کورونا کے خلاف جنگ: مغرب ایشیا سے بہت کچھ سیکھ سکتا ہے

atensari

Prime Minister (20k+ posts)

کورونا کے خلاف جنگ میں مغرب ایشیا سے کیا سیکھ سکتا ہے؟

مغربی ممالک میں کورونا وائرس کے کیسز میں انتہائی تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اور کئی ممالک نے لاک ڈاؤن اور سکولوں کی بندش سمیت دیگر کڑے اقدامات کا اعلان کیا ہے۔

اس وبا نے کئی ہفتے قبل ایشیا کے کئی ممالک کو نشانہ بنایا تھا۔ چند ایشیائی ممالک کی کورونا پر قابو پانے کے حوالے سے تعریف بھی کی جا رہی ہے۔

مثال کے طور پر سنگاپور، ہانگ کانگ اور تائیوان نے چین سے اپنی زمینی قربت کے باوجود کیسز کی تعداد کو نسبتاً کم رکھا ہے۔

آخر ان ممالک نے ایسا کیا کیا اور کیا اس میں دیگر ممالک کے لیے کوئی سبق موجود ہے؟

پہلا سبق: اسے سنجیدگی سے لیں اور فوری اقدامات کریں

طبی ماہرین کا ایسی وبا کو روکنے کے طریقوں پر اتفاق پایا جاتا ہے: جن میں وسیع پیمانے پر ٹیسٹ، متاثرہ افراد کو علیحدہ کرنا اور سماجی دوری کی حوصلہ افزائی کرنا شامل ہیں۔ مغرب میں اب اس طرح کے اقدامات پر مختلف انداز میں عمل کیا جا رہا ہے مگر اہم بات یہ ہے کہ زیادہ تر ممالک نے اتنی جلد عمل نہیں کیا جتنا کرنا چاہیے تھا۔

عالمی ادارہ صحت میں ریسرچ پالیسی کے سابق ڈائریکٹر ٹکی پنگیستو کہتے ہیں کہ 'امریکہ اور برطانیہ نے موقع گنوا دیا۔ ان کے پاس چین کو دیکھتے ہوئے دو ماہ تھے، مگر اس کے باوجود وہ یہ سوچتے رہے کہ 'چین بہت دور ہے اور انھیں کچھ نہیں ہو گا۔‘

چین نے 31 دسمبر کو عالمی ادارہ صحت کو ’سارس جیسے پراسرار نمونیا‘ کے کیسز کی اطلاع دی تھی۔ اس وقت تک اس کے انسان سے انسان میں منتقل ہونے کا کوئی مصدقہ کیس موجود نہیں تھا۔ وائرس کے حوالے سے بھی کم ہی معلومات دستیاب تھیں مگر تین دن کے اندر اندر سنگاپور، تائیوان اور ہانگ کانگ نے تمام سرحدی پوائنٹس پر سکریننگ میں اضافہ کر دیا۔ تائیوان نے تو ووہان سے آنے والی پروازوں میں لوگوں کے طیارے سے اترنے سے پہلے ہی سکریننگ شروع کر دی۔

جیسے جیسے سائنسدانوں نے وائرس کے بارے میں مزید جانا تو یہ واضح ہو گیا کہ وہ لوگ بھی انفیکشن پھیلانے کا سبب بن سکتے ہیں جن میں علامات ظاہر نہیں ہوتیں، چنانچہ ٹیسٹنگ اہم قرار پائی۔
دوسرا سبق: ٹیسٹوں کی قیمت میں کمی اور وسیع پیمانے پر انتظام

جنوبی کوریا میں ابتدائی طور پر کورونا وائرس کے کیسز میں اضافہ ہوا مگر اس نے فوراً ہی وائرس کے لیے ایک ٹیسٹ تیار کر لیا جس کے ذریعے اب تک دو لاکھ 90 ہزار لوگوں کا ٹیسٹ کیا جا چکا ہے۔ وہاں روزانہ تقریبا دس ہزار ٹیسٹ مفت کیے جاتے ہیں۔

نیشنل یونیورسٹی آف سنگاپور میں نئے انفیکشنز کے ماہر پروفیسر اووئی اینگ ایئونگ کہتے ہیں کہ ’جس طرح انھوں نے سخت اقدامات کیے اور عوام کی سکریننگ کی، وہ نہایت متاثر کُن تھا۔‘

جنوبی کوریا میں انفیکشن پھیلانے والی بیماریوں کے ٹیسٹ کرنے کے لیے ایک نظام پہلے سے موجود تھا جسے سنہ 2015 میں 35 لوگوں کی جان لینے والی بیماری مڈل ایسٹ ریسپائریٹری سنڈروم (مرس) کے پھیلاؤ کے بعد قائم کیا گیا تھا۔

