عدالت کی جانب سے محسن بیگ کے گھر پرچھاپے کوغیرقانونی قرار دینے پرFIAکاردعمل

7fiaresponstocourt.jpg

اسلام آباد کی مقامی عدالت نے صحافی محسن بیگ کی گھر پر چھاپے کو غیر قانونی قرار دے دیا۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد کی مقامی عدالت کے جج ظفر اقبال نے سینئیر صحافی محسن بیگ کی جانب سے گھر پر غیرقانونی چھاپے کے خلاف درخواست سنی۔

سیشن کورٹ نے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی جانب سے سینئیر صحافی کے گھر پرچھاپےکو غیرقانونی قرار دیتے ہوئے آئی جی اسلام آباد کو ایس ایچ او کے خلاف کارروائی کی ہدایت دیدی۔

فیصلےمیں کہا گیا ہے کہ صحافی کی جانب سے دائر درخواست کی سماعت کے دوران ایس ایچ او تھانہ مارگلہ ایف آئی اے لاہور کے کسی بھی آفیسر کو پیش کرنے میں ناکام رہی جبکہ عدالت کو متعلقہ ریکارڈ بھی فراہم کر سکی۔


حقائق کی روشنی میں یہ انکشاف ہوا کہ لاہور ایف آئی اے کی جانب سے اسلام آباد کے لیے کوئی چھاپا مار ٹیم روانہ نہیں کی گئی جبکہ عدالت نے پولیس کی جانب سے معاملے کو دوسرا رنگ دے کر پیش کرنے پر آئی جی اسلام آباد کو ایس ایچ او کے خلاف کاروائی کی ہدایت کی۔ فیصلے میں مزید لکھا گیا کہ ایس ایچ او نے غیر قانونی چھاپہ مارنے والی ٹیم کے خلاف کاروائی کی بجائے خود جعلی مقدمہ درج کردیا۔

اس موقع پر محسن بیگ کے وکیل کا کہنا تھا کہ میرے موکل کو اتنا مارا کے پیش ہونے کے قابل نہیں، جس پر جج نے ان سے استفسار کیا کہ ایف آئی آر ایف آئی اے کی تھی آپ کا کیا کام تھا۔ جواباً وکیل نے کہا کہ یہ مقدمہ ابھی 12 بج کر 40 منٹ پر درج ہوا ہے۔ مقدمہ ایف آئی اے اور تھانہ مارگلہ پولیس نے کیا ہے۔


اس موقع پر جج نے پولیس اہل کار کو مخاطب کرتے ہوئے پوچھا کہ روزنامچہ اور مقدمہ کا رجسٹرڈ کہاں ہے۔ ایس ایچ او نے عدالت کو بتایا کہ وہ اب مینوئل نہیں ہے، جس پر جج نے متعلقہ مواد عدالت میں پیش کرنے کی ہدایت کردی، سماعت کے دوران جج نے ملزم کو پیش کرنے کا کہا، جس پر ایف آئی اے ٹیم بھی عدالت پہنچ گئی تاہم ملزم کو عدالت میں پیش نہیں کر سکی۔


عدالت نے پولیس کو ہدایت جاری کی کہ پولیس محسن بیگ کا بیان ریکارڈ کر کے قانون کے مطابق کارروائی کرے۔

دوسری جانب عدالت کی جانب سے محسن بیگ کے گھر پر چھاپے کو غیرقانونی قرار دینے پر ایف آئی اے نے وضاحت جاری کر دی ہے۔


ذرائع کا کہنا ہے کہ ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ لاہور اور اسلام آباد پولیس نے تلاشی کی غرض اور محسن بیگ کے بیٹے کی گرفتاری کیلئے دوبارہ صحافی محسن بیگ کے گھر پر مشترکہ چھاپہ مارا۔

اس سے قبل وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ نے صحافی محسن بیگ کو بروز بدھ 16 فروری اسلام آباد سے گرفتار کیا تھا۔ گرفتار صحافی کے خلاف دہشت گردی سمیت دیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

صحافی محسن بیگ کو ان کی رہائش گاہ سے پولیس کے ہمراہ گرفتار کرکے تھانہ مرگلہ منتقل کیا گیا۔ ایف آئی اے حکام کے مطابق صحافی کی جانب سے گرفتاری کے دوران ٹیم پر براہ راست فائرنگ بھی کی گئی۔
 
