شہباز گل کے ڈرائیور کی اہلیہ پر درج مضحکہ خیز ایف آئی آر کا متن

shshb1111h1h.jpg


گھر والوں نے پولیس سے موبائل فون اور پندرہ ہزار روپے چھین لئے، شہباز گل کے ڈرائیور کی اہلیہ پر درج ایف آئی آر کا مضحکہ خیز متن

اداروں کے خلاف اشتعال انگیز بیان دینے پر اسلام آباد پولیس کی طرف سے گرفتار کیے گئے رہنما پاکستان تحریک انصاف شہباز گل کے ڈرائیور کی اہلیہ پر درج ایف آئی آر کا متن سامنے آ گیا۔
تفصیلات کے مطابق اداروں کے خلاف اشتعال انگیز بیانات دینے اور ان کے سربراہوں کے خلاف بغاوت پر اکسانے ودیگر 10 سنگین مقدمات میں گرفتار شہباز گل کے ڈرائیور کی اہلیہ کو دو روز قبل ان کے گھر سے چھاپے کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔ ان پر درج ایف آئی آر کا متن منظر عام پر آگیا ہے۔

سینئر صحافی وتجزیہ کار مبشر زیدی نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر شہباز گل کے ڈرائیور کی اہلیہ کے خلاف درج کی گئی ایف آئی آر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ: دو نمبر FIR ، تین تھانوں کی پولیس شہباز گل کے ڈرائیور کے گھر چھاپہ مارنے گئی، گھر والوں نے پولیس سے موبائل فون اور پندرہ ہزار روپے چھین لئے۔

ایف آئی آر مطابق تھانہ کوہسار اسلام آباد میں گرفتار شہباز گل کے بیان پر کہ ان کا فون ان کے ڈرائیور کے پاس ہے تو ملزم کے انکشاف پر ڈرائیور اظہار اللہ کے گھر چھاپہ مارا گیا۔ اظہار اللہ کی اہلیہ نے پولیس پارٹی کو دیکھتے ہی شور شرابہ شروع کر دیا اور گھر سے 4 پانچ مردوں کو بلوا لیا جنہوں نے مل کر پولیس پارٹی پر حملہ کیا اور مزاحمت کی۔

پولیس پارٹی کو دھمکیاں دی گئیں جس پر کافی سارے لوگ جمع ہو گئے اور مرد حضرات نے کانسٹیبل سجاد شاہد کی سرکاری شرٹ کے بٹن توڑ دیئے، شرٹ پھاڑ دی، موبائل فون کے علاوہ پرس بھی چھین لیا اور اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ملزمان فرار ہو گئے ۔


دو ملزمان نعمان اور مہرین بی بی کو حراست میں لے لیا۔ ملزمان نے ارتکاب جرم کیا ہے جن کے خلاف مقدمہ درج کر کے تفتیشی افسر کو مامور تفتیش کیا جائے۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز نائب صدر مسلم لیگ ن نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر لکھا تھا کہ میری اطلاعات کے مطابق بچی ساتھ نہیں ہے مگر بچی کی ماں کو بھی رہا کر دینا چاہیے۔ میں نے رانا صاحب سے بات کی ہے۔ کسی کے ساتھ زیادتی نہیں ہونی چاہیے۔ ہمارے ساتھ زیادتی کرنے والوں کے ساتھ بھی نہیں۔
 

ranaji

President (40k+ posts)
اگر اتنی نا اہل پولیس ہے کہ جس ملزم کو یہ پولیس والے پکڑنے جائیں وہ الٹا کو پکڑ لیتا ہے ان کو مار مار کر دنبہ بن بنا کر ان سے پیسے بھی چھین لیتو ہے اور موبائل فون بھی تو
بہترہے ان سارے پولیس والوں کو ریٹائر کرکے ہیجڑوں کو بھرتی کرلو وہ ان پولیس والوں سے زیادہ بہادر ہیں
ویسے اصل بات یہ ہے کہ پیسے اور موبائل ڈرائیور کی بیوی نے نہیُں
اسکی چھوٹی بچی نے چھینا تھا اس پر ایف آئی آر ہونی چاہئے تھی
 

pkpatriot

Minister (2k+ posts)
shshb1111h1h.jpg


گھر والوں نے پولیس سے موبائل فون اور پندرہ ہزار روپے چھین لئے، شہباز گل کے ڈرائیور کی اہلیہ پر درج ایف آئی آر کا مضحکہ خیز متن

