انسانی عقل بمقابلہ مذہب: کس نے دنیا کو کیا دیا

M_Shameer

MPA (400+ posts)
دورِ حاضر میں موٹی موٹی کلاسیفیکشن کریں تو دو قسم کے لوگ کرہ ارض پر بستے ہیں۔ ایک وہ جنہوں نے مذہب کو فرد کی پرسنل چوائس قرار دیا اور یہ فیصلہ کیا کہ وہ عقلی بنیادوں پر اپنی زندگی اور معاشرے کے فیصلے کریں گے۔ دوسری طرف وہ لوگ جنہوں نے کہا انسانی عقل ناقص ہے، ہم سیاست سے لے کر معاشرت اور معیشت تک ہر معاملے میں مذہب سے رہنمائی لیں گے، کسی بھی معاملے میں اپنی عقل کے گھوڑے نہیں دوڑائیں گے۔ اب ذرا پچھلے ڈیڑھ دو سو سال کی ہسٹری کا مطالعہ کریں اور دیکھیں کے سائنسی رویے رکھنے والوں نے اس دنیا کو کیا دیا اور اس کے مقابلے میں مذہب کو فالو کرنے والوں نے دنیا کو کیا دیا۔

مذہب کو ماننے والوں نے جب پرندوں کو ہوا میں اڑتے دیکھا تو انہوں نے کہا یہ خدا کی قدرت سے اڑتے ہیں ، خدا ہی انہیں اڑاتا ہے اور جب یہ مان لیا جائے کہ کوئی کام خدائی ہے تو پھر انسان وہ کام کیسے کرسکتا ہے۔ لہذا اس سے آگے سوچنے کی انہوں نے ہمت ہی نہیں کی۔ دوسری طرف عقل استعمال کرنے والوں نے جب پرندوں کو اڑتے دیکھا تو انہوں نے اس بات کی کھوج لگانے کی کوشش کی کہ آخر یہ کس میکنزم کے تحت اڑتے ہیں۔ عقل کی کاوش رنگ لائی، انسان نے لفٹ کی فورس کو دریافت کرلیا اور ہوا میں اڑنے والے جہاز اور ہیلی کاپٹر بنا ڈالے۔ ایک جہاز کو بنانے کے عمل میں انسان کو کیا کیا پیچیدگیاں درپیش آئیں اور انسانی عقل نے کیسے ان پیچیدگیوں کو حل کیا، اس کو فی الحال ایک طرف رکھ دیتے ہیں، وگرنہ موضوع بہت طویل ہوجائے گا۔

انسانوں کو جب طاعون، ملیریا، خسرہ جیسی بیماریوں نے گھیرا تو مذہبی سوچ رکھنے والوں نے کہا یہ بیماریاں خدا کی طرف سے ہمارے گناہوں کی سزا ہے، ہمیں توبہ استغفار کرنی چاہئے ۔ دوسری طرف سائنسی اذہان رکھنے والے لوگوں نے کہا نہیں، بیماری کسی نہ کسی وجہ سے ہے، انہوں نے بیماریوں کی وجوہات تلاش کیں، پھر ان کا علاج دریافت کیا اور آج انسان ماضی کی بہت سی بیماریوں سے چھٹکارا پاچکا ہے۔ میڈیکل سائنس میں انسان نے عقل استعمال کرکے وہ وہ "معجزے" کر دکھائے ہیں کہ خود انسانی عقل حیران ہے۔ سٹیم سیل کے ذریعے بیماریوں کا علاج دنوں میں ممکن ہورہا ہے۔ جینیٹک انجینئرنگ کے ذریعے انسانوں اور جانوروں کے خواص کو آپس میں انٹرچینجبلی استعمال کیا جارہا ہے، مستقبل میں انسان جینٹک انجیئرنگ کے ذریعے کیا کیا کرسکے گا یہ ابھی ہماری سوچ سے بھی ماورا ہے۔ حال ہی میں سائنسدانوں نے چوہوں میں دانت گرنے کے بعد نئے دانت اگانے کا کامیاب تجربہ کیا ہے اور اب انسانوں پر یہ تجربہ شروع ہونے والا ہے۔ وہ دن دور نہیں جب انسان کو مصنوعی دانتوں کی ضرورت نہیں رہے گی۔۔

بجلی، انجن، موٹر گاڑیاں، کمپیوٹر، موبائل، انٹرنیٹ، راکٹ ، سپیس سٹیشن اور نہ جانے کیا کیا، یہ سب انسانی عقل کی بدولت ہی ممکن ہوا ہے۔ یہ سب کچھ انہی کی بدولت ممکن ہوا ہے جنہوں نے مذہب کو چھوڑ کر عقل استعمال کرنے کا فیصلہ کیا۔ دوسری طرف مذہبی معاشرے کے لوگ ہیں، وہ بھی تحقیق کررہے ہیں،بڑی عرق ریزی سے تحقیق کررہے ہیں، وہ پچھلے چودہ سو سالوں سے ان صحیفوں میں گھسے ہوئے ہیں جن کو وہ خدا کی طرف سے بھیجا ہوا مانتے ہیں اور آج تک اس میں سے ایک بھی چیز ایسی نکال نہیں سکے جو انسانوں کے کسی کام آسکے۔ انسانی عقل کے اتنے کرشمے دیکھنے باوجود آج بھی وہ اس بات پر مصر ہیں کہ انسانی عقل ناقص ہے اور ہمیں تمام تر رہنمائی مذہب سے لینی چاہئے۔

پھر انہی مذہبی افراد میں ایک طبقہ ایسا ہے جو کہتا ہے کہ مذہب تو آپ کو سوچنے سے نہیں روکتا، عقل استعمال کرنے سے نہیں روکتا۔ کیا واقعی یہ سچ ہے؟ سوچنے کی پہلی شرط سوال کرنا ہے اور سوال کسی بھی قسم کا ہوسکتا ہے۔ مغرب میں سوچنے والوں نے خدا پر سوال اٹھائے ، عقلی بنیادوں پر خدا کا انکار کیا، یہ ان کی اپنی سوچ تھی، کیا مذہبی معاشروں میں یہ ممکن ہے؟ سوچنے والوں نے ان لوگوں پر سوال اٹھائے جنہوں نے خدا کا پیغمبر ہونے کا دعویٰ کیا، کیا مذہبی معاشروں میں یہ ممکن ہے؟ سوچنے والوں نے مذہب کی تعلیمات کو پرکھا، کھنگالا، اس پر سوالات اٹھائے، اس کو ہدفِ تنقید بنایا، کیا مذہب اس کی اجازت دیتا ہے، ہرگز نہیں۔۔۔ کسی بھی معاشرے میں ریشنل تھنکنگ کیلئے ضروری ہے کہ معاشرے کے افراد کو عقل کے استعمال اور سوال اٹھانے کی کھلی اجازت ہو، تبھی اس معاشرے کے افراد اپنا پورا ذہنی پوٹینشنل استعمال کرسکتے ہیں اور معاشرے کو آگے بڑھاسکتے ہیں۔۔۔

