پاکستانی کسان پر ڈاکا

#1
کہانی

میرے دل میں جو ایک کسان بستا ہے کہ میں پاکستان کا سب سے غریب و مفلس ترین انسان ہوں۔ میرے خون و پسینے کی کمائی میرے لوگ ہیں جن کی میز پر رزق میری محنت کا
حاصل ہے۔ اپنی ذات میں امیر نہ صحیح خود کفیل ضرور ہوں۔


پاکستان سے قبل ہندو بنیا کی سود و قرض نے مجھے دبائے رکھا۔ آزادی پاکستان نے مجھے اس سے آزاد کیا، میری ذات کو آزاد کیا۔ لیکن دوستو آج آنے والے وقت کی ایک داستان آپ کو سناؤں، ہندو بنیا کا کیا رونا اب بنک مجھے کاٹنے کو آ رہا ہے۔ نام اپنا سا چمڑی ہماری مگر پتالا وہ غیروں کا۔

پاکستان کی طاقت پاکستان کا کسان ہے، نفیر اسلام نیٹو جو اسلام کو گالی سمجھتے ہیں آج سے قریب ۱۵ سال قبل ہماری صفوں میں گھس گے۔ نیٹو کے ایجنٹوں نے پاکستان کی افسر شاہی کی نااہلی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے پاکستان میں “تعمیر بنک” اور “موبیلنک بنک” پر اپنی اجراہ داری قائم کر ڈالی۔

اب ان کی نظر ہمارے کسانوں پر ہے جو بامشکل پاکستان کی آزادی کے بعد سکھ کا سانس لینے کے قابل ہوئے تھے کہ اب ان پر قرضوں کا ایک ٹیکنکل بوجھ ڈالنے والا ہے۔ حالیہ خبر کے مطابق سیگوے بریکے نے عمران خان سے ملاقات کی جس میں ہمارے سادہ لوح وزیراعظم کو بتایا کے ہم عنقریب کسانوں کو قرض کی سہولت مہیا کریں گے جس کا انہیں فائدہ ہو گا۔

اگر ایسا ہو جاتا ہے تو ہمارا کسان اپنی زمین گروی رکھوا کر کچھ وقت کے لیا پیسا وسول کر لے گا۔ کسان کی لین دین کا تعلق فصل کی کاشت سے ہے۔ اگر فصل نہ ہو تو سود یا پھر زمین کو جاؤ بھول۔

اسلام کی خوشی کسی کافر کو کیوں پسند آئے گی۔ جبکہ وہ ہمارا خون پانی کی طرح بہاتے ہیں


ثبوت

مقبوضہ کشمیر میں ساول کوٹ کے مقام ڈیم بنانے کا منصوبہ اپنے عروج پر ہے۔ جس کی معونت ناوریجین کمپنی (این.سی.سی) نے کی ہے۔ یاد رہے ٹیلی نار کا مطلب ٹیلیکام ناروے ہے۔ دریا چناب جس سے پاکستان اپنی فسلیں اُوگاتا ہے اب یہ پانی کسی بھی وقت روکا جا سکتا ہے۔ نتیجہ کسان کی فصل برباد اور اُس کی زمین اغیار کی جیب میں۔

حالیہ دنیوں میں بوندوک جو ناروے کے وزیراعظم رہے چکے ہیں انہوں نے کشمیر کا دورہ کیا اور حریت رہنماوں کو حکم دیا کے تشدد کی راہ چھوڑ کر چلاؤ۔ ناروے کی کسی شخص کو اس بات کا کیوں درد۔ حقیقت میں اغیار جانتے ہیں اگر کشمیری مقبوضہ کشمیر کو بھارت سے آزاد کرواتے ہیں تو اُن کے سارے کے سارے منصوبوں پر پانی پھر جائے گا۔

نتیجہ

اب شاید آپ کو پاکستان میں مولوی کا ایک ہی وقت پر مذہبی فساد اور اغیار کے منصوبوں کو عملی جامہ پہنا کا رشتہ جوڑنے میں مدد مل سکے۔

اپنی دعاوں میں یاد رکھئے گا۔
 
Advertisement
Featured Thumbs
https://i.ytimg.com/vi/NW2y58eY6qY/hqdefault.jpg

Ahmed Jawad

Councller (250+ posts)
#2
how stupid of you to think that one norweigen company is doing wrong than all of norway is blame, this is height of idiocy. It is same as saying IK and nawaz sharif both are pakistan, along with bajwa, raheel sharif, manzoor pashteen, khadim rizvi and akhtar maingal and they all are same
 

Eyeaan

Minister (2k+ posts)
#4
آپ کی بات کا سر پیر سمجھ نہیں آیا
ـ خیر ٹیلی نار نےکس قسم کی انوسٹمنٹ کی آفر کی ہے ـ آپ بتا دیں یا حکومت ہی بتا دے ـ کیا یہ ایگریکلچر سیکٹر میں ٹیکنالوجی کیلئے ہے یا مائیکرو فائننسنگ کے حوالے سے ہے یا دیہاتوں میں ٹیکنالوجی کے فروغ کے حوالے ـ تینوں صورتوں میں خطرے والا تو ہرگزکچھ نہیں مگر عملی فائدہ کس قدر ہے وہ ضرور دیکھنا چاہیے--- کہ کارپوریٹ سیکٹر کی مدد کو غور اور کچھ شک سے دیکھنا ہی درست ہے ـ بہر حال بیجا بتنگر بنانا کیسے درست ہوا ـ

آپ کا ثبوت والا حصہ بے بنیاد ہے ـ ویسے بھی جو شخص" آرٹ آف لونگ " قسم کے کلبز کی دعوت پر سفر کرتا پھرے ، اسکا کیا تذکرہ - آپ کیوں دل جلا رہے ہیں ، ہاں اندونِ ملک کون سے طبقات کسان کو معاشی اور معاشرتی نقصان پہنچا رہے انکے بارے بات کریںـ
یہ ضرور کہ بھارت ہو یا پاکستان "آرٹ آف لونگ" قسم کی امن زدہ حماقتوں اور فیشن سے بچت رہے تو بھلا ـ چند برس قبل خبر تھی کہ یہ منجن اسلام آباد میں بھی بک رہا تھا ـ
 
Sponsored Link
Sponsored Link_

Featured Discussions