Poetry and Music for the Tired Minds

MirzaGhalib

Citizen

حسرتوں کا موسم ہے
پھر بھی سوچ رکھا ہے
تم سے اب نہیں ملنا

نامعلوم

 

MirzaGhalib

Citizen
ایسا نہ ہو یہ درد بنے درد لا دوا
ایسا نہ ہو کہ تم بھی مداوا نہ کر سکو

( صوفی تبسسم )
 
Last edited:

MirzaGhalib

Citizen
ابھی کچھ دیر میں مُحسن وہ پتھر ٹُوٹ جاۓ گا
میں اُس کی سرد مُہری پر مُحبت مار آیا هُوں.

 

MirzaGhalib

Citizen
کسی کی انکھ جو پر نم نہیں ہے
نہ سمجھو یہ کہ اس کو غم نہیں ہے

کنارہ دوسرا دریا کا جیسے
وہ ساتھ ہے مگر محرم نہیں ہے


(امجد اسلام امجد)
 

MirzaGhalib

Citizen
موسم تھا بےقرار تمھیں سوچتے رہے

کل رات بار بار تمھیں سوچتے رہے

بارش ہوئی تو گھر کے دریچے سے لگ کے ہم

چُپ چاپ سوگوار تمھیں سوچتے رہے

فرحت عباس
 

MirzaGhalib

Citizen
خاموش لب ہیں جھکی ہیں پلکیں دلوں میں اُلفت نئی نئی ہے
ابھی تکلف ہے گفتگو میں ابھی محبت نئی نئی ہے
ابھی نہ آئے گی نیند تم کو ابھی نہ ہم کو سکوں ملے گا
ابھی تو دھڑکے گا دل زیادہ ابھی یہ چاہت نئی نئی ہے
بہار کا آج پہلا دن ہے چلوچمن میں ٹہل کے آئیں
فضا میں خوشبو نئی نئی ہے گلوں میں رنگت نئی نئی ہے
جو خاندانی رئیس ہیں وہ مزاج رکھتے ہیں نرم اپنا
تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے
ذرا سا قدرت نے کیا نوازا کہ آ کے بیٹھے ہو پہلی صف میں
ابھی سے اڑنے لگے ہوا میں ابھی تو شہرت نئی نئی ہے

(شبینہ)

 
Sponsored Link

Featured Discussions