بوعلی سینا، فارابی، الرازی وغیرہ یہ وہ چند گوہرِ نایاب ہیں جو پیدا تو مسلم گھرانوں میں ہوئے، مگر انہوں نے عقل کے استعمال کو ترجیح دی، مذہب کو رد کیا۔ انہوں نے عقل کا استعمال کرتے ہوئے جو کارہائے نمایاں سرانجام دیئے وہ آج بھی ان کا نام زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ مسلمان ان کا نام بڑے فخر سے لیتے ہیں، حالانکہ ان کو علم نہیں کہ انہوں نے پیغمبروں کے بارے میں کیا کیا کچھ کہہ رکھا ہے، پیغمبروں کے بارے میں ان کے افکار تو میں یہاں لکھ بھی نہیں سکتا۔ خدا کے بارے میں یہ کہتے تھے کہ خدا کا علم کامل نہیں ہے۔ ان کے انہی افکار کی وجہ سے امام غزالی نے اپنی کتاب میں ان کو کافر قرار دیا۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ جنہوں نے بھی مذہب کی بجائے عقل کا راستہ اپنایا، انہوں نے انسانی علم میں کچھ نہ کچھ اضافہ ہی کیا ہے۔ جبکہ دوسری طرف مذہب والی برادری ہے، آج تک انسانی علم میں رتی برابر اضافہ نہیں کرسکی، نہ انسان کو کچھ ایسا دے سکی، جس سے انسانوں کی زندگی یا معاشرے بہتر ہوتے۔۔
 

atensari

(50k+ posts) بابائے فورم
انسانی علم کا ارتقا روز اول سے جاری ہے. آگ کی افادیت کے ادراک سے پہیہ کی ایجاد تک علم اور عقائد ساتھ ساتھ چلتے رہے. کوئی دو ڈھائی سو برس قبل کی بات ہے بن مانسوں کے بچوں نے علم کو اپنے گھر کی لونڈی سمجھ لیا
 

justunjust

Politcal Worker (100+ posts)
دورِ حاضر میں موٹی موٹی کلاسیفیکشن کریں تو دو قسم کے لوگ کرہ ارض پر بستے ہیں۔ ایک وہ جنہوں نے مذہب کو فرد کی پرسنل چوائس قرار دیا اور یہ فیصلہ کیا کہ وہ عقلی بنیادوں پر اپنی زندگی اور معاشرے کے فیصلے کریں گے۔ دوسری طرف وہ لوگ جنہوں نے کہا انسانی عقل ناقص ہے، ہم سیاست سے لے کر معاشرت اور معیشت تک ہر معاملے میں مذہب سے رہنمائی لیں گے، کسی بھی معاملے میں اپنی عقل کے گھوڑے نہیں دوڑائیں گے۔ اب ذرا پچھلے ڈیڑھ دو سو سال کی ہسٹری کا مطالعہ کریں اور دیکھیں کے سائنسی رویے رکھنے والوں نے اس دنیا کو کیا دیا اور اس کے مقابلے میں مذہب کو فالو کرنے والوں نے دنیا کو کیا دیا۔

مذہب کو ماننے والوں نے جب پرندوں کو ہوا میں اڑتے دیکھا تو انہوں نے کہا یہ خدا کی قدرت سے اڑتے ہیں ، خدا ہی انہیں اڑاتا ہے اور جب یہ مان لیا جائے کہ کوئی کام خدائی ہے تو پھر انسان وہ کام کیسے کرسکتا ہے۔ لہذا اس سے آگے سوچنے کی انہوں نے ہمت ہی نہیں کی۔ دوسری طرف عقل استعمال کرنے والوں نے جب پرندوں کو اڑتے دیکھا تو انہوں نے اس بات کی کھوج لگانے کی کوشش کی کہ آخر یہ کس میکنزم کے تحت اڑتے ہیں۔ عقل کی کاوش رنگ لائی، انسان نے لفٹ کی فورس کو دریافت کرلیا اور ہوا میں اڑنے والے جہاز اور ہیلی کاپٹر بنا ڈالے۔ ایک جہاز کو بنانے کے عمل میں انسان کو کیا کیا پیچیدگیاں درپیش آئیں اور انسانی عقل نے کیسے ان پیچیدگیوں کو حل کیا، اس کو فی الحال ایک طرف رکھ دیتے ہیں، وگرنہ موضوع بہت طویل ہوجائے گا۔

انسانوں کو جب طاعون، ملیریا، خسرہ جیسی بیماریوں نے گھیرا تو مذہبی سوچ رکھنے والوں نے کہا یہ بیماریاں خدا کی طرف سے ہمارے گناہوں کی سزا ہے، ہمیں توبہ استغفار کرنی چاہئے ۔ دوسری طرف سائنسی اذہان رکھنے والے لوگوں نے کہا نہیں، بیماری کسی نہ کسی وجہ سے ہے، انہوں نے بیماریوں کی وجوہات تلاش کیں، پھر ان کا علاج دریافت کیا اور آج انسان ماضی کی بہت سی بیماریوں سے چھٹکارا پاچکا ہے۔ میڈیکل سائنس میں انسان نے عقل استعمال کرکے وہ وہ "معجزے" کر دکھائے ہیں کہ خود انسانی عقل حیران ہے۔ سٹیم سیل کے ذریعے بیماریوں کا علاج دنوں میں ممکن ہورہا ہے۔ جینیٹک انجینئرنگ کے ذریعے انسانوں اور جانوروں کے خواص کو آپس میں انٹرچینجبلی استعمال کیا جارہا ہے، مستقبل میں انسان جینٹک انجیئرنگ کے ذریعے کیا کیا کرسکے گا یہ ابھی ہماری سوچ سے بھی ماورا ہے۔ حال ہی میں سائنسدانوں نے چوہوں میں دانت گرنے کے بعد نئے دانت اگانے کا کامیاب تجربہ کیا ہے اور اب انسانوں پر یہ تجربہ شروع ہونے والا ہے۔ وہ دن دور نہیں جب انسان کو مصنوعی دانتوں کی ضرورت نہیں رہے گی۔۔

بجلی، انجن، موٹر گاڑیاں، کمپیوٹر، موبائل، انٹرنیٹ، راکٹ ، سپیس سٹیشن اور نہ جانے کیا کیا، یہ سب انسانی عقل کی بدولت ہی ممکن ہوا ہے۔ یہ سب کچھ انہی کی بدولت ممکن ہوا ہے جنہوں نے مذہب کو چھوڑ کر عقل استعمال کرنے کا فیصلہ کیا۔ دوسری طرف مذہبی معاشرے کے لوگ ہیں، وہ بھی تحقیق کررہے ہیں،بڑی عرق ریزی سے تحقیق کررہے ہیں، وہ پچھلے چودہ سو سالوں سے ان صحیفوں میں گھسے ہوئے ہیں جن کو وہ خدا کی طرف سے بھیجا ہوا مانتے ہیں اور آج تک اس میں سے ایک بھی چیز ایسی نکال نہیں سکے جو انسانوں کے کسی کام آسکے۔ انسانی عقل کے اتنے کرشمے دیکھنے باوجود آج بھی وہ اس بات پر مصر ہیں کہ انسانی عقل ناقص ہے اور ہمیں تمام تر رہنمائی مذہب سے لینی چاہئے۔

پھر انہی مذہبی افراد میں ایک طبقہ ایسا ہے جو کہتا ہے کہ مذہب تو آپ کو سوچنے سے نہیں روکتا، عقل استعمال کرنے سے نہیں روکتا۔ کیا واقعی یہ سچ ہے؟ سوچنے کی پہلی شرط سوال کرنا ہے اور سوال کسی بھی قسم کا ہوسکتا ہے۔ مغرب میں سوچنے والوں نے خدا پر سوال اٹھائے ، عقلی بنیادوں پر خدا کا انکار کیا، یہ ان کی اپنی سوچ تھی، کیا مذہبی معاشروں میں یہ ممکن ہے؟ سوچنے والوں نے ان لوگوں پر سوال اٹھائے جنہوں نے خدا کا پیغمبر ہونے کا دعویٰ کیا، کیا مذہبی معاشروں میں یہ ممکن ہے؟ سوچنے والوں نے مذہب کی تعلیمات کو پرکھا، کھنگالا، اس پر سوالات اٹھائے، اس کو ہدفِ تنقید بنایا، کیا مذہب اس کی اجازت دیتا ہے، ہرگز نہیں۔۔۔ کسی بھی معاشرے میں ریشنل تھنکنگ کیلئے ضروری ہے کہ معاشرے کے افراد کو عقل کے استعمال اور سوال اٹھانے کی کھلی اجازت ہو، تبھی اس معاشرے کے افراد اپنا پورا ذہنی پوٹینشنل استعمال کرسکتے ہیں اور معاشرے کو آگے بڑھاسکتے ہیں۔۔۔