اس کے برعکس امریکہ میں ٹیسٹنگ میں تاخیر کی گئی۔ ابتدائی ٹیسٹنگ کٹس میں نقائص تھے اور نجی لیبارٹریوں کے لیے اپنے ٹیسٹ منظور کروانا مشکل تھا۔ کئی لوگ ٹیسٹ کروانے کی جدوجہد کرتے رہے، پر وہ بہت مہنگے تھے۔ بالآخر ہر کسی کے لیے مفت ٹیسٹنگ کا قانون پاس کر دیا گیا۔

اس دوران برطانیہ نے کہا ہے کہ صرف ہسپتالوں میں داخل افراد کا ہی باقاعدگی سے ٹیسٹ کیا جائے گا، جس سے کم علامات رکھنے والے افراد کے کیسز کی نشاندہی کرنا مشکل ہو گیا۔

پروفیسر پنگیستو تسلیم کرتے ہیں کہ کچھ ممالک میں ٹیسٹنگ کٹس وافر تعداد میں موجود نہیں۔ مگر وہ وسیع پیمانے پر ٹیسٹنگ کو ’سب سے اہم ترجیح‘ قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’جن لوگوں میں علامات ہیں مگر وہ ہسپتالوں میں داخل نہیں اور ابھی تک وائرس پھیلا رہے ہیں، ان کی ٹیسٹنگ کرنا اور بھی زیادہ اہم ہے۔‘
تیسرا سبق: نشاندہی کریں اور علیحدہ کریں

صرف ان لوگوں کی ٹیسٹنگ کرنا کافی نہیں ہے جن لوگوں میں علامات ہوں، بلکہ یہ بھی اہم ہے کہ ان لوگوں کی نشاندہی کی جائے جن سے وہ ملاقات کرتے رہے ہیں۔

سنگاپور میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ایسے 6000 افراد کا پتا چلایا ہے۔ انھیں سی سی ٹی وی فوٹیجز کی مدد سے ڈھونڈا گیا، ان کے ٹیسٹ کیے گئے اور انھیں خود کو تنہائی میں رکھنے کا حکم دیا گیا تب تک کہ جب تک ان کے نتائج منفی نہ آ جائیں۔ ہانگ کانگ میں کسی شخص میں علامات ظاہر ہونے سے دو دن قبل تک جتنے بھی لوگوں نے متاثرہ شخص سے ملاقات کی ہو ان کا پتا چلایا جا رہا ہے۔

انھوں نےایسے اقدامات اپنائے ہیں جن سے خود ساختہ تنہائی میں رہنے والے افراد کے بارے میں یقینی بنایا جا سکے کہ وہ اپنے اپنے گھروں پر ہیں۔

ہانگ کانگ میں بیرونِ ملک سے آنے والوں کو اپنی نقل و حرکت سے حکام کو آگاہ رکھنے کے لیے برقی کڑے پہننے کا کہا گیا ہے۔ جبکہ سنگاپور میں خود ساختہ تنہائی اپنانے والوں کو روزانہ کئی مرتبہ رابطہ کیا جاتا ہے اور ان سے اپنی علاقے میں موجودگی کا ثبوت دینے کے لیے تصویریں بھیجنی ہوتی ہیں۔

سنگاپور میں ’گھر پر رکنے‘ کے احکامات کی خلاف ورزی کرنے والوں پر بھاری جرمانے اور قید کی سزائیں عائد کی جا رہی ہیں۔ خلاف ورزی کرنے والے ایک شخص کی سنگاپور میں مستقل رہائش منسوخ کر دی گئی ہے۔

کئی مغربی ممالک کو اپنی بڑی آبادیوں اور زیادہ شہری آزادیوں کی وجہ سے ایسے اقدامات کے نفاذ میں مشکل ہو سکتی ہے۔

پروفیسر اووئی کہتے ہیں کہ ’ہم نے جو کچھ کیا وہ اس لیے کر سکے کیونکہ ہم ایک چھوٹا ملک ہیں۔ ہمارے اقدامات کو مکمل طور پر نقل کرنا ناقابلِ فہم ہو گا، اسے ہر ملک کے حساب سے اپنانا ہو گا۔‘
چوتھا سبق: فوری طور پر سماجی دوری

وبا پر قابو پانے کے لیے سوشل ڈسٹینسنگ یعنی سماجی دوری کو بہترین طریقوں میں سے ایک تصور کیا جاتا ہے۔

پانچواں سبق: عوام کو آگاہ اور اپنے ساتھ رکھیں


 
Advertisement
Last edited by a moderator:
Sponsored Link

Latest Blogs Featured Discussion اردوخبریں