ایسے معاشی مسائل 1998 میں ایٹمی دھماکوں کے بعد بھی نہیں تھے، وزیر خزانہ

Kashif Altaf

Moderator
Staff member
12ishawdararararar.jpg

ہم نے کوشش کی کہ میثاق جمہوریت کے بعد میثاق معیشت کیا جائے تاکہ روڈ میپ تیار ہو اور ملکی معیشت بہتر ہو: وزیر خزانہ

قومی اسمبلی کے آج ہونے والے اجلاس میں پیپلزپارٹی کی رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر نفیسہ شاہ کی طرف سے اٹھائے گئے نکات کے جواب میں وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے بتایا کہ سیلاب زدہ علاقوں میں تباہ شدہ گھروں کی بحالی وتعمیر کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے جس کیلئے 16 ارب 30 کروڑ ڈالر درکار ہیں جس میں 11 ارب ڈالر سندھ میں خرچ کیے جائینگے۔


آج پھر سے اس حوالے سے اجلاس طلب کیا گیا ہے جس میں منصوبے کو حتمی شکل دیں گے، گھبرانے کی ضرورت نہیں۔

اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ سیلاب زدہ علاقوں میں انفراسٹرکچر بحالی کیلئے ڈونرز کانفرنس میں مختلف ملکوں واداروں نے امداد کا اعلان کیا گیا ہے۔

سیلاب زدہ علاقوں میں ریلیف کیلئے بینظیر انکم سپورٹ سے 80 ارب تقسیم کیے، این ڈی ایم اے کو ریلیف کا سامان بھی فراہم کیا۔ ہم نے کوشش کی کہ میثاق جمہوریت کے بعد میثاق معیشت کیا جائے تاکہ روڈ میپ تیار ہو اور ملک کی معیشت بہتر ہو۔

وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ 3 دن پہلے طویل اجلاس ہوا جس میں وزیراعلیٰ سندھ اور پیپلزپارٹی کے سینئر وزراء کے علاوہ میں بھی شریک تھا ، کافی حد تک روڈمیپ بنا لیا جو 4 سالہ وسط مدتی پروگرام ہو گا، سیلاب زدہ علاقوں میں متاثرہ گھروں کی تعمیر کے منصوبے کو ائندہ اجلاس میں حتمی شکیل دینگے۔

وزیر خزانہ کی طرف سے وضاحتی بیان بلاول بھٹو کے بجٹ منظوری کیلئے تحفظات دور کرنے کے بیان پر آیا ہے۔

انہوں نے قومی اسمبلی سے اپنے خطاب میں کہا کہ ملک اس وقت جن معاشی مسائل کا شکار ہے 1998ء میں ایٹمی دھماکے کرنے کے بعد بھی ایسا مسائل نہیں تھے۔

1998ء میں آئی ایم ایف کی طرف سے پروگرام بند اور ملک پر اقتصادی پابندی لگا دی گئی تھیں، اس وقت آئی ایم پروگرام بحال کرنے میں 8 مہینے لگ گئے تھے۔ ہماری کوششوں کے باعث ٹھہرائو آیا ہے، جلد ملک ترقی کی طرف جائے گا۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ میں نے 2013ء سے 2018ء کے دوران میثاق جمہوریت کیلئے بھی کلیدی کردار ادا کیا تاکہ معاشی ترقی کیلئے روڈمیپ تیار ہو جائے اور ہر آنے والی حکومت بغیر تبدیلی کیے اس پر عملدرآمد کرے اور قوم گواہ ہو۔ میثاق جمہوریت کے 2 نکات چھوڑ کر تمام نکات پر عملدرآمد کر لیا۔

رواں مالی سال کا بجٹ پیش ہونے کے بعد اتحادی جماعتوں کی طرف سے حکومت کو تنقید کا سامنا ہے۔

رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ نے ایک سیاسی کارکن کی گرفتاری پر احتجاجاً بجٹ پر بات سے انکار کیا، اسلام الدین شیخ نے معاشی بہتری میں ناکامی پر تنقید کی اور کہا کہ مفتاح اسماعیل وزارت خزانہ کے عہدے کیلئے بہتر تھے۔

اتحادی جماعتوں کے علاوہ مسلم لیگ ن کے چند اہم رہنما بھی اپنی جماعت سے خوش نہیں ہیں۔

ذرائع کے مطابق سینئر پارٹی رہنما شاہد خاقان عباسی نے اقتصادی رابطہ کمیٹی سے استعفیٰ دیدیا ہے کیونکہ ان کی تجاویز کی حکومت کی طرف سے قبول نہیں کیا گیا تھا۔
 
Last edited by a moderator:

3rd_Umpire

Chief Minister (5k+ posts)
Last edited:

Melanthus

Chief Minister (5k+ posts)
When Bajwa traitor remove PTI government through coup and installed PDM all haramis of PDM were claiming they were going to save Pakistan.They have destroyed Pakistan
 