بوعلی سینا، فارابی، الرازی وغیرہ یہ وہ چند گوہرِ نایاب ہیں جو پیدا تو مسلم گھرانوں میں ہوئے، مگر انہوں نے عقل کے استعمال کو ترجیح دی، مذہب کو رد کیا۔ انہوں نے عقل کا استعمال کرتے ہوئے جو کارہائے نمایاں سرانجام دیئے وہ آج بھی ان کا نام زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ مسلمان ان کا نام بڑے فخر سے لیتے ہیں، حالانکہ ان کو علم نہیں کہ انہوں نے پیغمبروں کے بارے میں کیا کیا کچھ کہہ رکھا ہے، پیغمبروں کے بارے میں ان کے افکار تو میں یہاں لکھ بھی نہیں سکتا۔ خدا کے بارے میں یہ کہتے تھے کہ خدا کا علم کامل نہیں ہے۔ ان کے انہی افکار کی وجہ سے امام غزالی نے اپنی کتاب میں ان کو کافر قرار دیا۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ جنہوں نے بھی مذہب کی بجائے عقل کا راستہ اپنایا، انہوں نے انسانی علم میں کچھ نہ کچھ اضافہ ہی کیا ہے۔ جبکہ دوسری طرف مذہب والی برادری ہے، آج تک انسانی علم میں رتی برابر اضافہ نہیں کرسکی، نہ انسان کو کچھ ایسا دے سکی، جس سے انسانوں کی زندگی یا معاشرے بہتر ہوتے۔۔
قران میں اللہ تعالی خود فرماتا ہے کہ "تم سوچتے کیوں نہیں" اور کہتا ہے "کیا تم عقل نہیں رکھتے" اور اپنی تخلیقات کا ذکر کر کے کہتا ہے تو کیا تم دیکھتے نہیں کہ میں نے انہیں کیسے بنایا۔ یعنی اسلام تو سوچنے سے اور تحقیق کرنے سے نہیں روکتا بلکہ ترغیب دیتا ہے اگر لوگ اپنی جہالت کی وجہ سے تحقیق اور سوچ کے عمل کو نہ اپنائیں تو اس بنیاد پر پورے مذہب کو بیکار نہیں کہا جا سکتا۔
سب سے بڑا سائنس دان بذات خود اللہ ہے جس نے یہ ساری سائنس بنائی سور زمین و آسمانوں کو اپنی نشانیوں سے بھر دیا۔ مغربی سائنس دانوں نے تو محض ان کو دریافت کیا۔ ان سائنس دانوں میں بہت سے خدا کی حقیقت پہ یقین رکھنے والے ہیں۔ اسی طرح دور حاضر میں بھی بہت سے مسلمان سائنس اور ریسرچ میں اپنی خدمات سرانجام دے رہے ہیں لہذا مذہب کو بے کار کہنا مناسب نہیں۔
 

GuyFawkes

Politcal Worker (100+ posts)
دورِ حاضر میں موٹی موٹی کلاسیفیکشن کریں تو دو قسم کے لوگ کرہ ارض پر بستے ہیں۔ ایک وہ جنہوں نے مذہب کو فرد کی پرسنل چوائس قرار دیا اور یہ فیصلہ کیا کہ وہ عقلی بنیادوں پر اپنی زندگی اور معاشرے کے فیصلے کریں گے۔ دوسری طرف وہ لوگ جنہوں نے کہا انسانی عقل ناقص ہے، ہم سیاست سے لے کر معاشرت اور معیشت تک ہر معاملے میں مذہب سے رہنمائی لیں گے، کسی بھی معاملے میں اپنی عقل کے گھوڑے نہیں دوڑائیں گے۔ اب ذرا پچھلے ڈیڑھ دو سو سال کی ہسٹری کا مطالعہ کریں اور دیکھیں کے سائنسی رویے رکھنے والوں نے اس دنیا کو کیا دیا اور اس کے مقابلے میں مذہب کو فالو کرنے والوں نے دنیا کو کیا دیا۔

مذہب کو ماننے والوں نے جب پرندوں کو ہوا میں اڑتے دیکھا تو انہوں نے کہا یہ خدا کی قدرت سے اڑتے ہیں ، خدا ہی انہیں اڑاتا ہے اور جب یہ مان لیا جائے کہ کوئی کام خدائی ہے تو پھر انسان وہ کام کیسے کرسکتا ہے۔ لہذا اس سے آگے سوچنے کی انہوں نے ہمت ہی نہیں کی۔ دوسری طرف عقل استعمال کرنے والوں نے جب پرندوں کو اڑتے دیکھا تو انہوں نے اس بات کی کھوج لگانے کی کوشش کی کہ آخر یہ کس میکنزم کے تحت اڑتے ہیں۔ عقل کی کاوش رنگ لائی، انسان نے لفٹ کی فورس کو دریافت کرلیا اور ہوا میں اڑنے والے جہاز اور ہیلی کاپٹر بنا ڈالے۔ ایک جہاز کو بنانے کے عمل میں انسان کو کیا کیا پیچیدگیاں درپیش آئیں اور انسانی عقل نے کیسے ان پیچیدگیوں کو حل کیا، اس کو فی الحال ایک طرف رکھ دیتے ہیں، وگرنہ موضوع بہت طویل ہوجائے گا۔

انسانوں کو جب طاعون، ملیریا، خسرہ جیسی بیماریوں نے گھیرا تو مذہبی سوچ رکھنے والوں نے کہا یہ بیماریاں خدا کی طرف سے ہمارے گناہوں کی سزا ہے، ہمیں توبہ استغفار کرنی چاہئے ۔ دوسری طرف سائنسی اذہان رکھنے والے لوگوں نے کہا نہیں، بیماری کسی نہ کسی وجہ سے ہے، انہوں نے بیماریوں کی وجوہات تلاش کیں، پھر ان کا علاج دریافت کیا اور آج انسان ماضی کی بہت سی بیماریوں سے چھٹکارا پاچکا ہے۔ میڈیکل سائنس میں انسان نے عقل استعمال کرکے وہ وہ "معجزے" کر دکھائے ہیں کہ خود انسانی عقل حیران ہے۔ سٹیم سیل کے ذریعے بیماریوں کا علاج دنوں میں ممکن ہورہا ہے۔ جینیٹک انجینئرنگ کے ذریعے انسانوں اور جانوروں کے خواص کو آپس میں انٹرچینجبلی استعمال کیا جارہا ہے، مستقبل میں انسان جینٹک انجیئرنگ کے ذریعے کیا کیا کرسکے گا یہ ابھی ہماری سوچ سے بھی ماورا ہے۔ حال ہی میں سائنسدانوں نے چوہوں میں دانت گرنے کے بعد نئے دانت اگانے کا کامیاب تجربہ کیا ہے اور اب انسانوں پر یہ تجربہ شروع ہونے والا ہے۔ وہ دن دور نہیں جب انسان کو مصنوعی دانتوں کی ضرورت نہیں رہے گی۔۔

بجلی، انجن، موٹر گاڑیاں، کمپیوٹر، موبائل، انٹرنیٹ، راکٹ ، سپیس سٹیشن اور نہ جانے کیا کیا، یہ سب انسانی عقل کی بدولت ہی ممکن ہوا ہے۔ یہ سب کچھ انہی کی بدولت ممکن ہوا ہے جنہوں نے مذہب کو چھوڑ کر عقل استعمال کرنے کا فیصلہ کیا۔ دوسری طرف مذہبی معاشرے کے لوگ ہیں، وہ بھی تحقیق کررہے ہیں،بڑی عرق ریزی سے تحقیق کررہے ہیں، وہ پچھلے چودہ سو سالوں سے ان صحیفوں میں گھسے ہوئے ہیں جن کو وہ خدا کی طرف سے بھیجا ہوا مانتے ہیں اور آج تک اس میں سے ایک بھی چیز ایسی نکال نہیں سکے جو انسانوں کے کسی کام آسکے۔ انسانی عقل کے اتنے کرشمے دیکھنے باوجود آج بھی وہ اس بات پر مصر ہیں کہ انسانی عقل ناقص ہے اور ہمیں تمام تر رہنمائی مذہب سے لینی چاہئے۔

