بجٹ میں ٹیکسوں کی بھرمار، بنک سے پیسے نکلوانے پر بھی ٹیکس

darhaishahas.jpg


آئندہ مالی سال کے بجٹ میں عوام کے لئے ریلیف کے بجائے تکلیف ہے، ٹیکسوں کی بھرمار کردی گئی، بجٹ کا حجم 144 کھرب 60 ارب روپے ہے،نئے بجٹ میں پرانے بلب اور روایتی پنکھے مہنگے ہوں گے، روایتی پنکھوں پر دو ہزار روپے فی کس ایکسائز ڈیوٹی اورپرانے بلب پر بیس فیصد ریگولیٹر ڈیوٹی عائد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ درآمدی شیشہ بھی مہنگا ہوجائے گا۔

سولر پینل سستے ہوں گے، سولر پینل کی مینوفیکچرنگ کے خام مال پر کسٹمز ڈیوٹی ختم، سولر پینل کی مشینری کی درآمد پر بھی کسٹمز ڈیوٹی نہیں دینا ہو گی،فنانس بل کے مطابق،بیٹریز کی تیاری میں استعمال ہونے والے خام مال پر بھی ڈیوٹی ختم کر دی گئی، انورٹر کے خام مال پر بھی ڈیوٹی کا خاتمہ کر دیا گیا ہے۔

لیدر کے جوتے، جیکٹس، پرس اور مہنگے ہوں گے، حکومت نے سیلز ٹیکس بارہ سے بڑھ کر پندرہ فیصد کر دیا، کپڑوں سمیت ٹیکسٹائل کی مصنوعات بھی مہنگی ہوں گی، لنڈے کا سامان سستا ہو گا،ٹائلیں، کموڈ، شاور اور نل سستے ہوں گے، ڈائپرز کی قیمتوں میں بھی کمی آئے گی، حکومت نے سینیٹری، ڈائپرز اور نیپکنز کے خام مال پر کسٹمز ڈیوٹی ختم کر دی۔

مولڈز اینڈ ڈائیز کی تیاری کے لئے خام مال پر کسٹمز ڈیوٹیز میں استثنیٰ دینے کی تجویز شامل ہے۔ مائننگ مشینری،رائس مل مشینری اور مشین ٹولز کے لئے خام مال میں کسٹم ڈیوٹیز کے استثنیٰ کے بعد اشیا سستی ہوں گی۔

اسلام آباد میں ہوٹلوں پر کھانا سستا ہوگا، حکومت نے ٹیکس کی شرح سترہ سے کم کر کے پانچ فیصد کر دی، سہولت کریڈٹ کارڈ سے رقم ادا کرنے والوں کو ملے گی،ہیوی کمرشل وہیکلز کی نان لوکلائزڈ پر 10 فیصد کسٹم ڈیوٹی میں 5 فیصد کمی کردی گئی۔تیرہ سو سی سی سے اوپر کی گاڑیوں پر ٹیکس کیپنگ ختم کر دی گئی،مخصوص کاغذ اور آرٹ کارڈ اور قرآن کریم کی اشاعت کیلئے بورڈ پر کسٹمز ڈیوٹیز کا استثنی دیا گیا ہے۔

نان فائلرز پر ٹیکسوں کی بھرمار کردی گئی، وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں نان فائلرز پر پچاس ہزار کیش نکلوانے پر ٹیکس کی شرح میں اضافہ کردیا۔

بینک سے کیش نکلوانے پر پچاس ہزار سے زائد رقم نکلوانے پر 0.6فیصد ٹیکس عائد کرنے کی تجویز کی گئی،فائلر پر ود ہولڈنگ ٹیکس کی شرح ایک فیصد سے بڑھا کر پانچ فیصد کرنے کی تجویز جبکہ نان فائلر پر یہ شرح دس فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے، امیر طبقے پر سپر ٹیکس عائد کرنے کی تجویزبھی بجٹ میں شامل کی گئی۔

بجٹ میں ٹیکسز کی وصولیوں کو یقینی بنانے کے لیے حکومت نے نان فائلرز کے لیے مزید گھیرا تنگ کر دیا، ۔کمرشل درآمدات پر ٹیکس ریٹ میں 0.50 فیصد اضافہ کی تجویزدی گئی ہے۔

بجٹ میں بینک سے کیش نکلوانے پر پچاس ہزار سے زائد رقم نکلوانے پر 0.6 فیصد ٹیکس عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے جبکہ فائلر پر ود ہولڈنگ ٹیکس کی شرح ایک فیصد سے بڑھا کر پانچ فیصد کرنے کی تجویز جبکہ نان فائلر پر یہ شرح دس فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

بجٹ میں نان فائلرز کے لیے لیدر اور ٹیکسٹائل کی مصنوعات کی شرح بارہ فیصد سے بڑھا کر پندرہ فیصد کرنے کی تجویز دی گئی جو قیمتی ملبوسات اور مصنوعات پر عائد کیا جائے گا، جس سے عام آدمی متاثر نہیں ہوگا۔

وفاقی حکومت کی جانب سے نئے مالی سال میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 35 فیصد تک کے ’ایڈہاک ریلیف الاؤنس‘ کا اعلان کیا گیا،ایک سے 16ویں گریڈ کے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 35 فیصد جبکہ 17 سے 22ویں گریڈ کے افسران کی تنخواہوں میں 30 فیصد اضافہ ایڈہاک ریلیف الاؤنس کی مد میں کیا گیا ہے۔
 

bahmad

Minister (2k+ posts)
As long as they are in govt, they will only give stress, inflation, pressure and insult to public.....

Public not able to stand for there rights, not able to follow truthful leader, not able to judge truth......in result they and there children's are ruling on us and dealing like a animals who only useful in election day .....