کراچی کا گرین لائن بس منصوبہ غلط بنا ہے،حافظ نعیم

15afiznaeemm.jpg

جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے گرین لائن منصوبے کی مخالفت کردی ہے۔

تفصیلات کے مطابق کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ کراچی کے ساتھ وفاق اور سندھ حکومت ظالمانہ سلوک کررہی ہے ،انہوں نے کہا کہ جس شہر کو روزانہ چار سے پانچ ہزار بسوں کی ضرورت ہے 14 سال میں سندھ حکومت نے شہر کو صرف 10 بسیں دی ہیں اور وہ بھی سڑکوں پر نظر نہیں آتی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ 6،7 سال پہلے سے وفاقی حکومت کی جانب سے دو سو گرین بسوں کا معاہدہ تھا جسے لٹکایا گیا کبھی کہا گیا صوبہ دے گا کبھی کہا گیا وفاق دے گا ، خیر ان دو سو بسوں میں سے 40 ،40 کرکے 80 بسیں شہر میں پہنچی ہیں مگر وہ بھی پوری نہیں چل رہی ہیں۔


حافظ نعیم الرحمان نے مزید کہا کہ بسوں کی کمی کی وجہ سے گرین لائن کے اسٹاپوں پر رش کی وجہ سے ایک انارکی کی سی کیفیت ہوتی ہے، چونکہ یہ منصوبہ غلط طریقے ، غلط پلاننگ سے بنایا گیا اس کے نتیجے میں 22،23 لاکھ سفر کرنےو الے روٹ پر وہاں 8 سے 10 ہزار لوگوں کو سہولت فراہم کردی گئی ہے۔

رہنما جماعت اسلامی نے کہا کہ سہولت بھی ملی تو ادھوری یعنی جس مسافر کو ٹاور تک جانا ہو اسے نمائش پر اترنا پڑے گا، اور پھر دوبارہ سے سواری لینا پڑی گی ، اسی طرح منزل مقصود پر پہنچنا ہے تو کیا فائدہ ہوا ایسے منصوبے کا؟
 
Advertisement

Zainsha

Chief Minister (5k+ posts)
Premium Member
رہنما جماعت اسلامی نے کہا کہ سہولت بھی ملی تو ادھوری یعنی جس مسافر کو ٹاور تک جانا ہو اسے نمائش پر اترنا پڑے گا، اور پھر دوبارہ سے سواری لینا پڑی گی ، اسی طرح منزل مقصود پر پہنچنا ہے تو کیا فائدہ ہوا ایسے منصوبے کا؟

ذرا کنجر کا اعتراض ملاحظہ فرمائیں۔۔

اگر ٹاور تک بناتے تو کہتا کہ جس مسافر کو کیماڑی جانا ہو اسے ٹاور سے دوسری سواری لینی پڑے گی۔۔

کنجر کے بچو نام اسلام کا لیتے ہو اور ہر وہ بکواس کرتے ہو جو دوسرے چور کرتے ہیں۔۔
 

Terminator;

Minister (2k+ posts)
گرین بس کا سارا عملہ جماعتیوں پر مشتمل ہوتا،، تو اِس میں طہارت، اور پاکیزگی کا عنصر شامل ہو جاتا
اور ہر قسم کی "منافقت" سے آزاد رہتے ۔ ۔ ۔ ۔حافظ نعیم
 

Okara

Prime Minister (20k+ posts)
رہنما جماعت اسلامی نے کہا کہ سہولت بھی ملی تو ادھوری یعنی جس مسافر کو ٹاور تک جانا ہو اسے نمائش پر اترنا پڑے گا، اور پھر دوبارہ سے سواری لینا پڑی گی ، اسی طرح منزل مقصود پر پہنچنا ہے تو کیا فائدہ ہوا ایسے منصوبے کا؟

ذرا کنجر کا اعتراض ملاحظہ فرمائیں۔۔

اگر ٹاور تک بناتے تو کہتا کہ جس مسافر کو کیماڑی جانا ہو اسے ٹاور سے دوسری سواری لینی پڑے گی۔۔

کنجر کے بچو نام اسلام کا لیتے ہو اور ہر وہ بکواس کرتے ہو جو دوسرے چور کرتے ہیں۔۔
We must be thankful to Sirajul Haq to destroy this Munafiq Party single handedly. For me JI is a BJP of Pakistan but Pakistani are not stupid like Indian
 

Curious_Mind

Senator (1k+ posts)
15afiznaeemm.jpg

جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے گرین لائن منصوبے کی مخالفت کردی ہے۔

تفصیلات کے مطابق کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ کراچی کے ساتھ وفاق اور سندھ حکومت ظالمانہ سلوک کررہی ہے ،انہوں نے کہا کہ جس شہر کو روزانہ چار سے پانچ ہزار بسوں کی ضرورت ہے 14 سال میں سندھ حکومت نے شہر کو صرف 10 بسیں دی ہیں اور وہ بھی سڑکوں پر نظر نہیں آتی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ 6،7 سال پہلے سے وفاقی حکومت کی جانب سے دو سو گرین بسوں کا معاہدہ تھا جسے لٹکایا گیا کبھی کہا گیا صوبہ دے گا کبھی کہا گیا وفاق دے گا ، خیر ان دو سو بسوں میں سے 40 ،40 کرکے 80 بسیں شہر میں پہنچی ہیں مگر وہ بھی پوری نہیں چل رہی ہیں۔