پھر انہی مذہبی افراد میں ایک طبقہ ایسا ہے جو کہتا ہے کہ مذہب تو آپ کو سوچنے سے نہیں روکتا، عقل استعمال کرنے سے نہیں روکتا۔ کیا واقعی یہ سچ ہے؟ سوچنے کی پہلی شرط سوال کرنا ہے اور سوال کسی بھی قسم کا ہوسکتا ہے۔ مغرب میں سوچنے والوں نے خدا پر سوال اٹھائے ، عقلی بنیادوں پر خدا کا انکار کیا، یہ ان کی اپنی سوچ تھی، کیا مذہبی معاشروں میں یہ ممکن ہے؟ سوچنے والوں نے ان لوگوں پر سوال اٹھائے جنہوں نے خدا کا پیغمبر ہونے کا دعویٰ کیا، کیا مذہبی معاشروں میں یہ ممکن ہے؟ سوچنے والوں نے مذہب کی تعلیمات کو پرکھا، کھنگالا، اس پر سوالات اٹھائے، اس کو ہدفِ تنقید بنایا، کیا مذہب اس کی اجازت دیتا ہے، ہرگز نہیں۔۔۔ کسی بھی معاشرے میں ریشنل تھنکنگ کیلئے ضروری ہے کہ معاشرے کے افراد کو عقل کے استعمال اور سوال اٹھانے کی کھلی اجازت ہو، تبھی اس معاشرے کے افراد اپنا پورا ذہنی پوٹینشنل استعمال کرسکتے ہیں اور معاشرے کو آگے بڑھاسکتے ہیں۔۔۔

بوعلی سینا، فارابی، الرازی وغیرہ یہ وہ چند گوہرِ نایاب ہیں جو پیدا تو مسلم گھرانوں میں ہوئے، مگر انہوں نے عقل کے استعمال کو ترجیح دی، مذہب کو رد کیا۔ انہوں نے عقل کا استعمال کرتے ہوئے جو کارہائے نمایاں سرانجام دیئے وہ آج بھی ان کا نام زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ مسلمان ان کا نام بڑے فخر سے لیتے ہیں، حالانکہ ان کو علم نہیں کہ انہوں نے پیغمبروں کے بارے میں کیا کیا کچھ کہہ رکھا ہے، پیغمبروں کے بارے میں ان کے افکار تو میں یہاں لکھ بھی نہیں سکتا۔ خدا کے بارے میں یہ کہتے تھے کہ خدا کا علم کامل نہیں ہے۔ ان کے انہی افکار کی وجہ سے امام غزالی نے اپنی کتاب میں ان کو کافر قرار دیا۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ جنہوں نے بھی مذہب کی بجائے عقل کا راستہ اپنایا، انہوں نے انسانی علم میں کچھ نہ کچھ اضافہ ہی کیا ہے۔ جبکہ دوسری طرف مذہب والی برادری ہے، آج تک انسانی علم میں رتی برابر اضافہ نہیں کرسکی، نہ انسان کو کچھ ایسا دے سکی، جس سے انسانوں کی زندگی یا معاشرے بہتر ہوتے۔۔
یہ انتہائی بکواس پوسٹ ہے جو کہ مذہب اور سائنس کو ایک دوسرے کے مدمقابل پیش کر رہی ہے حالانکہ اس کو سائنسی زبان میں فالس ڈائیکاٹومی کہا جاتا ہے اس کا مطلب ہے کہ ایسی چیزوں کا تقابلی جائزہ لینا جن کا آپس میں کوئی مقابلہ ہی نہ ہو اور یہ وہی لوگ کرتے ہیں جن کو نہ مذہب کی سمجھ ہے اور نہ سائنس کی۔ مذہب کا وجود انسانی فطرت کا حصہ ہے جو کہ بار بار انسان کو اپنے ہونے اور اپنے ہونے کی وجہ معلوم کرنے کی طرف دھکیلتا ہے جبکہ سائنس انسان کو اس کے ماحول کو سمجھنے اور کنٹرول کرنے میں مدد دیتی ہے ان دونوں چیزوں کا آپس میں کوئی مقابلہ نہیں انسانی ترقی سائنس کی بدولت ہے لیکن سائنس نے مذہب کو شکست نہیں دی بلکہ بہت ساری تہذیبوں میں سائنس اور مذہب دونوں ساتھ ساتھ چلے. اور یہ دعویٰ کہ سائنس خدا کے نہ ہونے کا دعویٰ ثابت کر چکی ہے یہ بالکل غلط اور خام خیالی بات ہے. وہ ذہنی بیمار اور بے وقوف لوگ جو کہ سائنس اور مذہب کو ایک دوسرے کا متبادل سمجھتے ہیں ان کے مطابق اگر اپ سائنس کو سمجھنا یا استعمال کرنا چاہتے ہیں تو اپ کو مذہب کو چھوڑنا ہوگا جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ان کو نہ مذہب کی سمجھ ہے اور نہ سائنس کی
 

Wake up Pak

President (40k+ posts)
دورِ حاضر میں موٹی موٹی کلاسیفیکشن کریں تو دو قسم کے لوگ کرہ ارض پر بستے ہیں۔ ایک وہ جنہوں نے مذہب کو فرد کی پرسنل چوائس قرار دیا اور یہ فیصلہ کیا کہ وہ عقلی بنیادوں پر اپنی زندگی اور معاشرے کے فیصلے کریں گے۔ دوسری طرف وہ لوگ جنہوں نے کہا انسانی عقل ناقص ہے، ہم سیاست سے لے کر معاشرت اور معیشت تک ہر معاملے میں مذہب سے رہنمائی لیں گے، کسی بھی معاملے میں اپنی عقل کے گھوڑے نہیں دوڑائیں گے۔ اب ذرا پچھلے ڈیڑھ دو سو سال کی ہسٹری کا مطالعہ کریں اور دیکھیں کے سائنسی رویے رکھنے والوں نے اس دنیا کو کیا دیا اور اس کے مقابلے میں مذہب کو فالو کرنے والوں نے دنیا کو کیا دیا۔

مذہب کو ماننے والوں نے جب پرندوں کو ہوا میں اڑتے دیکھا تو انہوں نے کہا یہ خدا کی قدرت سے اڑتے ہیں ، خدا ہی انہیں اڑاتا ہے اور جب یہ مان لیا جائے کہ کوئی کام خدائی ہے تو پھر انسان وہ کام کیسے کرسکتا ہے۔ لہذا اس سے آگے سوچنے کی انہوں نے ہمت ہی نہیں کی۔ دوسری طرف عقل استعمال کرنے والوں نے جب پرندوں کو اڑتے دیکھا تو انہوں نے اس بات کی کھوج لگانے کی کوشش کی کہ آخر یہ کس میکنزم کے تحت اڑتے ہیں۔ عقل کی کاوش رنگ لائی، انسان نے لفٹ کی فورس کو دریافت کرلیا اور ہوا میں اڑنے والے جہاز اور ہیلی کاپٹر بنا ڈالے۔ ایک جہاز کو بنانے کے عمل میں انسان کو کیا کیا پیچیدگیاں درپیش آئیں اور انسانی عقل نے کیسے ان پیچیدگیوں کو حل کیا، اس کو فی الحال ایک طرف رکھ دیتے ہیں، وگرنہ موضوع بہت طویل ہوجائے گا۔

