آئندہ بجٹ کا حجم 16500 ارب روپے مقرر کیے جانیکا امکان

4budgetksjksjanmsnhs.png

وفاق کی جانب سے آئندہ مالی سال 2024-25 کے بجٹ کا حجم 16500ارب روپے مقرر کئے جانے کا امکان ہے,وفاقی حکومت کی جانب سے آئندہ مالی سال 2024-25 کے بجٹ کا حجم 16500ارب روپے جبکہ مالیاتی خسارے کا ہدف 9000 ارب روپے اور ٹیکس وصولیوں کا ہدف گیارہ ہزار ارب روپے مقرر کئے جانے کا امکان ہے۔

وزارت خزانہ ذرائع کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان آئندہ مالی سال 2024-25کے اہم اہداف پر اصولی اتفاق ہوا ہے تاہم اہداف کو حتمی شکل بجٹ سازی کے موقع پر دی جائے گی۔

ذرائع کے مطابق پاکستان میں موجود آئی ایم ایف کی ٹیکنیکل ٹیم کے ساتھ پیر سے مذاکرات کے دوسرے مرحلے کا اغاز ہونے جارہا ہے اور نگران وزیر خزانہ ڈاکٹر شمشماد اختر بیرون ملک دورے سے واپسی پر اگلے ہفتے آئی ایم ایف ٹیم کے ساتھ اجلاس کریں گی جس میں آئی ایم ایف ٹیکنیکل ٹیم کی سفارشات کا جائزہ لیا جائے گا۔

اسپیشل سیکریٹری ہیلتھ سید وقار الحسن کا کہنا ہے کہ وفاقی وزارتِ صحت کو اس سال حکومت سے 52 فیصد کم فنڈز ملے، بجٹ بڑھائے بغیر اسپتالوں اور صحت کے مراکز پر چھاپوں سے بہتری نہیں آئی گی۔

سید وقارالحسن نے سینیٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی میں اپنے بیان میں کہا ہے کہ 48 ارب کے مطالبے پر صرف 23 ارب روپے ملے, وفاقی اسپتالوں کو چلانے کے لیے ضرورت سے 11 ارب روپے کم ملے، موجودہ صحت کا بجٹ صرف تنخواہوں اور ضروری اخراجات میں ختم ہو جاتا ہے۔

اسپیشل سیکریٹری ہیلتھ نے کہا کہ سڑکوں اور پلوں کے ساتھ ساتھ صحت اور تعلیم کا بجٹ بھی بڑھانے کی ضرورت ہے,سینیٹر دلاور خان نے سید وقارالحسن کا بیان سننے کے بعد کہا کہ آج تک وزارتِ صحت کے کسی افسر نے اس طرح مسائل کی نشاندہی نہیں کی, وزارتِ صحت کے لیے صحت کا بجٹ بڑھانے کے لیے آواز اٹھائیں گے۔