Advertisement

A.jokhio

Minister (2k+ posts)
7fiaresponstocourt.jpg

اسلام آباد کی مقامی عدالت نے صحافی محسن بیگ کی گھر پر چھاپے کو غیر قانونی قرار دے دیا۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد کی مقامی عدالت کے جج ظفر اقبال نے سینئیر صحافی محسن بیگ کی جانب سے گھر پر غیرقانونی چھاپے کے خلاف درخواست سنی۔

سیشن کورٹ نے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی جانب سے سینئیر صحافی کے گھر پرچھاپےکو غیرقانونی قرار دیتے ہوئے آئی جی اسلام آباد کو ایس ایچ او کے خلاف کارروائی کی ہدایت دیدی۔

فیصلےمیں کہا گیا ہے کہ صحافی کی جانب سے دائر درخواست کی سماعت کے دوران ایس ایچ او تھانہ مارگلہ ایف آئی اے لاہور کے کسی بھی آفیسر کو پیش کرنے میں ناکام رہی جبکہ عدالت کو متعلقہ ریکارڈ بھی فراہم کر سکی۔


حقائق کی روشنی میں یہ انکشاف ہوا کہ لاہور ایف آئی اے کی جانب سے اسلام آباد کے لیے کوئی چھاپا مار ٹیم روانہ نہیں کی گئی جبکہ عدالت نے پولیس کی جانب سے معاملے کو دوسرا رنگ دے کر پیش کرنے پر آئی جی اسلام آباد کو ایس ایچ او کے خلاف کاروائی کی ہدایت کی۔ فیصلے میں مزید لکھا گیا کہ ایس ایچ او نے غیر قانونی چھاپہ مارنے والی ٹیم کے خلاف کاروائی کی بجائے خود جعلی مقدمہ درج کردیا۔

اس موقع پر محسن بیگ کے وکیل کا کہنا تھا کہ میرے موکل کو اتنا مارا کے پیش ہونے کے قابل نہیں، جس پر جج نے ان سے استفسار کیا کہ ایف آئی آر ایف آئی اے کی تھی آپ کا کیا کام تھا۔ جواباً وکیل نے کہا کہ یہ مقدمہ ابھی 12 بج کر 40 منٹ پر درج ہوا ہے۔ مقدمہ ایف آئی اے اور تھانہ مارگلہ پولیس نے کیا ہے۔


اس موقع پر جج نے پولیس اہل کار کو مخاطب کرتے ہوئے پوچھا کہ روزنامچہ اور مقدمہ کا رجسٹرڈ کہاں ہے۔ ایس ایچ او نے عدالت کو بتایا کہ وہ اب مینوئل نہیں ہے، جس پر جج نے متعلقہ مواد عدالت میں پیش کرنے کی ہدایت کردی، سماعت کے دوران جج نے ملزم کو پیش کرنے کا کہا، جس پر ایف آئی اے ٹیم بھی عدالت پہنچ گئی تاہم ملزم کو عدالت میں پیش نہیں کر سکی۔


عدالت نے پولیس کو ہدایت جاری کی کہ پولیس محسن بیگ کا بیان ریکارڈ کر کے قانون کے مطابق کارروائی کرے۔

دوسری جانب عدالت کی جانب سے محسن بیگ کے گھر پر چھاپے کو غیرقانونی قرار دینے پر ایف آئی اے نے وضاحت جاری کر دی ہے۔


ذرائع کا کہنا ہے کہ ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ لاہور اور اسلام آباد پولیس نے تلاشی کی غرض اور محسن بیگ کے بیٹے کی گرفتاری کیلئے دوبارہ صحافی محسن بیگ کے گھر پر مشترکہ چھاپہ مارا۔

اس سے قبل وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ نے صحافی محسن بیگ کو بروز بدھ 16 فروری اسلام آباد سے گرفتار کیا تھا۔ گرفتار صحافی کے خلاف دہشت گردی سمیت دیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

صحافی محسن بیگ کو ان کی رہائش گاہ سے پولیس کے ہمراہ گرفتار کرکے تھانہ مرگلہ منتقل کیا گیا۔ ایف آئی اے حکام کے مطابق صحافی کی جانب سے گرفتاری کے دوران ٹیم پر براہ راست فائرنگ بھی کی گئی۔
why word Sahafi is written for him?
 
Sponsored Link