انسانوں کو جب طاعون، ملیریا، خسرہ جیسی بیماریوں نے گھیرا تو مذہبی سوچ رکھنے والوں نے کہا یہ بیماریاں خدا کی طرف سے ہمارے گناہوں کی سزا ہے، ہمیں توبہ استغفار کرنی چاہئے ۔ دوسری طرف سائنسی اذہان رکھنے والے لوگوں نے کہا نہیں، بیماری کسی نہ کسی وجہ سے ہے، انہوں نے بیماریوں کی وجوہات تلاش کیں، پھر ان کا علاج دریافت کیا اور آج انسان ماضی کی بہت سی بیماریوں سے چھٹکارا پاچکا ہے۔ میڈیکل سائنس میں انسان نے عقل استعمال کرکے وہ وہ "معجزے" کر دکھائے ہیں کہ خود انسانی عقل حیران ہے۔ سٹیم سیل کے ذریعے بیماریوں کا علاج دنوں میں ممکن ہورہا ہے۔ جینیٹک انجینئرنگ کے ذریعے انسانوں اور جانوروں کے خواص کو آپس میں انٹرچینجبلی استعمال کیا جارہا ہے، مستقبل میں انسان جینٹک انجیئرنگ کے ذریعے کیا کیا کرسکے گا یہ ابھی ہماری سوچ سے بھی ماورا ہے۔ حال ہی میں سائنسدانوں نے چوہوں میں دانت گرنے کے بعد نئے دانت اگانے کا کامیاب تجربہ کیا ہے اور اب انسانوں پر یہ تجربہ شروع ہونے والا ہے۔ وہ دن دور نہیں جب انسان کو مصنوعی دانتوں کی ضرورت نہیں رہے گی۔۔

بجلی، انجن، موٹر گاڑیاں، کمپیوٹر، موبائل، انٹرنیٹ، راکٹ ، سپیس سٹیشن اور نہ جانے کیا کیا، یہ سب انسانی عقل کی بدولت ہی ممکن ہوا ہے۔ یہ سب کچھ انہی کی بدولت ممکن ہوا ہے جنہوں نے مذہب کو چھوڑ کر عقل استعمال کرنے کا فیصلہ کیا۔ دوسری طرف مذہبی معاشرے کے لوگ ہیں، وہ بھی تحقیق کررہے ہیں،بڑی عرق ریزی سے تحقیق کررہے ہیں، وہ پچھلے چودہ سو سالوں سے ان صحیفوں میں گھسے ہوئے ہیں جن کو وہ خدا کی طرف سے بھیجا ہوا مانتے ہیں اور آج تک اس میں سے ایک بھی چیز ایسی نکال نہیں سکے جو انسانوں کے کسی کام آسکے۔ انسانی عقل کے اتنے کرشمے دیکھنے باوجود آج بھی وہ اس بات پر مصر ہیں کہ انسانی عقل ناقص ہے اور ہمیں تمام تر رہنمائی مذہب سے لینی چاہئے۔

پھر انہی مذہبی افراد میں ایک طبقہ ایسا ہے جو کہتا ہے کہ مذہب تو آپ کو سوچنے سے نہیں روکتا، عقل استعمال کرنے سے نہیں روکتا۔ کیا واقعی یہ سچ ہے؟ سوچنے کی پہلی شرط سوال کرنا ہے اور سوال کسی بھی قسم کا ہوسکتا ہے۔ مغرب میں سوچنے والوں نے خدا پر سوال اٹھائے ، عقلی بنیادوں پر خدا کا انکار کیا، یہ ان کی اپنی سوچ تھی، کیا مذہبی معاشروں میں یہ ممکن ہے؟ سوچنے والوں نے ان لوگوں پر سوال اٹھائے جنہوں نے خدا کا پیغمبر ہونے کا دعویٰ کیا، کیا مذہبی معاشروں میں یہ ممکن ہے؟ سوچنے والوں نے مذہب کی تعلیمات کو پرکھا، کھنگالا، اس پر سوالات اٹھائے، اس کو ہدفِ تنقید بنایا، کیا مذہب اس کی اجازت دیتا ہے، ہرگز نہیں۔۔۔ کسی بھی معاشرے میں ریشنل تھنکنگ کیلئے ضروری ہے کہ معاشرے کے افراد کو عقل کے استعمال اور سوال اٹھانے کی کھلی اجازت ہو، تبھی اس معاشرے کے افراد اپنا پورا ذہنی پوٹینشنل استعمال کرسکتے ہیں اور معاشرے کو آگے بڑھاسکتے ہیں۔۔۔

بوعلی سینا، فارابی، الرازی وغیرہ یہ وہ چند گوہرِ نایاب ہیں جو پیدا تو مسلم گھرانوں میں ہوئے، مگر انہوں نے عقل کے استعمال کو ترجیح دی، مذہب کو رد کیا۔ انہوں نے عقل کا استعمال کرتے ہوئے جو کارہائے نمایاں سرانجام دیئے وہ آج بھی ان کا نام زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ مسلمان ان کا نام بڑے فخر سے لیتے ہیں، حالانکہ ان کو علم نہیں کہ انہوں نے پیغمبروں کے بارے میں کیا کیا کچھ کہہ رکھا ہے، پیغمبروں کے بارے میں ان کے افکار تو میں یہاں لکھ بھی نہیں سکتا۔ خدا کے بارے میں یہ کہتے تھے کہ خدا کا علم کامل نہیں ہے۔ ان کے انہی افکار کی وجہ سے امام غزالی نے اپنی کتاب میں ان کو کافر قرار دیا۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ جنہوں نے بھی مذہب کی بجائے عقل کا راستہ اپنایا، انہوں نے انسانی علم میں کچھ نہ کچھ اضافہ ہی کیا ہے۔ جبکہ دوسری طرف مذہب والی برادری ہے، آج تک انسانی علم میں رتی برابر اضافہ نہیں کرسکی، نہ انسان کو کچھ ایسا دے سکی، جس سے انسانوں کی زندگی یا معاشرے بہتر ہوتے۔۔
Let me clear one thing, Islam is not a "religion" but a way of life, as God does not send his guidance to a specific community. The Quran is a universal message of peace & guidance for humanity.
God has made humans with inbuilt qualities to distinguish between wrong and right, truth and false, etc, The Quran has mentioned several times to use your God-given intellect, sight, hearing, and logic to evaluate, reflect, ponder, and discover the universe and the earth.
Unfortunately, Muslims lagged in the field of science and technology because they were deranged in the "Mazhab" of ignorant Mullahs.
God has not created everything in vain, but for a purpose for mankind to take the most out of it.

Several verses in the Quran encourage mankind to think, reflect, and ponder as there are signs for them. I just posted a couple of them.

3:191 who remember God, standing and sitting and on their sides, and reflect upon the creation of the heavens and the earth: 'Our Lord, Thou hast not created this for vanity. Glory be to Thee! Guard us against the chastisement of the Fire.

(30:22) And of His Signs is the creation of the heavens and the earth and the diversity of your tongues and colors. Indeed there are Signs in this for the wise.

“He (God) subjected to you all that is in the heavens and the earth, all from Himself. There are many signs in this for those who reflect” (45:13).
 