انقلاب

Chief Minister (5k+ posts)
12ishawdararararar.jpg

ہم نے کوشش کی کہ میثاق جمہوریت کے بعد میثاق معیشت کیا جائے تاکہ روڈ میپ تیار ہو اور ملکی معیشت بہتر ہو: وزیر خزانہ

قومی اسمبلی کے آج ہونے والے اجلاس میں پیپلزپارٹی کی رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر نفیسہ شاہ کی طرف سے اٹھائے گئے نکات کے جواب میں وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے بتایا کہ سیلاب زدہ علاقوں میں تباہ شدہ گھروں کی بحالی وتعمیر کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے جس کیلئے 16 ارب 30 کروڑ ڈالر درکار ہیں جس میں 11 ارب ڈالر سندھ میں خرچ کیے جائینگے۔


آج پھر سے اس حوالے سے اجلاس طلب کیا گیا ہے جس میں منصوبے کو حتمی شکل دیں گے، گھبرانے کی ضرورت نہیں۔

اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ سیلاب زدہ علاقوں میں انفراسٹرکچر بحالی کیلئے ڈونرز کانفرنس میں مختلف ملکوں واداروں نے امداد کا اعلان کیا گیا ہے۔

سیلاب زدہ علاقوں میں ریلیف کیلئے بینظیر انکم سپورٹ سے 80 ارب تقسیم کیے، این ڈی ایم اے کو ریلیف کا سامان بھی فراہم کیا۔ ہم نے کوشش کی کہ میثاق جمہوریت کے بعد میثاق معیشت کیا جائے تاکہ روڈ میپ تیار ہو اور ملک کی معیشت بہتر ہو۔

وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ 3 دن پہلے طویل اجلاس ہوا جس میں وزیراعلیٰ سندھ اور پیپلزپارٹی کے سینئر وزراء کے علاوہ میں بھی شریک تھا ، کافی حد تک روڈمیپ بنا لیا جو 4 سالہ وسط مدتی پروگرام ہو گا، سیلاب زدہ علاقوں میں متاثرہ گھروں کی تعمیر کے منصوبے کو ائندہ اجلاس میں حتمی شکیل دینگے۔

وزیر خزانہ کی طرف سے وضاحتی بیان بلاول بھٹو کے بجٹ منظوری کیلئے تحفظات دور کرنے کے بیان پر آیا ہے۔

انہوں نے قومی اسمبلی سے اپنے خطاب میں کہا کہ ملک اس وقت جن معاشی مسائل کا شکار ہے 1998ء میں ایٹمی دھماکے کرنے کے بعد بھی ایسا مسائل نہیں تھے۔

1998ء میں آئی ایم ایف کی طرف سے پروگرام بند اور ملک پر اقتصادی پابندی لگا دی گئی تھیں، اس وقت آئی ایم پروگرام بحال کرنے میں 8 مہینے لگ گئے تھے۔ ہماری کوششوں کے باعث ٹھہرائو آیا ہے، جلد ملک ترقی کی طرف جائے گا۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ میں نے 2013ء سے 2018ء کے دوران میثاق جمہوریت کیلئے بھی کلیدی کردار ادا کیا تاکہ معاشی ترقی کیلئے روڈمیپ تیار ہو جائے اور ہر آنے والی حکومت بغیر تبدیلی کیے اس پر عملدرآمد کرے اور قوم گواہ ہو۔ میثاق جمہوریت کے 2 نکات چھوڑ کر تمام نکات پر عملدرآمد کر لیا۔

رواں مالی سال کا بجٹ پیش ہونے کے بعد اتحادی جماعتوں کی طرف سے حکومت کو تنقید کا سامنا ہے۔

رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ نے ایک سیاسی کارکن کی گرفتاری پر احتجاجاً بجٹ پر بات سے انکار کیا، اسلام الدین شیخ نے معاشی بہتری میں ناکامی پر تنقید کی اور کہا کہ مفتاح اسماعیل وزارت خزانہ کے عہدے کیلئے بہتر تھے۔

اتحادی جماعتوں کے علاوہ مسلم لیگ ن کے چند اہم رہنما بھی اپنی جماعت سے خوش نہیں ہیں۔

ذرائع کے مطابق سینئر پارٹی رہنما شاہد خاقان عباسی نے اقتصادی رابطہ کمیٹی سے استعفیٰ دیدیا ہے کیونکہ ان کی تجاویز کی حکومت کی طرف سے قبول نہیں کیا گیا تھا۔
ڈالر نے ڈار یہہ دِتا
 

chandaa

Prime Minister (20k+ posts)
Tou tum loug foujiyoon se apni bachiyaan chu---- aaey thei. Haraam zaadoon ne kanjar fouj ke saath mil kar tabahi phair di hai.