روڈ بس ٹرمینل کے قریب خفیہ اطلاعات پر کارروائی میں 4 دہشت گردوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا گیا تھا جس میں سے ایک بالاچ مولابخش بھی تھا۔ بالاچ کے لواحقین کا کہنا تھا کہ اسے 29 اکتوبر کو سی ٹی ڈی نے گرفتار کیا تھا اور تب سے وہ حراست میں تھا جسے جعلی مقابلے میں ہلاک کیا گیا ہے۔
 

NasNY

Chief Minister (5k+ posts)
No law in Pakistan, Let the illusion of walls of justice crumble. We need wild wild East, everyone must be armed.