Siberite

Chief Minister (5k+ posts)
دورِ حاضر میں موٹی موٹی کلاسیفیکشن کریں تو دو قسم کے لوگ کرہ ارض پر بستے ہیں۔ ایک وہ جنہوں نے مذہب کو فرد کی پرسنل چوائس قرار دیا اور یہ فیصلہ کیا کہ وہ عقلی بنیادوں پر اپنی زندگی اور معاشرے کے فیصلے کریں گے۔ دوسری طرف وہ لوگ جنہوں نے کہا انسانی عقل ناقص ہے، ہم سیاست سے لے کر معاشرت اور معیشت تک ہر معاملے میں مذہب سے رہنمائی لیں گے، کسی بھی معاملے میں اپنی عقل کے گھوڑے نہیں دوڑائیں گے۔ اب ذرا پچھلے ڈیڑھ دو سو سال کی ہسٹری کا مطالعہ کریں اور دیکھیں کے سائنسی رویے رکھنے والوں نے اس دنیا کو کیا دیا اور اس کے مقابلے میں مذہب کو فالو کرنے والوں نے دنیا کو کیا دیا۔

مذہب کو ماننے والوں نے جب پرندوں کو ہوا میں اڑتے دیکھا تو انہوں نے کہا یہ خدا کی قدرت سے اڑتے ہیں ، خدا ہی انہیں اڑاتا ہے اور جب یہ مان لیا جائے کہ کوئی کام خدائی ہے تو پھر انسان وہ کام کیسے کرسکتا ہے۔ لہذا اس سے آگے سوچنے کی انہوں نے ہمت ہی نہیں کی۔ دوسری طرف عقل استعمال کرنے والوں نے جب پرندوں کو اڑتے دیکھا تو انہوں نے اس بات کی کھوج لگانے کی کوشش کی کہ آخر یہ کس میکنزم کے تحت اڑتے ہیں۔ عقل کی کاوش رنگ لائی، انسان نے لفٹ کی فورس کو دریافت کرلیا اور ہوا میں اڑنے والے جہاز اور ہیلی کاپٹر بنا ڈالے۔ ایک جہاز کو بنانے کے عمل میں انسان کو کیا کیا پیچیدگیاں درپیش آئیں اور انسانی عقل نے کیسے ان پیچیدگیوں کو حل کیا، اس کو فی الحال ایک طرف رکھ دیتے ہیں، وگرنہ موضوع بہت طویل ہوجائے گا۔

انسانوں کو جب طاعون، ملیریا، خسرہ جیسی بیماریوں نے گھیرا تو مذہبی سوچ رکھنے والوں نے کہا یہ بیماریاں خدا کی طرف سے ہمارے گناہوں کی سزا ہے، ہمیں توبہ استغفار کرنی چاہئے ۔ دوسری طرف سائنسی اذہان رکھنے والے لوگوں نے کہا نہیں، بیماری کسی نہ کسی وجہ سے ہے، انہوں نے بیماریوں کی وجوہات تلاش کیں، پھر ان کا علاج دریافت کیا اور آج انسان ماضی کی بہت سی بیماریوں سے چھٹکارا پاچکا ہے۔ میڈیکل سائنس میں انسان نے عقل استعمال کرکے وہ وہ "معجزے" کر دکھائے ہیں کہ خود انسانی عقل حیران ہے۔ سٹیم سیل کے ذریعے بیماریوں کا علاج دنوں میں ممکن ہورہا ہے۔ جینیٹک انجینئرنگ کے ذریعے انسانوں اور جانوروں کے خواص کو آپس میں انٹرچینجبلی استعمال کیا جارہا ہے، مستقبل میں انسان جینٹک انجیئرنگ کے ذریعے کیا کیا کرسکے گا یہ ابھی ہماری سوچ سے بھی ماورا ہے۔ حال ہی میں سائنسدانوں نے چوہوں میں دانت گرنے کے بعد نئے دانت اگانے کا کامیاب تجربہ کیا ہے اور اب انسانوں پر یہ تجربہ شروع ہونے والا ہے۔ وہ دن دور نہیں جب انسان کو مصنوعی دانتوں کی ضرورت نہیں رہے گی۔۔

بجلی، انجن، موٹر گاڑیاں، کمپیوٹر، موبائل، انٹرنیٹ، راکٹ ، سپیس سٹیشن اور نہ جانے کیا کیا، یہ سب انسانی عقل کی بدولت ہی ممکن ہوا ہے۔ یہ سب کچھ انہی کی بدولت ممکن ہوا ہے جنہوں نے مذہب کو چھوڑ کر عقل استعمال کرنے کا فیصلہ کیا۔ دوسری طرف مذہبی معاشرے کے لوگ ہیں، وہ بھی تحقیق کررہے ہیں،بڑی عرق ریزی سے تحقیق کررہے ہیں، وہ پچھلے چودہ سو سالوں سے ان صحیفوں میں گھسے ہوئے ہیں جن کو وہ خدا کی طرف سے بھیجا ہوا مانتے ہیں اور آج تک اس میں سے ایک بھی چیز ایسی نکال نہیں سکے جو انسانوں کے کسی کام آسکے۔ انسانی عقل کے اتنے کرشمے دیکھنے باوجود آج بھی وہ اس بات پر مصر ہیں کہ انسانی عقل ناقص ہے اور ہمیں تمام تر رہنمائی مذہب سے لینی چاہئے۔

پھر انہی مذہبی افراد میں ایک طبقہ ایسا ہے جو کہتا ہے کہ مذہب تو آپ کو سوچنے سے نہیں روکتا، عقل استعمال کرنے سے نہیں روکتا۔ کیا واقعی یہ سچ ہے؟ سوچنے کی پہلی شرط سوال کرنا ہے اور سوال کسی بھی قسم کا ہوسکتا ہے۔ مغرب میں سوچنے والوں نے خدا پر سوال اٹھائے ، عقلی بنیادوں پر خدا کا انکار کیا، یہ ان کی اپنی سوچ تھی، کیا مذہبی معاشروں میں یہ ممکن ہے؟ سوچنے والوں نے ان لوگوں پر سوال اٹھائے جنہوں نے خدا کا پیغمبر ہونے کا دعویٰ کیا، کیا مذہبی معاشروں میں یہ ممکن ہے؟ سوچنے والوں نے مذہب کی تعلیمات کو پرکھا، کھنگالا، اس پر سوالات اٹھائے، اس کو ہدفِ تنقید بنایا، کیا مذہب اس کی اجازت دیتا ہے، ہرگز نہیں۔۔۔ کسی بھی معاشرے میں ریشنل تھنکنگ کیلئے ضروری ہے کہ معاشرے کے افراد کو عقل کے استعمال اور سوال اٹھانے کی کھلی اجازت ہو، تبھی اس معاشرے کے افراد اپنا پورا ذہنی پوٹینشنل استعمال کرسکتے ہیں اور معاشرے کو آگے بڑھاسکتے ہیں۔۔۔

بوعلی سینا، فارابی، الرازی وغیرہ یہ وہ چند گوہرِ نایاب ہیں جو پیدا تو مسلم گھرانوں میں ہوئے، مگر انہوں نے عقل کے استعمال کو ترجیح دی، مذہب کو رد کیا۔ انہوں نے عقل کا استعمال کرتے ہوئے جو کارہائے نمایاں سرانجام دیئے وہ آج بھی ان کا نام زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ مسلمان ان کا نام بڑے فخر سے لیتے ہیں، حالانکہ ان کو علم نہیں کہ انہوں نے پیغمبروں کے بارے میں کیا کیا کچھ کہہ رکھا ہے، پیغمبروں کے بارے میں ان کے افکار تو میں یہاں لکھ بھی نہیں سکتا۔ خدا کے بارے میں یہ کہتے تھے کہ خدا کا علم کامل نہیں ہے۔ ان کے انہی افکار کی وجہ سے امام غزالی نے اپنی کتاب میں ان کو کافر قرار دیا۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ جنہوں نے بھی مذہب کی بجائے عقل کا راستہ اپنایا، انہوں نے انسانی علم میں کچھ نہ کچھ اضافہ ہی کیا ہے۔ جبکہ دوسری طرف مذہب والی برادری ہے، آج تک انسانی علم میں رتی برابر اضافہ نہیں کرسکی، نہ انسان کو کچھ ایسا دے سکی، جس سے انسانوں کی زندگی یا معاشرے بہتر ہوتے۔۔


کیا انسانی ذھن میں سوچنے کی صلاحیت بھی کسی کی مرہون منت ھے یا یہ بھی بناوٹی ارتکاری عمل کا شاخسانہ ھے ؟