حافظ نعیم الرحمان نے مزید کہا کہ بسوں کی کمی کی وجہ سے گرین لائن کے اسٹاپوں پر رش کی وجہ سے ایک انارکی کی سی کیفیت ہوتی ہے، چونکہ یہ منصوبہ غلط طریقے ، غلط پلاننگ سے بنایا گیا اس کے نتیجے میں 22،23 لاکھ سفر کرنےو الے روٹ پر وہاں 8 سے 10 ہزار لوگوں کو سہولت فراہم کردی گئی ہے۔

رہنما جماعت اسلامی نے کہا کہ سہولت بھی ملی تو ادھوری یعنی جس مسافر کو ٹاور تک جانا ہو اسے نمائش پر اترنا پڑے گا، اور پھر دوبارہ سے سواری لینا پڑی گی ، اسی طرح منزل مقصود پر پہنچنا ہے تو کیا فائدہ ہوا ایسے منصوبے کا؟
جماعتی ہو اور مُنافق نہ ہو۔
ایسا کیسے ہو سکتا ہے؟

ان کے حساب سے تو پاکستان بھی غلط بنا تھا
 

HSiddiqui

Chief Minister (5k+ posts)
15afiznaeemm.jpg

جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے گرین لائن منصوبے کی مخالفت کردی ہے۔

تفصیلات کے مطابق کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ کراچی کے ساتھ وفاق اور سندھ حکومت ظالمانہ سلوک کررہی ہے ،انہوں نے کہا کہ جس شہر کو روزانہ چار سے پانچ ہزار بسوں کی ضرورت ہے 14 سال میں سندھ حکومت نے شہر کو صرف 10 بسیں دی ہیں اور وہ بھی سڑکوں پر نظر نہیں آتی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ 6،7 سال پہلے سے وفاقی حکومت کی جانب سے دو سو گرین بسوں کا معاہدہ تھا جسے لٹکایا گیا کبھی کہا گیا صوبہ دے گا کبھی کہا گیا وفاق دے گا ، خیر ان دو سو بسوں میں سے 40 ،40 کرکے 80 بسیں شہر میں پہنچی ہیں مگر وہ بھی پوری نہیں چل رہی ہیں۔


حافظ نعیم الرحمان نے مزید کہا کہ بسوں کی کمی کی وجہ سے گرین لائن کے اسٹاپوں پر رش کی وجہ سے ایک انارکی کی سی کیفیت ہوتی ہے، چونکہ یہ منصوبہ غلط طریقے ، غلط پلاننگ سے بنایا گیا اس کے نتیجے میں 22،23 لاکھ سفر کرنےو الے روٹ پر وہاں 8 سے 10 ہزار لوگوں کو سہولت فراہم کردی گئی ہے۔

رہنما جماعت اسلامی نے کہا کہ سہولت بھی ملی تو ادھوری یعنی جس مسافر کو ٹاور تک جانا ہو اسے نمائش پر اترنا پڑے گا، اور پھر دوبارہ سے سواری لینا پڑی گی ، اسی طرح منزل مقصود پر پہنچنا ہے تو کیا فائدہ ہوا ایسے منصوبے کا؟
What a loser, I will not blame this person and his loser party, who just picked some favor for standing for Karachities, but I knew they will not be able to swallow this honor and will reflect in some way that will expose their actual intent. To gain power. If he is speaking in favor of Karachi and its lost or overdue facilities, Green Line was one of the best projects, the most required one for Karachi, and everyone is happy in having it.
 

Ayaz Ahmed

MPA (400+ posts)
منافق اور بے شرم تو وہ ہیں جو میٹرو لاہور، ملتان اور پنڈی کو جنگلا بس کہتے نہیں تھکتے تھے اور پھر پشاور میں وہی کام کیا اور اب کراچی میں جس گرین بس کا کریڈٹ سندھ اور وفاق لےرہے ہیں وہ منصوبہ اس جماعت کے ناظم کراچی نعمت اللہ خان کا تھا۔

Green line project
BC03rhdCcAAzrUn.jpg
 

arifkarim

Chief Minister (5k+ posts)
Premium Member
منافق اور بے شرم تو وہ ہیں جو میٹرو لاہور، ملتان اور پنڈی کو جنگلا بس کہتے نہیں تھکتے تھے اور پھر پشاور میں وہی کام کیا اور اب کراچی میں جس گرین بس کا کریڈٹ سندھ اور وفاق لےرہے ہیں وہ منصوبہ اس جماعت کے ناظم کراچی نعمت اللہ خان کا تھا۔

Green line project
BC03rhdCcAAzrUn.jpg
اگر یہ منصوبہ جماعت اسلامی کا تھا تو اسی پر تنقید کیوں کھوتے جموعتیے
 
Sponsored Link