اداروں کے خلاف اشتعال انگیز بیان دینے پر اسلام آباد پولیس کی طرف سے گرفتار کیے گئے رہنما پاکستان تحریک انصاف شہباز گل کے ڈرائیور کی اہلیہ پر درج ایف آئی آر کا متن سامنے آ گیا۔
تفصیلات کے مطابق اداروں کے خلاف اشتعال انگیز بیانات دینے اور ان کے سربراہوں کے خلاف بغاوت پر اکسانے ودیگر 10 سنگین مقدمات میں گرفتار شہباز گل کے ڈرائیور کی اہلیہ کو دو روز قبل ان کے گھر سے چھاپے کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔ ان پر درج ایف آئی آر کا متن منظر عام پر آگیا ہے۔

سینئر صحافی وتجزیہ کار مبشر زیدی نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر شہباز گل کے ڈرائیور کی اہلیہ کے خلاف درج کی گئی ایف آئی آر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ: دو نمبر FIR ، تین تھانوں کی پولیس شہباز گل کے ڈرائیور کے گھر چھاپہ مارنے گئی، گھر والوں نے پولیس سے موبائل فون اور پندرہ ہزار روپے چھین لئے۔

ایف آئی آر مطابق تھانہ کوہسار اسلام آباد میں گرفتار شہباز گل کے بیان پر کہ ان کا فون ان کے ڈرائیور کے پاس ہے تو ملزم کے انکشاف پر ڈرائیور اظہار اللہ کے گھر چھاپہ مارا گیا۔ اظہار اللہ کی اہلیہ نے پولیس پارٹی کو دیکھتے ہی شور شرابہ شروع کر دیا اور گھر سے 4 پانچ مردوں کو بلوا لیا جنہوں نے مل کر پولیس پارٹی پر حملہ کیا اور مزاحمت کی۔

پولیس پارٹی کو دھمکیاں دی گئیں جس پر کافی سارے لوگ جمع ہو گئے اور مرد حضرات نے کانسٹیبل سجاد شاہد کی سرکاری شرٹ کے بٹن توڑ دیئے، شرٹ پھاڑ دی، موبائل فون کے علاوہ پرس بھی چھین لیا اور اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ملزمان فرار ہو گئے ۔


دو ملزمان نعمان اور مہرین بی بی کو حراست میں لے لیا۔ ملزمان نے ارتکاب جرم کیا ہے جن کے خلاف مقدمہ درج کر کے تفتیشی افسر کو مامور تفتیش کیا جائے۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز نائب صدر مسلم لیگ ن نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر لکھا تھا کہ میری اطلاعات کے مطابق بچی ساتھ نہیں ہے مگر بچی کی ماں کو بھی رہا کر دینا چاہیے۔ میں نے رانا صاحب سے بات کی ہے۔ کسی کے ساتھ زیادتی نہیں ہونی چاہیے۔ ہمارے ساتھ زیادتی کرنے والوں کے ساتھ بھی نہیں۔
"Mein ney Rana sb. sey baat ki hey? Khatoon ki rihaai k liye"
What the hell she has to do with so called QANOON and Government.
 

stranger

Chief Minister (5k+ posts)
driver ke bhaion ne sab police walon ki bund bhi mari hai... taqreeban 30 police walon ki.. oos ka to ziker hi nahi FIR main??? police walo ka medical kerwa lia jaay to ye baat sabit bhi ho jaay gi
 
Sponsored Link