کیا غاروں میں رھنے والے انسان کی دماغی ساخت ( حدود و اربع ) اور حالیہ انسان کی دماغی ساخت اور حجم میں کوئ فرق آیا ھے یا ابھی تک وھی سائز اور حجم چل رھا ھے ؟


اگر حجم میں کوئ فرق نہیں آیا تو کیا انسانی دماغی خلیات میں سوچنے کی صلاحیت میں کوئ نمایاں زیادتی ہوئ ھے اور اگر واقعی زیادتی ہوئ ھے تو کیا سائنس اس زیادتی کو ناپ سکتی ھے ؟



 

Siberite

Chief Minister (5k+ posts)
یہ انتہائی بکواس پوسٹ ہے جو کہ مذہب اور سائنس کو ایک دوسرے کے مدمقابل پیش کر رہی ہے حالانکہ اس کو سائنسی زبان میں فالس ڈائیکاٹومی کہا جاتا ہے اس کا مطلب ہے کہ ایسی چیزوں کا تقابلی جائزہ لینا جن کا آپس میں کوئی مقابلہ ہی نہ ہو اور یہ وہی لوگ کرتے ہیں جن کو نہ مذہب کی سمجھ ہے اور نہ سائنس کی۔ مذہب کا وجود انسانی فطرت کا حصہ ہے جو کہ بار بار انسان کو اپنے ہونے اور اپنے ہونے کی وجہ معلوم کرنے کی طرف دھکیلتا ہے جبکہ سائنس انسان کو اس کے ماحول کو سمجھنے اور کنٹرول کرنے میں مدد دیتی ہے ان دونوں چیزوں کا آپس میں کوئی مقابلہ نہیں انسانی ترقی سائنس کی بدولت ہے لیکن سائنس نے مذہب کو شکست نہیں دی بلکہ بہت ساری تہذیبوں میں سائنس اور مذہب دونوں ساتھ ساتھ چلے. اور یہ دعویٰ کہ سائنس خدا کے نہ ہونے کا دعویٰ ثابت کر چکی ہے یہ بالکل غلط اور خام خیالی بات ہے. وہ ذہنی بیمار اور بے وقوف لوگ جو کہ سائنس اور مذہب کو ایک دوسرے کا متبادل سمجھتے ہیں ان کے مطابق اگر اپ سائنس کو سمجھنا یا استعمال کرنا چاہتے ہیں تو اپ کو مذہب کو چھوڑنا ہوگا جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ان کو نہ مذہب کی سمجھ ہے اور نہ سائنس کی



حالانکہ آپ کی بات درست ھے تاھم ، انسان اپنے ارتکا سے آج تک ان سوالات میں اسپگیٹی کی طرح الجھا رھتا ھے ۔ سوالات کا پوچھنا بظاھر سوچ اور فکر کی علامت ھے ، جواب کو اپنے اطمینان کے مطابق پانا ھر فرد کا اپنا انفرادی عمل ھے ۔ ھمارے رب نے فرمایا ھے کہ دین میں کوئ زبردستی نہیں ۔ یہ تو من چلوں کا سودا ھے ۔ مطمیئن روح وھی ھے جو قناعت ، صبر شکر کے ساتھ زندگی کو آگے بڑھاتی ھے ، اور وقت اس کو سب سوالات کا جواب دے دیتا ھے ۔ سورۃ کہف میں خضر کہتے ہیں کہ لاعلمی میں صبر کرنا تقریبا" ناممکن ھے لیکن صرف ان کے لیے جو رب پر ایمان لے آئے ہیں ۔
 

Citizen X

(50k+ posts) بابائے فورم
Sorry can't take anything a lying thieving treacherous supporter of traitors and criminals patwari say's seriously
 
Last edited:

Wake up Pak

President (40k+ posts)
DbtpDFdVwAA2p3h
 

Wake up Pak

President (40k+ posts)
Let me clear one thing, Islam is not a "religion" but a way of life, as God does not send his guidance to a specific community. The Quran is a universal message of peace & guidance for humanity.
God has made humans with inbuilt qualities to distinguish between wrong and right, truth and false, etc, The Quran has mentioned several times to use your God-given intellect, sight, hearing, and logic to evaluate, reflect, ponder, and discover the universe and the earth.
Unfortunately, Muslims lagged in the field of science and technology because they were deranged in the "Mazhab" of ignorant Mullahs.
God has not created everything in vain, but for a purpose for mankind to take the most out of it.
Several verses in the Quran encourage mankind to think, reflect, and ponder as there are signs for them. I just posted a couple of them.


3:191 who remember God, standing and sitting and on their sides, and reflect upon the creation of the heavens and the earth: 'Our Lord, Thou hast not created this for vanity. Glory be to Thee! Guard us against the chastisement of the Fire.

(30:22) And of His Signs is the creation of the heavens and the earth and the diversity of your tongues and colors. Indeed there are Signs in this for the wise.

“He (God) subjected to you all that is in the heavens and the earth, all from Himself. There are many signs in this for those who reflect” (45:13).
 

M_Shameer

MPA (400+ posts)
یہ انتہائی بکواس پوسٹ ہے جو کہ مذہب اور سائنس کو ایک دوسرے کے مدمقابل پیش کر رہی ہے حالانکہ اس کو سائنسی زبان میں فالس ڈائیکاٹومی کہا جاتا ہے اس کا مطلب ہے کہ ایسی چیزوں کا تقابلی جائزہ لینا جن کا آپس میں کوئی مقابلہ ہی نہ ہو اور یہ وہی لوگ کرتے ہیں جن کو نہ مذہب کی سمجھ ہے اور نہ سائنس کی۔ مذہب کا وجود انسانی فطرت کا حصہ ہے جو کہ بار بار انسان کو اپنے ہونے اور اپنے ہونے کی وجہ معلوم کرنے کی طرف دھکیلتا ہے جبکہ سائنس انسان کو اس کے ماحول کو سمجھنے اور کنٹرول کرنے میں مدد دیتی ہے ان دونوں چیزوں کا آپس میں کوئی مقابلہ نہیں انسانی ترقی سائنس کی بدولت ہے لیکن سائنس نے مذہب کو شکست نہیں دی بلکہ بہت ساری تہذیبوں میں سائنس اور مذہب دونوں ساتھ ساتھ چلے. اور یہ دعویٰ کہ سائنس خدا کے نہ ہونے کا دعویٰ ثابت کر چکی ہے یہ بالکل غلط اور خام خیالی بات ہے. وہ ذہنی بیمار اور بے وقوف لوگ جو کہ سائنس اور مذہب کو ایک دوسرے کا متبادل سمجھتے ہیں ان کے مطابق اگر اپ سائنس کو سمجھنا یا استعمال کرنا چاہتے ہیں تو اپ کو مذہب کو چھوڑنا ہوگا جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ان کو نہ مذہب کی سمجھ ہے اور نہ سائنس کی

سائنس اور مذہب تو ہمیشہ سے باہم متصادم رہے ہیں اور یہ تصادم آج بھی جاری ہے۔ وجہ یہ ہے کہ جب سائنس نظمِ کائنات کے بارے میں مذہب کے دیئے گئے فرسودہ نظریات پر ضرب لگاتی ہے تو مذہب کے ماننے والے سائنس کو اپنا دشمن سمجھنے لگتے ہیں۔ جب گلیلیو نے کہا تھا کہ سورج زمین کے گرد نہیں بلکہ زمین سورج کے گرد گھومتی ہے تو یہ نظریہ بائبل کے نظریے سے متصادم تھا۔ مذہب کے ماننے والوں نے اس کو پکڑ کر کٹہرے میں کھڑا کرلیا اور کہا کہ اپنے کفریہ نظریات سے توبہ کرو ورنہ ہم تمہیں سزا دیں گے۔ گلیلیو نے وقتی طور پر توبہ کرلی اور اپنے افکار لپیٹ لئے، مگر کچھ عرصے بعد پھر اس نے اپنے سائنسی نظریات کا پرچار کیا تو اس کو مرتے دم تک قید میں رکھا گیا۔

جب چارلس ڈارون نے نظریہ ارتقاء اور نیچرل سیلیکشن کی تھیوری پیش کی تو یہ سیدھا سیدھا ابراہیمی مذاہب کے نظریہ تخلیق کو جھٹلاتا تھا۔ اس لئے مذہبی طبقے کی طرف سے چارلس ڈارون کی سخت مخالفت کی گئی۔ پاکستان جیسے ملکوں میں تو آج بھی نظریہ ارتقاء کو غلط سمجھا جاتا ہے، کیونکہ مذہب نے اس کے مقابل تخلیق کا نظریہ دے رکھا ہے۔

اگر مذہب اپنی ڈومین میں رہے اور نظامِ کائنات کی وضاحت کرنے میں ٹانگ نہ اڑائے تو شاید سائنس اور مذہب میں تصادم نہ ہو۔ مذہب نے زلزلے اور سورج گرہن کے بارے میں جو اوٹ پٹانگ تھیوریز دے رکھی ہیں ان کو جب سائنس جھٹلاتی ہے تب سائنس اور مذہب کا تصادم ہوتا ہے۔ مذہب ایجاد کرنے والے اگر مذہب کو وجودی و اخلاقی سوالات تک محدود رکھتے، مثلاً زندگی کیا ہے، مرنے کے بعد کیا ہوگا، اچھائی، برائی کیا ہے تو شاید سائنس اور مذہب کا اتنا تصادم نہ ہوتا، مگر مذہب اپنی ڈومین سے نکل کر سائنس کی ڈومین میں گھس گیا، تصادم تو ہونا ہی تھا۔

 

M_Shameer

MPA (400+ posts)
اور یہ دعویٰ کہ سائنس خدا کے نہ ہونے کا دعویٰ ثابت کر چکی ہے یہ بالکل غلط اور خام خیالی بات ہے.

میں نے کب کہا کہ سائنس خدا کے نہ ہونے کو ثابت کرچکی ہے؟
 

M_Shameer

MPA (400+ posts)
Let me clear one thing, Islam is not a "religion" but a way of life, as God does not send his guidance to a specific community. The Quran is a universal message of peace & guidance for humanity.
God has made humans with inbuilt qualities to distinguish between wrong and right, truth and false, etc, The Quran has mentioned several times to use your God-given intellect, sight, hearing, and logic to evaluate, reflect, ponder, and discover the universe and the earth.
Unfortunately, Muslims lagged in the field of science and technology because they were deranged in the "Mazhab" of ignorant Mullahs.
God has not created everything in vain, but for a purpose for mankind to take the most out of it.

Several verses in the Quran encourage mankind to think, reflect, and ponder as there are signs for them. I just posted a couple of them.

3:191 who remember God, standing and sitting and on their sides, and reflect upon the creation of the heavens and the earth: 'Our Lord, Thou hast not created this for vanity. Glory be to Thee! Guard us against the chastisement of the Fire.

(30:22) And of His Signs is the creation of the heavens and the earth and the diversity of your tongues and colors. Indeed there are Signs in this for the wise.

“He (God) subjected to you all that is in the heavens and the earth, all from Himself. There are many signs in this for those who reflect” (45:13).

ذہن کی آزادی سوال سے شروع ہوتی ہے، انسان اپنے وجود کے بارے میں سوچتا ہے، کائنات کے بارے میں سوچتا ہے اور سوال اٹھاتا ہے، فرض کریں اس کو مذہب کے دیئے گئے جوابات مطمئن نہیں کرتے تو کیا اسلام آزادی دیتا ہے کہ وہ اسلام کو رد کردے۔ ہرگز نہیں۔ آپ احادیث کو نہیں مانتے، مگر احادیث میں واضح حکم ہے کہ جو اسلام چھوڑے اسے قتل کردو۔

 

Wake up Pak

President (40k+ posts)
ذہن کی آزادی سوال سے شروع ہوتی ہے، انسان اپنے وجود کے بارے میں سوچتا ہے، کائنات کے بارے میں سوچتا ہے اور سوال اٹھاتا ہے، فرض کریں اس کو مذہب کے دیئے گئے جوابات مطمئن نہیں کرتے تو کیا اسلام آزادی دیتا ہے کہ وہ اسلام کو رد کردے۔ ہرگز نہیں۔ آپ احادیث کو نہیں مانتے، مگر احادیث میں واضح حکم ہے کہ جو اسلام چھوڑے اسے قتل کردو۔

Agar koi Islam ko chorna chahta hay tou choor daay Quran may saaf alfaz may kaha hay kay "La Ikraha Fideen" Let there be no compulsion in Deen. her bunda azad hay.
Hadith nay he tou bohat say logoon ko gumrah kiya hay issi liyay loog Islam choor rahay hain ya iss per sawal utha rahay hain.
 

M_Shameer

MPA (400+ posts)

کیا انسانی ذھن میں سوچنے کی صلاحیت بھی کسی کی مرہون منت ھے یا یہ بھی بناوٹی ارتکاری عمل کا شاخسانہ ھے ؟


کیا غاروں میں رھنے والے انسان کی دماغی ساخت ( حدود و اربع ) اور حالیہ انسان کی دماغی ساخت اور حجم میں کوئ فرق آیا ھے یا ابھی تک وھی سائز اور حجم چل رھا ھے ؟


اگر حجم میں کوئ فرق نہیں آیا تو کیا انسانی دماغی خلیات میں سوچنے کی صلاحیت میں کوئ نمایاں زیادتی ہوئ ھے اور اگر واقعی زیادتی ہوئ ھے تو کیا سائنس اس زیادتی کو ناپ سکتی ھے ؟



میں سمجھا نہیں بناوٹی ارتقائی عمل سے آپ کی کیا مراد ہے؟ کیا آپ خودکار ارتقائی عمل کہنا چاہتے ہیں؟ جہاں تک انسانی شعور کی بات ہے تو یہ کائنات کی پیچیدہ ترین چیز ہے، سوچنے کا عمل جانوروں کے دماغ میں بھی پایا جاتا ہے، مگر انسانی سوچ ، انسانی شعور منفرد ہے اور یہ یقیناً طویل ارتقائی سفرکے ذریعے ہی اس درجے تک پہنچا ہے ۔ میری نظر میں ارتقاء اور لائف دونوں کو ڈیزائن کرنے والا کوئی ہے، کوئی قوت، کوئی انٹیلجی جنٹ پاور۔ مگر مذہب نے جس "پتلے" کو خدا بنا کر اس انٹیلجنٹ ڈیزائنر کا خلا پر کرنے کی کوشش کی ہے، وہ تو سراسر فراڈ ہے۔

جہاں تک آپ کے موخرالذکر سوالوں کا تعلق ہے تو انسانی دماغ میں سوچنے کی صلاحیت میں کمی ہوئی ہے یا زیادتی ہوئی ہے اس بارے تو کچھ نہیں کہا جاسکتا، ہاں مگر یہ ضرور کہہ سکتا ہوں کہ مذہبی معاشروں کے لوگ اپنی دماغی صلاحیتوں کو مذہب کے دائرے کے اندر اندر رہ کر استعمال کرتے ہیں، یعنی دماغ کو قید رکھتے ہیں، دماغ کی پرواز کو آزاد نہیں چھوڑتے۔ جبکہ غیر مذہبی معاشرے کے لوگ دماغ کی پرواز کو آزاد چھوڑتے ہیں، نتیجتاً ان کی سوچ آسمانوں کو چھو جاتی ہے، وہ دنیا کو نئے علوم دیتے ہیں، جبکہ مذہبی معاشروں کے لوگوں کی سوچ پنجرے میں بند پرندوں کی طرح محرومِ پرواز رہتی ہے۔۔۔